چین: ایک بچہ کی پالیسی ختم، فی خاندان 2 بچوں کی اجازت دی جائے گی

30 اکتوبر 2015

بیجنگ (نیٹ نیوز) چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ’شن ہوا‘ کا کہنا ہے کہ چین نے فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری تھی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق کمیونسٹ پارٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہر جوڑے کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ چین میں فی خاندان ایک بچہ کا متنازع حکومتی فیصلہ 1979ءمیں کیا گیا تھا جس کا مقصد ملک کی شرح پیدائش میں کمی کر کے آبادی پر قابو پانا تھا تاہم اس پالیسی کے نتیجے میں ان خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا کہ ملکی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کا تناسب بڑھ جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق چین میں اس پالیسی کے نفاذ سے اب تک تقریباً 40 کروڑ بچوں کی پیدائش کو روکا گیا ہے۔ اس دوران وہ چینی جوڑے جنہوں نے حکومتی پالیسی سے روگردانی کی، انہیں مختلف سزاو¿ں کا سامنا کرنا پڑا جن میں مالی جرمانے اور ملازمت سے برخواستگی سے لےکر زبردستی اسقاطِ حمل کی سزائیں شامل ہیں۔ ماہرینِ آبادی اور معاشرتی علوم کے ماہرین کی جانب سے ان خدشات کے بعد کہ اس سے معاشرتی شعبے میں اخراجات میں اضافہ اور کام کرنے والے لوگوں کی کمی ہو رہی ہے، آہستہ آہستہ ملک کے کچھ صوبوں میں ایک بچے کی پالیسی میں نرمی کر دی گئی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے اس پالیسی میں باقاعدہ نرمی دو سال قبل دیکھنے میں آئی تھی جب ایسے جوڑوں کو دو بچوں کی اجازت دے دی گئی تھی جن میں سے ایک فرد ایسا تھا جس کا کوئی بھائی بہن نہیں تھا۔
پالیسی ختم

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...