پشاور: حاضر سروس جج کے متعلق ہتک آمیز ٹویٹ پر سرکاری ملازم گرفتار

30 اکتوبر 2015

اسلام آباد (بی بی سی) ایف آئی اے کے پشاور سائبر کرائم ونگ نے اعلیٰ عدلیہ کے حاضر سروس جج کے بارے میں اپنے ٹوئٹر پر ہتک آمیز الفاظ لکھنے پر ایک سرکاری ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم قاضی جلال کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سیاحت کے صوبائی محکمے میں سوشل میڈیا رابطہ کار ہے۔ ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ملزم صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر متحرک کارکن ہیں۔ اہلکار کے مطابق ملزم قاضی جلال کی گرفتاری پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے ملنے والی درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف پاکستان الیکٹرانکس ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002ء کی دفعات 36 اور 37 کے تحت گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت متعدد افراد کو گرفتار تو کیا گیا ہے، تاہم ٹوئٹر اکاؤنٹس سے متعلق پشاور میں یہ پہلی گرفتاری ہے۔ ملزم کا متعقلہ عدالت سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ جرم ثابت ہونے پر ان دنوں دفعات کے تحت 14 سال قید ہو سکتی ہے۔ ملزم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں اپنے آپ کو حافظ قرآن اور انصاف ریڈیو میں بطور ملازم متعارف کروایا ہے۔