پشاور آرمی سکول پر حملے کا اہم ملزم عثمان انٹرپول کے ذریعے اٹلی سے گرفتار، پاکستان منتقل

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ +وقائع نگار خصوصی) پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث کالعدم تنظیم کے ایک اہم اور مرکزی ملزم عثمان غنی کو انٹرپول نے اٹلی سے گرفتار کرکے پاکستان منتقل کردیا ہے۔ عثمان غنی کو نجی پرواز کے ذریعے اٹلی پولیس کے سکواڈ میں اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ائرپورٹ لایا گیا اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مبینہ ملزم عثمان غنی کا تعلق ڈسٹرکٹ مردان کی تحصیل صوابی سے ہے جس کے بارے میں شبہ ہے وہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں بھی ملوث ہے۔ ملزم کو مزید تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم عثمان غنی کی گرفتاری پاکستان کے لئے بہت بڑی کامیابی تصور کی جارہی ہے، اس گرفتاری سے مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے جبکہ ملزم کے ذریعے کالعدم تنظیم کے دیگر ملزموں تک بھی رسائی حاصل کی جائے گی۔ بی بی سی کے مطابق ملزم کی گرفتاری انٹرپول کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملزم عثمان غنی کو اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے اداروں کے سپرد کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد سے پوچھ گچھ کے دوران ملزم عثمان غنی کا نام سامنے آیا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ اس واقعہ کے چند روز کے بعد اٹلی فرار ہوگیا تھا۔ اہلکار کے مطابق عثمان غنی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ صوابی کا رہنے والا ہے اور اس واقعہ سے پہلے متعدد دہشت گردی کی وارداتوں کی منصوبہ بندی بھی کرچکا ہے۔ ایف آئی اے کے اہلکار کے بقول ملزم پر متعدد کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا بھی الزام ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں 12 ملزموں کوگرفتار کیا جاچکا ہے اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ان ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ اس مقدمے کے چھ ملزموں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ پاکستان کے تحقیقاتی اداروں نے آرمی پبلک سکول پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو قرار دیا ہے اور ان اداروں کے بقول اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی تھی۔ صباح نیوز کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے آرمی پبلک سکول کی تحقیقات سامنے آنے کے بعد عثمان غنی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا تاہم وہ پہلے ہی اٹلی فرار ہوگیا تھا۔ حکومت نے ملزم کی گرفتاری کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا اور انٹرپول کو دہشت گرد کے حوالے سے معلومات حساس اداروں نے فراہم کی تھیں۔