بلدیاتی الیکشن اخراجات، پنجاب کو وفاقی محاصل سے ملنے والی رقم سے 50 کروڑ کٹوتی

30 اکتوبر 2015

لاہور (معین اظہر سے) وفاقی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے پہلے فیز کے انعقاد کے لئے پنجاب حکومت کو وفاقی محاصل سے دی جانی والی رقوم سے 50 کروڑ کی ایٹ سورس کٹوتی کر لی ہے بلدیاتی الیکشن پر ہونے والے اخراجات کا 50 فیصد صوبے سے وصول کر لیا گیا ہے۔ تاہم پنجاب حکومت نے پہلے انکار کر دیا تھا کہ الیکشن کمشن کو وفاقی حکومت اپنے پاس سے بلدیاتی الیکشن کی رقم ادا کرے ۔ تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پی کے سے رقم وصول کرنے کے بعد پنجاب سے رقم نہ لیتی تو بڑا ایشو بن سکتا تھا جس پر پنجاب کو گزشتہ ماہ کے وفاقی محاصل سے 28 ارب ٹرانسفر کر تے ہوئے اس میں سے 50 کروڑ بلدیاتی الیکشن پر اخراجات کا 50 فیصد خود ہی کاٹ لیا ہے۔ 2ارب 54 کروڑ روپے پنجاب کے حصہ کے قرض اور اس کے سود کی وصولی کے لئے کاٹے گئے ہیں جبکہ 26 کروڑ 60 لاکھ روپے پیپلز پارٹی کے دور میں ہونے والی خانہ شماری کی مد میں کاٹ لئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی فنانس ڈویژن کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے خانہ شماری کی بقایا جات کی ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا تھا پنجاب حکومت نے فوج کے بغیر ہونے والی خانہ شماری پر اعتراض اٹھائے تھے پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ اس خانہ شماری میں سندھ اور بلوچستان کی آبادی میں تو اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن پنجاب کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا تھا وفاقی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل میں اس کیس کو لے جاکر فیصلہ کروانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس بارے میں محکمہ خزانہ پنجاب کے سیکرٹری کو فون کیا گیا لیکن بات نہیں ہو سکی۔
کٹوتی