کرپشن الزامات، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر گرفتار

30 اکتوبر 2015

ملتان (نمائندہ نوائے وقت، نمائندہ خصوصی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس منصوبہ میں اختیارات کے غلط استعمال، بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی اور کرپشن کے الزامات میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو گرفتار کر لیا جبکہ یونیورسٹی رجسٹرار ملک منیر حسین گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے ۔ تفصیل کے مطابق نیب نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی منظوری کے بغیر ایک پرائیویٹ گروپ ویسٹ کانٹی نینٹل گروپ کو لاہور میں یونیورسٹی کیمپس ٹھیکہ پر دینے انڈر سیکشن نیشنل اکائونٹیبلٹی آرڈیننس 1999ء کے تحت زکریا یونیورسٹی کے رجسٹرار ملک منیر حسین اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو نوٹس جاری کیا جس میں ان پر زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس منصوبہ میں اختیارات کے غلط استعمال ، عوام سے دھوکہ دہی اور فیسوں کی مد میں طلباء سے کروڑوں روپے خورد برد کرنے کے الزامات عائد کئے گئے جس پرائیویٹ گروپ ویسٹ کانٹی نینٹل کو یہ کیمپس ٹھیکہ پر دیا گیا اس کے ساتھ ایم او یو میں بھی غیر قانونی اور قواعد کے برعکس متعدد اقدامات سامنے آئے ہیں ۔ ڈاکٹر خواجہ علقمہ کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئی اور یونیورسٹی سمیت شہر میں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ مزید براں زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کو ٹھیکہ پر حاصل کرنے والے لاہور کے صنعتکار منیر احمد بھٹی کے بیٹے حمزہ منیر بھٹی کو بھی نیب نے لاہور میں چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا ہے جبکہ کیمپس چیئر مین منیر احمد بھٹی کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا گیا جس میں لکھا گیا کہ طالب علموں کو ایچ ای سی سے تسلیم شدہ ڈگری دی جاتی ہے۔ میسرز ویسٹ کانٹینینٹل گروپ جو لاہور میں بی زیڈ یو کا سب کیمپس چلا رہا تھا، اس نے دھوکہ دہی سے طالب علموں سے فیس اور داخلوں کی مد مین 925 ملین روپے وصول کئے۔ دریں اثناء احتساب عدالت ملتان نے سابق وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی خواجہ علقمہ کو غیر قانونی کیمپس بنانے کے مقدمہ میں 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے گرفتاریوں کی اطلاع ملنے کے بعد یونیورسٹی رجسٹرار ملک منیر حسین نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب طبیعت ناسازی کا بہانہ بناکر یونیورسٹی ایمبولینس کو اپنے گھر بلوایا اور ایمبولینس میں بیٹھ کر یونیورسٹی حدود سے باہر نکل گئے ۔