ٹی بی مہلک ترین بن گئی مریضوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ

30 اکتوبر 2015

لندن (نیٹ نیوز) عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایک قابل علاج بیماری ہوتے ہوئے بھی تپ دق کے اعدادوشمار ناقابل قبول ہیں اور ٹی بی کے خلاف بچاؤ میں ناکامی کی تنبیہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تپ دق سے لڑنے کیلئے بڑے بڑے اقدامات کئے گئے جن کی وجہ سے 1990ء کے بعد سے شرح اموات نصف ہوئی اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کا تناسب بھی 2000ء سے ایک اعشاریہ پانچ فیصد کم ہوا۔ ٹی بی سے نئے متاثر ہونے والے مریضوں کا تعلق چین، بھارت، انڈونیشیا، نائیجیریا اور پاکستان سے ہے۔ 2014ء میں تپ دق کے باعث جان گنوانے والے افراد کی تعداد پندرہ لاکھ تھی اگر دنیا اس وبا کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے خدمات اور تحقیق کیلئے سرمایہ کاری کرنی ہو گی۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...