مرحبا !جمہوریہ تُرکِیہ!

30 اکتوبر 2015

مَیں لمبی بحث میں نہیں پڑتا۔ بس اتنا ہی کافی سمجھیں کہ سیاسی عقیدہ یا اصول کو انگریزی میں "Politics" اور اردو (دراصل فارسی میں) ”سیاست“ ہی کہا جاتا ہے اور جمہوری اور غیر جمہوری ملک میں برسرِ اقتدار شخص یا گروہ کو ”سیاستدان“ ("Politition") یا سیاست کار کہتے ہیں۔

”زلزلے پر سیاست نہ کریں!“
وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے 29 اکتوبر کو زلزلے سے متاثرین کے پیکیج کا اعلان کرتے ہُوئے کہا کہ ”متاثرین کی بحالی اور امدادی کاموں کی نگرانی مَیں خود کروں گا“۔ جنابِ وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا کہ ”زلزلے پر سیاست نہیں کی جانا چاہئیے“۔ اپنے ساتھی/ اتحادی یا مخالف سیاستدانوں کوجنابِ وزیراعظم کی یہ ہدایت ہے یا مشورہ؟ لیکن جو خواتین و حضرات سیاستدان/ سیاست کار ہیں۔ وہ سیات نہ کریں تو کیا کریں؟ ایک مشہور شعر میں اگر لفظ ”محبت“ کے بجائے ”سیاست“ جَڑ دِیا جائے تو یوں ہوگا
”کروں گا کیا جو ”سیاست“ میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا “
90 فی صد سیاستدان/ سیاست کاروں کا دعویٰ ہے کہ ”ہم تو عبادت سمجھ کر سیاست کرتے ہیں“۔ ایک اور شاعر نے سیاستدانوں کی راہنمائی کے لئے کہاتھا ....
”خدا کرے کہ حسِینوں کے باپ مر جائیں
” بہانہ موت کا ہُو، ہم اُن کے گھر جائیں“
خود کُش حملوں، سیلاب، زلزلے اور دوسری قُدرتی آفات میں لوگ مارے جائیں، زخمی ہو جائیں یا وہ بے گھر ہو جائیں تو حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے سیاستدان متاثرہ خاندانوں کو پُرسہ اور دلاسا دینے کےلئے پہنچ جاتے ہیں اور اپنے اپنے چہروں کو بگاڑنے کی حد تک غمگین بنا لیتے ہیں، بہر حال جولوگ زلزلے سے تباہ حال ہو چکے ہیں وہ تو اپنے غم خواروںکو دعائیں دے سکتے ہیں یا ووٹ۔ زلزلہ زدگان سے ملاقاتوں میں جنابِ وزیراعظم، جنابِ عمران خان اور جنابِ خادمِ اعلیٰ پنجاب پیش پیش ہیں۔ خادمِ اعلیٰ بغیر پروٹوکول کے قصور کے ”دوست پورہ“ پہنچ گئے۔ مختلف نیوز چینلوں پر انہیں زلزلہ میں جاں بحق ہُونے والے محمد اسحاق کے باریش بھائی کے گالوں کو تھپتھپاتے ہُوئے دِکھایا گیا ہے۔ شاعرِ سیاست کہتے ہیں ....
”کیسی قِسمت جاگ اُٹھی زلزلہ زدگان کی
اب دُعا مانگیں گے خستہ تن، کسی طُوفان کی؟“
ہندو دیوتا ”وِشنو“ کے اوتار اویودھیا کے راجا رام، ایران کے بادشاہ نو شرواں عادل، خلیفہ راشد دوم حضرت عُمر بن الخطابؓ اور عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ راتوں کو بھیس بدل کر اور اپنے کچھ ساتھیوں/ درباریوں کو ساتھ لے کر رعایا/ عوام کے مسائل معلوم کیا کرتے تھے اور انہیں فوراً حل بھی کر دِیا کرتے تھے۔ جمہوری ملک کے صدر اور وزرائے اعظم ایسا کرتے ہیں یا نہیں؟ مجھے نہیں معلوم، البتہ مَیں یہ جانتا ہُوں کہ یورپی ملکوں میں وہاں کی حکومتیں دس دس پندرہ پندرہ سال ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بڑھنے نہیں دیتیں۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو پر وفاقی وزیرِ خزانہ جناب محمد اسحاق ڈار سے اینکر پرسن نے پوچھا کہ ”کیا پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا؟“ تو چہرے پر ایک کھسیانی سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے جنابِ ڈار نے کہا کہ ”جی نہیں! اِس لئے کہ پاکستان میں "Free Economy" ہے“ سوال یہ ہے کہ فری اکانومی کے بے لگام بُھوت کی موجودگی میں سیاست ہو سکتی ہے تو دہشت گردی، سیلاب طوفان اور زلزلے پر سیاست کیوں نہیں ہوسکتی؟
”چہ ارزں فرختند!“
