فنڈز میں گھپلے نیب ٹیم کی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے دفترآمد ریکارڈ کی جانچ پڑتال

30 اکتوبر 2015

لاہور (نمائندہ سپورٹس) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ہیڈ کوارٹرز میں نیب ٹیم کی آمد، نیب افسران نے پی ایچ ایف کے سیکرٹری شہباز احمد سینئر سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب ٹیم تین افراد پر مشتمل تھی۔ شہباز احمد سینئر سے ملاقات میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کو ماضی میں ملنے والے فنڈز، اخراجات پی ایچ ایف کے ملازمین کی تعداد اور انکی تنخواہوں، اخراجات کی تفصیل اور ضروری کاغذات چیک کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر پی ایچ ایف کو ماضی میں ملنے والے فنڈز کے نامناسب استعمال کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔ سابق صدر اختر رسول نے نیب کے نمائندے کی شمولیت کے ساتھ پی ایچ ایف کے مالی معاملات کو چلانے اور انکی دیکھ بھال کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی کی تجویز پر مبنی خط نیب حکام کو لکھا تھا جس کا نیب حکام نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر اختر رسول اور سابق سیکریٹری رانا مجاہد علی خان نے نیب پنجاب کو پیش کرنے کے لیے ایک پریزینٹیشن بھی تیار کی تھی جو کہ پیش نہیں کی جاسکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ایک مرتبہ پھر نیب حکام نے ہاکی فیڈریشن کی موجودہ انتظامیہ سے ماضی میں حکومت کی طرف سے ملنے والے براہ راست فنڈز اقر سپانسر شپ کی مد میں ملنے والی رقم اور اس کے اخراجات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے اور احتساب کے عمل میں تعاون کرنے کے لیے کہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب حکام کے ساتھ ماضی میں تعاون کرنے کے بجائے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن موجودہ انتظامیہ کی طرف سے احتساب کے عمل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب کی طرف سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ انتظامیہ کے چند ہفتوں کے اخراجات کو بھی چیک کیا گیا ہے۔