ریونیو شارٹ فال‘ آئی ایم ایف سے نئی قسط کیلئے استثنیٰ لینا پڑیگا

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد (عترت جعفری) ایف بی آر کی طرف سے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریونیو کے 40 بلین روپے شارٹ فال کے اعتراف کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ کی نئی قسط جاری کرانے کے لیے ایگزامشن لینا پڑے گی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوبئی میں رواں مالی سال کی جولائی تا ستمبرکی سہ ماہی میں معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں ریونیوکا شارٹ فال مشکلات کا باعث بنے گا۔ ایف بی آئی چیئرمین نے گزشتہ روز اعتراف کیا تھا کہ جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں ریونیو کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کو دوبئی میں 500 ملین ڈالرکی قرضہ قسط کے اجراء کے لئے جاری جائزہ میں ریونیو ہدف پورا نہ کرنے پر استثنیٰ لینا پڑے گا یا عالمی مالیاتی ادارے کو اضافی ریونیو اقدامات کے نفاذکی یقین دہانی کرانا پڑے گی۔ ایف بی آرکا ذرائع نے بتایا ہے اکتوبر میں بھی ریونیو کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