”نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کیلئے“

30 اکتوبر 2015

پاکستان کے بیشتر علاقے ابھی تک اس زلزلے کے اثرات سے باہر نہیں نکلے جس نے 26 اکتوبر کو قریب قریب سارے ہی ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ زلزلے آنے کی سائنسی وجوہ کے بارے میں ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ہماری زمین اس وقت لرز اٹھتی ہے جب کہ زیر زمین چٹانیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ اس ٹوٹ پھوٹ کے باعث جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ زمین کو لرزا دیتی ہے۔ زیر زمین آپس میں ٹکرانے والی چٹانیں یا پلیٹیں ان پر پڑنے والے دبا¶ کی وجہ سے سرک کر ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں اور ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔ جب زلزلہ آتا ہے تو چٹانیں یا پلیٹیں متحرک رہتی ہیں۔ پھر وہ اچانک ساکت ہو جاتی ہیں۔ زلزلوں کی شدت کو جانچنے کے لئے ماہرین ارضیات اور سائنسدانوں نے پیمانے بھی متعین کئے ہیں۔ جو زلزلہ 26 اکتوبر کو پاکستان افغانستان اور جنوبی ایشیا کے دوسرے خطوں میں آیا اس کی شدت 8.1 بتائی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ جب کسی زلزلے کی شدت 8.6 تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے اس قدر توانائی خارج ہوتی ہے جتنی ایک ہزار ایٹم بم پھٹنے سے ہوتی ہے۔ زلزلوں کے بارے میں سائنسی تحقیقات دنیا بھر میں جاری ہیں۔

دوسری طرف قرآن کریم میں زلزلوں کا تذکرہ موجود ہے۔ تیسویں پارے میں سورہ ”الزلزال“ میں کہا گیا ہے کہ ”جب زمین اپنی پوری شدت سے ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی اور انسان کہے گا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ اس روز اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات بیان کرے گی کیونکہ (تیرے) رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہو گا‘ اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھا دئیے جائیں۔ پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا“
تیسویں پارے میں ہی سورہ القارعہ ہے جس میں حادثہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ حادثہ قیامت کا حادثہ ہو گا۔ اس حادثہ کے دن لوگ پروانوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون کی طرح ہوں گے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر کا کئی سورتوں میں تذکرہ موجود ہے ۔ قیامت بھی ایک بڑا زلزلہ ہو گا جس میں یہ کائنات تہس نہس کر دی جائے گی اور ایک نیا نظام وجود میں آئے گا۔ سائنسدان اب اس حقیقت کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ کائنات کے موجودہ نظام کو ابدیت حاصل نہیں۔ سائنسدانوں کا ایک گروپ اس نظریہ کا حامی ہے کہ جس طرح یہ کائنات ایک بڑے دھماکے سے وجود میں آئی تھی اسی طرح ایک اور بڑے دھماکے سے ختم ہو جائے گی۔ حال ہی میں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ”ناسا“ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کائنات میں توانائی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔ آج سے دو ارب سال پہلے کائنات میں جتنی توانائی تھی اب اس کا بہت کم حصہ رہ گیا ہے۔ توانائی کی گھٹتی ہوئی مقدار خطرہ ہے اور یہی اس کائنات کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ اس نظام زندگی کے خاتمے کے بارے میں سائنس اور قرآن کے نظریات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ قرآن تو کائنات کے نظام رات اور دن کے آنے جانے ‘ سورج چاند ستاروں کے نظام پر غور اور فکر کی دعوت دیتا ہے اور یہ پورا نظام جس انداز سے چل رہا ہے اس پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے اور بار بار کہتا ہے کہ یہ نشانیاں اہل فکر و دانش کے لئے ہیں۔
دنیا میں بڑے تباہ کن زلزلے آتے رہے ہیں ان زلزلوں میں لاکھوں لوگ مرتے رہے ہیں اور ارضیاتی ساخت میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ پہاڑ غائب ہو کر ان کی جگہ دریا اور سمندر ابھرتے رہے ہیں یہ سلسلہ طویل عرصہ سے چلتا رہا ہے پچھلے دو سو سال میں جنوبی امریکہ‘ چین‘ جاپان وسط ایشیائ‘ جنوبی ایشیاءمیں قیامت خیز زلزلے آئے جن میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے۔ خود پاکستان میں موجودہ صدی یعنی اکیسویں صدی میں جو زلزلے آئے ہیں انہوں نے بڑی تباہی پھلائی۔ 8 اکتوبر 2005ءمیں جو زلزلہ یا تھا اس میں 80 ہزار پاکستان اور کشمیری جاں بحق ہوئے۔ ہزاروں گھر‘ سکول اور ہسپتال تباہ ہوئے‘دس برس میں 26 اکتوبر کو جو زلزلہ آیا اس نے خیبرپختونخوا ‘ دارالحکومت اسلام آباد‘ راولپنڈی شمالی علاقوں اور پنجاب کے بعض علاقوں کو اس قدر جھنجھوڑا کہ لوگ خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ قرآن کی زبان میں 26 اکتوبر کو لوگوں کی زبان پر یہی سوال تھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ خوش قسمتی سے اس زلزلے سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن املاک کو زیادہ نقصان پہنچا۔ قدرت نے پاکستان کی زمین کو بڑے زور سے جھنجھوڑا۔ اس زلزلے کے بعد میں یہ دیکھنے کے لئے کہ اسلام آباد میں زلزلے کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں گاڑی لے کر سڑک پر نکلا تو میں نے دیکھا لوگ نارمل ہو گئے تھے گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں تھیں اور ٹریفک رولز کی خلاف ورزیاں بھی عروج پر تھیں زلزلہ کے جھنجھوڑنے کے باوجود معمولات زندگی میں کوئی بڑا فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ تاجر کاروبار میں مصروف تھے۔ دونمبر کا مال حسب معمول ایک نمبر ظاہر کر کے بیچا جا رہا تھا۔ جھوٹ‘ وعدہ شکنی‘ منافقت‘ بدعنوانی پھر زوروں پر تھی۔ کئی علماءکے بیانات آرہے تھے کہ یہ زلزلہ ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن زلزلہ سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ قرآن تو کہتا ہے کہ سب نشانیاں عقل والوں کے لئے سوچنے اور غور کرنے والوں کے لئے ہیں۔