مسلم لیگ ن پنجاب کی ایم کیو ایم بن چکی، رانا ثنا جیسے وزیر قانون ہوں تو انصاف کیسے ہو گا: عمران

30 اکتوبر 2015

لاہور (خصوصی رپورٹر) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ایم کیو ایم بن چکی ہے، پولیس آئین وقانون نہیں لیگی ارکان اسمبلی کی مرضی مطابق چل رہی ہے، پولیس نے تحریک انصاف کے کارکن خرم شہزاد اور عارف کے قاتل گرفتار نہ کیے تو آئی جی کے دفتر کا گھیرائو کریں گے۔ جسٹس (ر) ریاض کیانی جیسے لوگوں کی موجودگی میں شفاف بلدیاتی انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے بلدیاتی انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں پر فوج اور رینجرز کو تعینات کیا جائے، قوم کے پاس زندگی میں کبھی موقع آتا ہے وہ ظلم کے خلاف کھڑی ہوجائیں آج بھی قوم کو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہو نا چاہیے، مسلم لیگ (ن) کبھی بھی دھاندلی اور دو نمبری کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتی بلدیاتی انتخابات میں بھی ہمارے 2کارک قتل ہوئے، مسلم لیگ (ن) کی سیاست ہی دھونس ‘دھاندلی ‘غنڈہ گردی اور قتل و غارت بن چکی ہے ‘پنجاب کا بلدیاتی نظام نمائشی ہے۔ وہ لاہور آمد کے بعد چیئرمین سیکرٹریٹ میں پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمد سرور، لاہور کے صدر شفقت محمود، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید، عبد العلیم خان، شعیب صدیقی اور عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس اور چند روز پہلے فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے تحریک انصاف کے 2کارکنوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے بعد کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا میں سب سے پہلے تحریک انصاف کے دوکارکنوں ملک عارف اور خرم شہزاد کی مسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سیاست سیاست ہوتی ہے مگر مسلم لیگ (ن) نے پولیس کے ذریعے دہشت گردی‘ پولیس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا ‘غنڈوں کو پالنا اور اقتدار میں آنے کیلئے دھاندلی کر نا اپنی سیاست بنا لی ہے ۔ چوری اور ڈاکے صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہو رہے ہیں کیونکہ چوروں اور ڈاکوں کو یہ یقین ہو تا ہے کہ وہ آسانی سے رہا ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشر یف اور آصف علی زرداری ملک کے سب سے بڑے ڈاکوں ہیں اور مولانا فضل اور اسفندیار والی جیسے لوگوں نے ملکر اپنی ’’یونین ‘‘بنا لی ہے اور خیبر پی کے میں جب اے این پی کی ایک سینٹر سے نیب نے پوچھ کچھ کر نا شروع کی تو سب سے بڑے ڈاکوآصف زرداری نے لندن سے شور مچانا شروع کر دیا اور مولانا فضل الر حمن نے بھی اس کو جمہو ریت کیلئے خطر ہ قرار دیدیا انکو معلوم ہو نا چاہیے کہ جمہو ریت کا نام ہی احتساب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے لاہور میں ہمارے 2کارکنان کو قتل کیا انکو علم تھا کہ انکو پھانسی نہیں ہوگی اور جہاں رانا ثناء اللہ جیسے وزیر قانون ہوں وہاں انصاف کیسے ہوگا ۔ انہوں نے کہا رانا ثناء اللہ خان کے بارے میں تو انکے اپنے دوست نے دہشت گردی کی عدالت میں یہ بیان دیا ہے کہ میں نے رانا ثناء اللہ خان کے کہنے پر لوگوں کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا تحر یک انصاف نے جمہو ریت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں مگر مسلم لیگ (ن) اور پولیس والوں نے دھرنے میں بھی ہمارے 8/9کارکنوں کو قتل کیا اور انکو کسی قسم کی فکر نہیں تھی۔ انہوں نے کہا خیبر پی کے میں ہم نے احتساب کا شفاف نظام کیا ہے وہاں ایک وزیر کو بلدیاتی انتخابات کے دوران پولیس نے ہتھکڑی لگائی اور کر پشن پر ایک وزیر کو گرفتار کر رکھا ہے۔ ہم نے خیبر پی کے میں پو لیس کو مکمل طور پر آزاد اور خود مختار کر دیا ہے وہاں وزیراعلیٰ سمیت کوئی مداخلت نہیں کر تا مگر پنجاب میں پولیس کے ایس ایچ اوز بھی مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی مر ضی سے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا تحر یک انصاف کے کارکنوں کو نشانہ بنانے والے پو لیس والے سن لیں اللہ نے ہمیں اقتدار میں آنے کا موقعہ دیا تو ہم انکو کسی صورت نہیں چھوڑ یں گے ان سے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا۔ پولیس والوں کو علم ہونا چاہیے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) 6ویں بار حکومت میں ہے لیکن اگلی بار ی تحریک انصاف کی بھی آسکتی ہے جو ضرور آئے گی۔ سیکرٹری الیکشن کمشن کی مدت ملازمت میں توسیع پر کچھ نہیں کہوں گا لیکن جب تک جسٹس (ر) ریا ض کیانی جس کے بارے میں خورشید شاہ نے خود کہا ہم نے انکو مسلم لیگ (ن) کے کہنے پر لگایا ایسے لوگوںکی موجودگی میں شفاف بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹر محمد عامر جیسا بولر میں نے آج تک نہیں دیکھا مگر اس پر میچ فکسنگ کی وجہ سے 5سال کی پاپندی لگائی گئی مگر نواز شریف اور آصف زرداری جیسے ڈاکو جو اقتدار میں ہیں وہ پاکستان کا رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا جمہوریت کانام ہی احتساب اور شفافیت ہے لیکن مسلم لیگ (ن) شفافیت پر یقین نہیں رکھتی ، این اے 122میں بڑی تکنیک کیساتھ دھاندلی کی ، علیم خان اور چوہدری سرورایک ایک ووٹ پر کام کررہے ہیں اور مکمل تحقیقات کیساتھ رپورٹ سامنے لائیں گے، چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی سیاسی مخالف انتقامی کارروائیوں کا الزام نہیں لگائے گا، سروے اٹھا کر دیکھ لیں، خیبر پی کے میں پہلی بارہی حکومت ملی ہے اور کارکردگی میں نمبرون صوبہ ہے، سیاسی جماعتوں میں بھی پی ٹی آئی مسلم لیگ (ن) سے آگئے ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب کاوزیرقانون 17لوگوں کا قاتل ہے جبکہ پی ٹی آئی کے کارکن حق نوازکو فیصل آباد میں عوام کے سامنے گولیاں ماری گئیں لیکن انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے الیکشن کمشن سے مطالبہ کیاکہ فوج اور رینجرز تمام حساس پولنگ سٹیشنوں پر تعینات کی جائے ، انتشار کا خدشہ ہے۔ عمران خان نے کہا میں لاہور کے عوام سے کہتاہوں کہ وہ خوف کا بت توڑ دیں، پنجاب پولیس سٹیٹ بن چکا ہے اور جہاں آئی جی پنجاب کا بھائی بلدیاتی الیکشن میں بلامقابلہ کا میاب ہو جائیگا وہاں پولیس اور مسلم لیگ (ن) میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آئی این پی کے مطابق عمران خان نے نواز شریف، آصف علی زرداری کو کرپٹ ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا چور اور ڈاکو سیاستدانوں نے اپنی یونین بنا رکھی ہے جب بھی احتساب کی بات کی جائے تو جمہوریت کو خطرے کا بہانہ بناکر شور مچانا شروع کردیتے ہیں۔