زلزلہ: عالمی برادری مدد کرے، خیبر پی کے حکومت: سردی سے بیماریاں پھیلنے لگیں، وزیراعظم کا دورہ داسو، زرعی قرضوں کی ادائیگی کے لئے4 کروڑ دینے کا اعلان

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد+ لاہور+ پشاور (بیورو رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں + سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے بعد 275 ہلاکتوں کی تصدیق ہو گئی، اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 82.7 فیصد ہلاکتیں خیبر پختونخوا میں ہوئیں جن کی تعداد 225 ہے صوبہ پنجاب میں زلزلہ سے 5 افراد جاں بحق اور 98 زخمی ہونے کے علاوہ 61 مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق زلزلہ متاثرین کیلئے 28 ہزار 289 خیمے، 491 ٹن خوراک، 42 ہزار 555 کمبل، 5 ہزار 300 پلاسٹک شیٹس، 14 ٹن بوتل بند پانی اور 5ٹن ادویات فراہم کی گئی ہیں۔ پہاڑی علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ وقت وہ ہے جب وہ آنے والے انتہائی سرد موسم کے لیے اشیا خوردونوش جمع کرتے ہیں۔ وہ تمام سامان گرتے مکانات کے ملبے تلے تباہ ہوگیا ہے۔ چشموں سے آنے والا پانی بھی زلزلے کے بعد سے مٹی سے بھرا ہوا ہے جس سے آگے چل کر بیماریوں کا خدشہ ہے۔‘ ضلع چترال کی دور افتادہ وادی لاسپور کے ایک مقامی صحافی اور سماجی کارکن نور الہدیٰ نے بتایا کہ وہ اپنے علاقے سے پیدل چل کر مستوج پہنچے ہیں مقامی آبادی چار روز اور تین راتیں سکولوں اور بچ جانے والی عمارتوں میں گزار رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی بھی حکومتی اہلکار یا فوجی ہیلی کاپٹر ان کے علاقے میں نہیں آیا۔ نور الہدیٰ نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں 200 مکانات کو جزوی جبکہ 80 مکانات مکمل طور پر ایک علاقے میں تباہ ہیں اور متاثرین کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔ کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘ سردی سے لوگوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں تین دن گزرنے کے باوجود بھی نہ تو کوئی حکومتی امداد پہنچی ہے اور نہ کسی سرکاری اہلکار نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق کئی علاقے تاحال امداد سے محروم ہیں جس کی وجہ سے متاثرین میں مایوسی پھیل رہی ہے اور لوگ سردی کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔ سب سے زیادہ بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے جو سخت سردی کے موسم میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ ادھر گذشتہ روز سوات اور پشاور کے مختلف علاقوں میں 3.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے جس پر لوگ گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے کے معاون خصوصی تعلیم مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ 26 اکتوبر کے ہولناک زلزلے کے باعث اب تک کی اطلاعات کے مطابق کل 225 اموات ہوئی ہیں، زلزلہ میں جاں بحق افراد اور زخمیوں کے لواحقین کو مالی امداد 31 اکتوبر تک فراہم کر دی جائیگی۔ دریں اثناء پی ڈی ایم کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب زلزلہ سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں پانچ پانچ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ادائیگیاں کر دی گئی ہیں پی ڈی ایم نے کہا ہے کہ ضلع بونیر کے زلزلہ متاثرین کیلئے 2 کروڑ روپے جاری کر دیئے ہیں۔ ڈی جی میٹ نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں درجہ حرارت بہت تیزی سے گرنے کا امکان ہے ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ اتوار سے جمعرات تک زلزلہ متاثرہ علاقوں میں شدید برف باری کا امکان ہے۔ دریں اثناء خیبرپی کے حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے بھی امداد کی اپیل کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ دیربالا اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں شدید سردی اور برفباری کے پیش نظر بے گھر خاندانوں کو محفوظ پناہ گاہوں، غذائی اشیاء اور طبی امداد کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی ناگزیر ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت کو عالمی برادری اور بین الاقوامی این جی اوز کی مدد بھی درکار ہے تاہم یہ امداد محض پیشکشوں، وعدوں اور یقین دہانیوں کی بجائے عملی صورت میں اور فوری بنیادوں پر ہوجانی چاہئے صوبائی سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے دیر بالا میں مسلسل تیسرے روز زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران یہ باضابطہ اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے زلزلہ کے فوری بعد ریسکیو اور ریلیف کا عمل شروع کیا اور مشترکہ امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ زلزلہ زمین کی زیادہ گہرائی میں ہونے کے سبب پہلے کی نسبت کم نقصانات کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا مگر اب یہ حقیقت بھی سامنے آگئی ہے کہ حالیہ زلزلہ دیر، شانگلہ اور چترال سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں 2005 کے زلزلے سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے جہاں سینکڑوں انسانی اموات اور ہزاروں زخمی ہونے کے علاوہ لاتعداد خاندان بے گھر ہو کر سخت سردی اور برفباری میں کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ چیئرمین این ڈیف ایم اے میجر جنرل اصغر نواز نے کہا ہے کہ زلزلے سے جانی نقصان کا ڈیٹا تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔ گھروں سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
داسو (ایجنسیاں) وزیراعظم نواز شریف نے داسو میں زرعی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 4 کروڑ روپے کی گرانٹ اور سیاحت کے فروغ کیلئے فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ داسو میں سیاحت کے فروغ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر فنڈ قائم کریں گی، داسو میں ڈیم کی تعمیر کیلئے زمین کی خریداری کا معاملہ جلد حل کر لیا جائے گا، قراقرم ہائی وے کو موٹروے کی طرز پرکشادہ کیا جائے گا، علاقے میں شروع کئے جانیوالے ترقیاتی منصوبوں میں بھرتیاں صرف مقامی لوگوں سے کی جائیں گی، علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے سکول قائم کئے جائیں گے، امدادی پیکج صرف خیبر پی کے کیلئے نہیں بلکہ اس میں فاٹا اور گلگت بلتستان بھی شامل ہوں گے۔ امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے آیا ہوں، آئندہ پیر سے متاثرین میں چیکوں کی تقسیم شروع کر دی جائے گی، امدادی چیکوں کی تقسیم کا عمل چار روز میں مکمل کرلیا جائے گا، زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں خیمے، کمبل اور کھانے پینے کی اشیاء فوری پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے زلزلہ سے متاثرہ علاقے داسو میں متاثرین کیلئے مشینری اور خیموں کا بندوبست نہ کئے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی سرزنش کی اور ہدایت کی ہے کہ دشوار گزار علاقوں میں پہنچنے کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے، متاثرین کو فوری طور پر کمبل اور ادویات پہنچائی جائیں، متعلقہ حکام اور مقامی انتظامیہ علاقے میں فوری اقدامات کریں، متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک کے تھیلے تقسیم کئے جائیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے اونچے پہاڑوں پر زلزلے کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کیلئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اشیا پہنچانے سمیت فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی پرویز خٹک نے کہاکہ علاقے میں بھاری مشینری کی عدم دستیابی کا کوئی عذر نہیں چل سکتا۔ وزیراطلاعات پرویز رشید اورمقامی انتظامیہ کے حکام بھی بریفنگ میں موجود تھے۔