قرآن پاک نے سود حرام قرار دیا‘ بتایا جائے حکومت نے کیا اقدامات کئے : شرعی عدالت

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت +صباح نیوز) وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں نافذ سودی نظام کے حوالے سے مقدمہ میں دس عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا عدالتی معاونین آئندہ دوران سماعت عدالت میں موجود رہیں اور فریقین کے وکلاءکے علاوہ دیگر ایسے علماءیا سکالرز جو عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں ،کو ہدایت کی وہ رجسٹرار کے پاس اپنی تعلیمی اسناد دکھا کر اپنا موقف تحریری طور پر جمع کرا دیں، تحریری مواد کا جائزہ لے کر عدالت فیصلہ کرے گی مقدمہ میں ان کے دلائل سنے جائیں یا نہ۔ عدالت نے سٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو ہدایت کی وہ آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرلیں اور اپنی مصروفیات تحریری صورت میں بھی عدالت میں جمع کرائیں۔ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس ریاض احمد خان کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر فدا حسین، جسٹس شیخ نجم الحسن اور جسٹس ظہور احمد شیوانی پر مشتمل چار رکنی فاضل بینچ کے روبرو سٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے تاہم اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث حکومتی پالیسی بتانے کے لیے پیش نہ ہو سکے۔ عدالت نے دوران سماعت سوال اٹھائے بتایا جائے حکومت نے ملک میں سود سے پاک نظام کے اطلاق کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ کیا سرمایہ کی بنیاد پر کوئی شخص دوسرے شخص سے منافع لے سکتا ہے، بتایا جائے سرمایہ کیا ہوتا ہے؟ کیا پیسے خرچ کرنے والا شخص سٹیٹ بینک کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے؟ کیا سود اور ربٰوا کے معنی ایک ہی ہیں؟ دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس ریاض احمد خان نے کہا قرآن پاک میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آج انسان اپنی عقل کی بلندی پر پہنچ کر اس نظام کودرست قرار دے رہا ہے۔ دنیا کے کچھ ممالک میں سود کے بغیر نظام چل رہا ہے بتایا جائے سود سے پاک نظام کے اطلاق کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا عدالت اس معاملہ میں تمام ضروری معاملات کے بارے میں جاننا چاہتی ہے سٹیٹ بینک کے وکیل عدالتی دائرہ اختیار کو بھی سامنے رکھیں۔ انہوں نے استفسار کیا کیا آئین میں رباہ اور انٹرسٹ کی تعریف موجود ہے تو سلمان اکرم راجہ نے کہا ان کی تعریف آئین میں موجود نہیں ۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا ملک میں موجودہ نظام کے بارے میں فیصلہ میں دی گئی سفارشات اپنی جگہ پر موجود ہیں تاہم یہ تاثر نہیں ہونا چاہیے حکومت دینی معاملہ سے خائف ہے کیونکہ بعض حلقوں میں یہ تاثر ہے ملک میں دینی اور لا دینی قوتوں میں اختلاف ہے حالانکہ ایسا نہیں ملک کے تمام افراد شرعی حکم کے معاملہ پر ایک ہی نقطہ پر متفق ہیں تاہم ہمارے ملک کے معاشی و معروضی حالات کو سامنے رکھ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا حکومت نے اس معاملہ میں سنجیدہ کام کیا ہے اور تمام معاملات عدالت اور قوم کے سامنے کھول کر رکھ دیئے جائیں گے۔ انہوں نے وفاقی شرعی عدالت کے 1992ءمیں سودی نظام کے خاتمہ کے حوالے سے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا اس میں کہا گیا ہے کوئی متبادل نظام یا نعم البدل نہ ہو تو کچھ عرصہ کے لیے اس قباحت کو قبول کر لیا جائے جس پر چیف جسٹس ریاض احمد خان نے استفسار کیا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں موجودہ نظام کا کوئی متبادل نہیں اور نظام اسی طریقہ سے چلتا رہے اور سٹیٹ بینک بھی اسی نظریہ کے تحت چلتی رہے ۔ ان کاکہنا تھا اسلامی نظام میں کچھ معاملات کا حل تو موجود ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا ملک میں افراط زر کو بڑھنے سے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ریاست نے پیسے کی سپلائی کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ ملک میں ایک نظام موجود ہے اور ملک ایک بڑے مربوط عالمی نظام کا حصہ ہے اور اس نظام کے خلاف احکامات جاری کرتے وقت حقیقت کا ادراک نہیں کیا گیا ہم پوری دنیاکے ساتھ روابط ختم نہیں کر سکتے کیونکہ ملکی معیشت کا تعلق پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت کو شخصی اور مالی ہجرت کے معاملات دیکھنا ہونگے۔ سرمایہ کار کو تحفظ نہیں ملے گا تو فیکٹریاں دوسرے ممالک منتقل ہو جائیں گی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا مروجہ اسلامی قوانین کے مطابق سرمایہ کار منافع اور نقصان میں شراکت دار ہے اور اسلامی قانون کے مطابق دونوں افراد کی محنت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا بینک سرمایہ بھی پیدا کرتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا وہ بینک کے سرمایہ پیدا کرنے کے نقطہ سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ بینک تو ایک شخص کے جمع کرائے گئے پیسے آگے دوسرے افراد کو زائد منافع پر دیتا ہے اور اس شخص کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے جس نے پیسہ رکھا ہو اور حکومت بھی سٹیٹ بینک سے پیسہ لیتی ہے سلمان اکرم راجہ نے کہا حکومت منافع بخش ادارہ نہیں اس نے ملازمین کو تنخواہیں دینے اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے پیسہ ٹیکس سے حاصل کرنا ہوتا ہے یا پھر بینکوں سے قرض لے کر کام چلایا جاتا ہے۔ عدالتی استفسار پر سلمان اکرم راجہ نے کہا سٹیٹ بینک کچھ آزاد اور کچھ حکومت کے کنٹرول میں ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ پالیسی حکومت کے کنٹرول میں نہیں تاہم مالی پالیسی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ سٹیٹ بینک حکومت کو قرض دینے سے انکار نہیں کر سکتی اور حکومت سٹیٹ بینک یا کسی بھی بیرونی ادارے سے قرض کی صورت میں سود دینا پڑتا ہے اور کوئی عدالت حکومت کو ہدایت نہیں دے سکتی کہ وہ فلاں پالیسی اپنائے۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کا مطلب ہے حکومت کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اس لیے سٹیٹ بینک کو کنٹرول کرتی ہے ۔نمائندہ نوائے وقت کے مطابق وفاقی شرعی عدالت نے کیس کی سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی ہے قبل ازیں عدالتی نوٹس کے باوجود اٹارنی جنرل موجود نہ تھے جس پر عدالت نے وقفہ کرتے ہوئے کہا انہیں بلایا جائے ،دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عدالت کوبتایا گیا وہ سپریم کورٹ میں مصروفیت کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔ سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا آئین میں رباء(سود) اور )Interest منافع (کی کوئی تشریح نہیں کی گئی پاکستان دنیا سے کٹ سکتا ہے ۔ ہم سوویت یونین کی طرح اپنی معیشت کو ایک کیبن میں بند کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب کا معاشی نظام بھی برطانیہ اور امریکہ ہی کی طرح کا ہے، اگرچہ ایران میں اسلامی نظام ہے لیکن ان کا معاشی نظام بھی مکمل طور پر اسلامی نہیں۔
سود کیس