4 وفاقی وکلا نے اسامہ کیخلاف آپریشن کیلئے قانونی راہ ہموار کی: نیویارک ٹائمز

30 اکتوبر 2015

نیویارک (آن لائن) نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اوباما انتظامیہ میں شامل چار وفاقی وکلا نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے قانونی راہ ہموار کی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مئی 2011 میں جب انتظامیہ نے اس کمپائونڈ پر آپریشن کی اجازت دی جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھے، تو اس وقت اوباما انتظامیہ میں شامل چار وفاقی وکلا نے اس چھاپے کے لیے قانونی بنیاد اور وجوہات تیار کرلی تھیں، تاہم سب ایک بات پر متفق تھے کہ چھاپے کے دوران اسامہ کو گرفتار کرنے کے بجائے جان سے مار دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے کو انتہائی خفیہ رکھنے کے لیے ان چاروں وکلا کو اٹارنی جنرل سمیت کسی سے مشورہ کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی، وہ جس لیپ ٹاپ پر کام کر رہے تھے وہ انتہائی محفوظ نیٹ ورک پر تھے، اور وہ تجاویز انہوں نے تحریر کی تھیں ان کا تبادلہ بااعتماد کوریئر کے ذریعے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان چاروں وکلا نے چھاپے سے چند روز قبل پانچ خفیہ میموز تحریر کرلیے تھے، جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپریشن میں کوئی گڑبڑ ہوگئی تو پیش کیے گئے قانونی جواز کے بارے میں وضاحت کی جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق ان وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے قانونی جواز اور تجزیے کے بعد ہی اوباما انتظامیہ نے نہ صرف پاکستان کی اجازت کے بغیر اس کی سرزمین پر اپنی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا بلکہ اس کے بارے میں کانگریس تک کو تاخیر سے آگاہ کیا اور جب آپریشن ہو چکا تو ایک اہلکار کے مطابق ان وکلا کا کہنا تھا کہ امریکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسی مہلک کارروائی کے لیے واضح اور قانونی اختیار موجود تھا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے کونسل جنرل اسٹیفن پرسٹن، نیشنل سکیورٹی کونسل کے لیگل ایڈوائزر میری دیروسا، پنٹاگون کے جنرل کونسل جیح جونسن اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف لیگل ایڈوائز (اْس وقت کے ریئر ایڈمرل) جیمز کرافورڈ نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی صورت میں قانونی وجوہات کے حوالے سے کام کیا تھا۔ اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کو آخری وقت میں یکم مئی 2011 کو اْس وقت بریفنگ دی گئی جب تمام قانونی سوالات کو حل کر لیا گیا تھا۔ ایک قانونی سوال یہ تھا کہ کیا ایک ممکنہ اسلامی مزار بننے سے بچنے کے لیے اسامہ کی لاش کو سمندر میں دفن کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے کرافورڈ کی جانب سے دی گئی تجویز میں کہا گیا کہ سمندر میں دفن کیا جانا‘ مذہبی طور پر قابل قبول ہے۔