داغدار شہرت والے جج کو خودکشی کر لینی چاہئے: جسٹس منظور، انصاف نہ کرنے والے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں: جسٹس اعجاز الاحسن

30 اکتوبر 2015

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ سائلین اور وکلاء کے ججز سے شکوے ہیں کہ ان کے مقدمات کے فیصلے تاخیر سے اور میرٹ پر نہیں ہوتے ان کے شکوے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ضلعی عدلیہ کے ججز کی جانب سے دیئے گئے عشائیے سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ جس جج کی شہرت داغدار ہو اور اس کے بارے میں کرپشن کی باتیں کی جائیں اسے خود کشی کر لینی چاہئے۔ کسی وکیل کا مؤقف تو غلط ہو سکتا ہے لیکن بار کی اجتماعی سوچ غلط نہیں ہو سکتی۔ ججز کو اپنی شہرت مثبت بنانی ہوگی اور خدا کو ذہن میں رکھ کر قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔ نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تاریخ کا سبق موجود ہے کہ انصاف نہ کرنے والے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں انصاف کی فراہمی کیلئے ہمیں ملکر سخت محنت اور جدوجہد کرنی ہوگی ہم سب اللہ کے حضور جوابدہ ہیں انہوں نے کہا میرا ایمان ہے کہ ججز کیلئے جزا اور سزا کا معاملہ عام لوگوں کے مقابلے میں مختلف اور کڑا ہے۔ بار عدلیہ کا حصہ ہے بار اور بنچ ملکر اعتماد کا رشتہ مستحکم کر سکتے ہیں۔