خبر ہے کہ ”وفاقی حکومت نے سرکاری توشہ خانے سے نکال کر سعودی عرب کے مرحوم شاہ سعود ابنِ عبدالعزیز کی طرف سے پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل ( ر) سکندر مرزا کو تحفے میں دئیے جانے والے سونے کا خنجر اور تلوار کو ”چُپ چپیتے‘ بیچ دِیا ہے۔ خبر کے مطابق ”طلائی خنجر اور تلوار کی قیمت کئی ارب روپے تھی اور اِس کا شمار نوادرات میں ہوتا تھا اور قانون کے مطابق ان نوادرات کو نایاب ترین اشیاءکے عجائب گھر میں رکھا جانا چاہئیے تھا لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے نہ جانے کیوں؟ اور کس کو ان نوادرات کو چُپکے سے صِرف سوا کروڑ میں بیج دِیا۔
خبر میں یہ نہیں بتایا کہ توشہ خانہ میں 1965ءسے پڑے اِس طلائی خنجر اور تلوار کی حکومت کی نجکاری سکیم کے تحت فروخت کِیا گیا یا کسی اور ”کاری“ کے تحت؟ خبر میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حکومت کے لئے اپنی مخصوص خدمات کے عوض متذکرہ بالا نوادرات کو کوڑوں کے بھاﺅ خریدنے والے وہ ”ذاتِ شریف“ کون ہیں۔ حضرتِ شوق نے کہا تھا کہ....
” کی ہے جِن کی آپ نے تعریف
وہ کوئی اور ہوں گے، ذاتِ شریف“
سوا کروڑ روپے سے حکومت کا، توشہ خانے والوں کا اور (وفاقی وزارتِ خزانہ کا کیا بنے گا؟ اگر مرحوم شاہ سعود ابنِ عبدالعزیز کے نوادرات کو نیلام عام کے ذریعے فروخت کِیا جاتا تو شاید زیادہ مال مِل سکتا تھا۔ اِس طرح کے کاروبار کے بارے میں علاّمہ اقبالؒ کو بھی یاد نہیں کِیا جاسکتا، جنہوں نے کہا تھا ”قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند!“
مرحبا جمہوریہ تُرکیہ!
پاکستان اور جمہوریہ ترکیہ کے ”ہائی لیول ملٹری ڈائیلاگ“ گیارہویں اجلاس کے اختتام پر دونوں ملکوں نے واقعی ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کئے ہیں جِس کے مطابق جمہوریہ ترکیہ، پاکستان کو 34 (ٹی 37) جنگی طیارے اور اُس کے سپیئر پارٹس بھی مِفت دے گا“۔ معاہدے پر پاکستان کے ڈیفنس پروکیورمنٹ میجر جنرل نوید احمد اور ترکیہ کے چیف آف لاجسٹک میجر جنرل سردار گلباس نے دستخط کئے۔ پاکستان کے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) عالم خٹک کا دورہ کامیاب رہا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ تُرکیہ جناب طیّب اردگان کی طرف سے جمہوری استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔ فریقین نے علاقائی اور عالمی سطح پر دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کِیا۔
جمہویہ تُرکیہ کے بانی¿ غازی مصطفےٰ کمال پاشا سے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو عقیدت/ محبت تھی۔ اب بھی ہے۔ بانی¿ پاکستان حضرت قائد اعظمؒ اور غازی مصطفےٰ کمال پاشا میں ایک قدرِ مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں نے اپنی اپنی جائیداد قوم کے نام وقف کر دِی تھی۔ قوم نے قائدِ اعظمؒ کو ”بابائے قوم“ اور غازی مصطفےٰ کمال پاشاکو ”اتا تُرک“ (تُرکوں کے باپ) کا خطاب دِیا۔ علاّمہ اقبالؒ نے مسلمان ملکوں کی منتخب قومی اسمبلی کو ”اجتہاد“ کا حق دِیا تھا۔ غازی مصطفےٰ کمال پاشا کی قیادت میں تُرکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے ”اجتہاد“ کر کے خلافت جیسے ناکارہ ادارے کو منسوخ کردِیا تھا۔
جمہوریہ تُرکیہ کے لوگ کسی دور میں بھی اسلام سے دُور نہیں رہے۔ صدر رجب طیب اردگان ایک روشن خیال مسلمان ہیں۔ وہ 1994ءسے 1998ءتک استنبول کے میئر کی حیثیت سے مقبولِ عام ہُوئے۔ انہوں نے 2001ءمیں "Justice and Development Party" (A.K.P) بنائی۔ 2003ءسے 2014ءتک وزیرِاعظم رہے اور 28 اگست 2014ءسے صدر جمہوریہ ہیں۔ 23 مئی2010ءکو جب جمہوریہ تُرکیہ کی بندر گاہ انا طولیہ سے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لے جانے والے آزادی کے بیڑے (Freedom Flotilla) پر جب اسرائیلی فوج نے سفاکانہ حملہ کِیا تھا تو اُن دِنوں وزیراعظم طیّب اردگان نے عالمی سطح پر مجاہدانہ کردار ادا کِیا تھا ۔ پاکستان میں جمہوریہ ترکہ کی قیادت کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ یقین کِیا جاسکتا ہے کہ اب اُن کے لئے محبت کے جذبات اور بڑھیں گے۔ مرحبا! جمہوریہ تُرکیہ!