فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم کی رہائی کیلئے درخواست، معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کی طلبی

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے قتل کے فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم حوالدار افتخار حسین کی جانب سے مقتول کے ورثاء سے راضی نامہ کے بعد رہائی کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں اور ان سے آئینی اور قانونی نکات پر معاونت طلب کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل بتائیں کہ فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم کا اگر مقتول کے ورثاء سے راضی نامہ ہوجائے توکیا عدالت اس کا فیصلہ کرنے کیلئے معاملہ آرمی چیف کو بھیجے گی یا اس کا فیصلہ خود کرے گی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کو درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ افتخار حسین کا مقتول کے ورثاء سے راضی نامہ ہوچکا ہے اس لئے سزائے موت ختم کرکے اس کی رہائی کے احکامات جاری کئے جائیں اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ عدالت خود فیصلہ کرنے کی بجائے اس راضی نامے کے معاملے کو چیف آف آرمی سٹاف کو بھجوادے اور وہی اس کا فیصلہ کرے اس پر مجرم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ آئین میں کوئی پرویژن موجود نہیں ہے جس کے تحت عدالت یہ معاملہ آرمی چیف کو بھجوائے یہ قتل کا کیس ہے اس میں راضی نامہ ہوچکا ہے لہٰذا یہی عدالت اس کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے اس لئے اس مقدمے کو آرمی چیف کی طرف بھجوانا خلاف قانون ہوگا۔ 

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...