پاکستان کو لشکر طیبہ کیخلاف کارروائی کیلئے کوئی ٹائم لائن نہیں دی: امریکہ

30 اکتوبر 2015

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ لشکر طیبہ ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان کے لئے کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کر رہا۔ ترجمان دفتر خارجہ جان کربی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو بڑی سنجیدگی سے لیا ہے۔ ہم پاکستان کو لشکرطیبہ یا کسی دوسرے دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی کے لئے کوئی ٹائم لائن ڈکٹیٹ نہیں کرا رہے۔ انہوں نے یہ بات بھارتی صحافی کے سوال کے جواب میں کہی جس نے پوچھا تھا کہ لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کے لئے صدر اوباما نے وزیراعظم نواز شریف کو کیا ٹائم لائن دی۔ انہوں نے کہا ہم جانتے ہیں پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ یہ سنگین خطرہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کس قدر نہ صرف علاقے بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین معاملہ ہے۔ اس سوال پر کہ سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان نے لشکرطیبہ ایسی دہشت گرد تنظیموں کی مدد اور حمایت کی انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بیان نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اب بھی موجود ہیں۔ انتہا پسندی سے متعلق خدشات سے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستانی اور افغان حکومتوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف موجود ان ٹھکانوں سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ امریکہ افغانستان میں فوجی مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور اس کے شہری دہشت گردی کا شکار ہیں پاکستان سمجھتا ہے کہ دہشت گردی خطے اور دنیا کے لئے کتنا بڑا خطرہ ہے۔ امریکہ نے پر تشدد انتہا پسندی سے متعلق تحفظات سے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ امریکہ پاکستان کے ماضی کو نہیں بلکہ مستقبل کو دیکھتا ہے ماضی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مضبوط اور گہرے تعلقات کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے خصوصاً دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان شدت پسندی ختم کرنے کے لیے مخلص ہے۔ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ اس کے شہریوں اور فوجیوں نے جانیں قربان کی ہیں۔ امریکہ افغانستان میں فوجی مشن جاری رکھے ہوئے ہے، داعش کے خلاف جنگ مشکل ہے، فتح میں دیرہوسکتی ہے، پاکستان سے دہشتگردی کے خلاف بھرپورتعاون کررہے ہیں۔ کسی پاکستانی کو دہشت گردی سے متعلق یاد دلانے کی ضرورت نہیں، پاکستان کو بھی پتہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں چیلنجز ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...