آئی جی نے حکومتی اختیارات استعمال کرکے سندھ پولیس کو تباہ کر دیا : سپریم کورٹ

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے سندھ پولیس میں ترقیوںسے متعلق کیس میں آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو تین نومبر کو طلب کر لیا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دئیے ہیں کہ آئی جی نے حکومت سندھ کے اختیارات کا استعمال کر کے سندھ پولیس کو تباہ کردیا ہے۔ عدالت نے اب تک دی گئی ترقیوں اور سنیارٹی میں رد و بدل کرنے کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہاکہ ترقیوں کا اختیار صوبائی حکومت کا ہے مگر آئی جی نے اس اختیار کا غیر قانونی استعمال کر کے سندھ پولیس کا سارا سٹرکچر تباہ کردیا ہے، جب پولیس فورس ایک ہے تو سنیارٹی کا نظام بھی ایک ہونا چاہیے، جس طرح ترقیاں دی جارہی ہیں یہی تباہی کا سبب ہے اگر سنیارٹی کا طریقہ کار درست کر لیا جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ سندھ پولیس میں ایک سپاہی بھرتی ہوتا ہے تو وہ اسی گریڈ میں ریٹائرڈ ہو جاتا ہے جبکہ اسی گریڈ میں بھرتی ہونے والا اس کا ساتھی گریڈ 22میں پہنچ جاتا ہے۔ ترقیوں میں یہی امتیازی سلوک پولیس سٹرکچر کو تباہ کررہا ہے۔ سپاہی امتحان کے لیے چھٹی مانگتا ہے تو اسے نہیں دی جاتی مجبوراً اسے چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ڈی آئی جی سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات کے اور مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ آئی جی سندھ نے محکمہ پولیس میں خلاف ضابطہ ترقیوں کو ختم کردیا ہے جس پر جسٹس امیر ہانی نے کہا یہ مسئلے کمیٹیوں سے حل نہیں ہو ں گے۔ میرٹ کو نظر انداز کرنے اور امتیازی سلوک کی وجہ سے پولیس کی کارکردگی ناقص ہے۔