اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس: مارچ میں چھٹی مردم شماری کی تیاریوں کا جائزہ

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد + (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت چھٹی مردم شماری قومی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ، قائم مقام سیکرٹری دفاع، سیکرٹری آئی ٹی ڈویژن، قائم مقام سیکرٹری خزانہ، ایڈیشنل سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور صوبائی حکومتوں، نادرا، مین پاور انسٹی ٹیوٹ، این آئی پی ایس، ای سی پی، وفاقی انتظامیہ، سروے آف پاکستان سمیت دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مارچ 2016ء میں ہونے والی چھٹی مردم و خانہ شماری کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے وزیر خزانہ نے مردم شماری کی اہمیت پر خصوصی زور دیتے کہا مردم شماری و خانہ شماری کے عمل کو درست، شفاف اور صحیح بنانے کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے ادارہ برائے شماریات کی جانب سے مردم شماری کے انعقاد کے حوالے سے کی جانے والی تیاریوں پر ایک جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر اس عمل کیلئے طے کئے گئے طریقہ کار، ڈھانچے، فیلڈ سٹاف کی تعیناتی اور دیگر شراکت داروں کے کردار سمیت اہم امور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ مردم اور خانہ شماری مارچ 2016ء میں ہو گی اور یہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلہ کی روشنی میں مسلح افواج کی زیر نگرانی ہو گی۔ انہوں نے تیاری کے اقدامات کی تفصیل بتاتے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج سے اس حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ مردم شماری کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے انہوں نے کہا کہ یہ عمل ایک ہی مرحلے میں مکمل کیا جائے گا خانہ شماری اور مردم شماری کا عمل علیحدہ علیحدہ سرانجام دیا جائے گا۔ ملک کو ایک لاکھ 62 ہزار 921 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اس عمل کو سرانجام دینے کیلئے دو لاکھ 5 ہزار 372 افراد پر مشتمل فیلڈ سٹاف کی ضرورت ہو گی۔ تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ، سروے آف پاکستان اور آئی ٹی ڈویژن کے ماہرین سے اجلاس میں اس حوالے سے نقشوں کی تیاری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات کے درست استعمال کے حوالے سے مشورہ کیا جائے۔ انہوں نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ ڈونر اداروں اور پی بی ایس کے ساتھ اشتراک عمل کرے تاکہ جہاں ضروری ہو غیر ملکی معاونت فراہم کرنے کا انتظام کیا جا سکے۔