بقراطوں کے تجزئیے اور ’’موجاں ای موجاں‘‘

30 اکتوبر 2015

یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے اپنے ملازم کو نام لے کر پکارا۔ وہ حاضر ہوا تو اسے ہیٹر کو کونے سے نکال کر کپڑے سے صاف کرنے کے بعد جلانے کا حکم دیا۔ اس سے پہلے وہ چائے کا گرم مگ صبح کے اخبارات کے ساتھ میری میز پر رکھ چکا تھا۔ میں نے اس مگ کو کافی دیر تک اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے تھامے رکھا تاکہ ان میں توانائی آئے اور میں یہ کالم لکھنے بیٹھوں تو قلم رواںہے۔
خود کو بہت اہتمام کے بعد خامہ فرسائی کے لئے تیار کرلیا تو ذہن میں کوند آئے ہیں چند چہرے۔ شانگلہ کے بلندو بالاپہاڑوں کے کسی مقام پر بنے ان کے مکان 26اکتوبر کے جھٹکوں سے کھنڈروں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ان کے مویشی بھی ملبے تلے دب گئے۔ اپنے مکانات کے ملبوں کے گرد کھلے آسمان تلے بیٹھے یہ لوگ کسی ایسے بندوبست کے منتظر تھے جو انہیں سینوں کو چیرتی ٹھنڈی ہوا اور ’’چینی‘‘طرز کے ٹارچر کی مانندچہروں پر وقفوں سے چبھتی سوئیوں کی طرح محسوس ہوتے برف کے قطروں سے محفوظ رکھ سکے۔
یہ چہرے، جنہیں بدھ کی شام میں نے حامد میر کے پروگرام میں دیکھا تھا، یاد آئے تو پوری منافقت کے ساتھ سیاپا فروشی پر مائل طبیعت سے بہت گھن آئی۔ یہ سوچ کر مگر دل کو تسلی دے ڈالی کہ ٹالسٹائی بہت بڑا جاگیر دار ہوا کرتا تھا۔ اس نے سردیوں کی لپیٹ میں آئے غریب کسانوں کی داستانیں لکھیں تو کئی لوگوں کی نظر میں حضرت عیسیٰؑ کے متعارف کردہ جذبہ رحم کا احیاء کرتا محسوس ہوا۔ میرا تعلق تو غربت سے بمشکل بچے متوسط طبقے سے رہا ہے۔ ساری زندگی خبریں ڈھونڈنے کی مشقت سے گزرا ہوں اور تھوڑی سی راحت عمر کے آخری حصے میں نصیب ہوئی ہے۔ اپنے بارے میں اتنا شرمسار کیوں ہونا۔
شرمسار مگر ہونا پڑتا ہے کیونکہ مالاکنڈ اور چترال میں 26اکتوبر سے تین دن گزرنے کے بعدبھی ہزار ہا افراد سینوں کو چیرتی ہوا سے محفوظ ٹھکانوں کے بغیر کھلے آسمان تلے رحم کے منتظر ہیں۔ وہ میرے ملک کے حقوق رکھنے والے شہری نہ سہی ہم پر مسلط حکمرانوں کی رعایا تو ہیں۔ ان کی مصیبتوں پر توجہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہمارے لوگوں کو احساس ہو کہ 2005ء کے زلزلے، اس کے بعددہشت گردوں کے خلاف ہوئے کئی آپریشنز اور سیلابوں کے باوجود بھی پاکستانی ریاست Disastersکو Manageکرنے کا کوئی نظام تشکیل نہیں دے پائی۔
اس نظام کی عدم موجودگی اس وقت آپ کو مزید حیران وپریشان کردیتی ہے جب نام آتا ہے۔ NDMAاور PDMAجیسے اداروں کا۔ ان اداروں کے سربراہان کے پاس لش لش کرتی اور کئی ایک صورتوں میں بلٹ پروف گاڑیاں بھی ہیں۔ غیر ملکی دورے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مہیا کردہ فنڈز۔ قدرتی آفتوں سے نبردآزما ہونے کے لئے جدید ترین آلات اور ان آلات کو استعمال کرنے کے لئے بارہا منعقد ہوئی ٹرینگ ورکشاپس۔
عمران خان نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے لوگوں کو تیار کرنے کے لئے جو روح پرور تقاریر فرماتے ہیں ان میں KPKکی پولیس اور ضلعی حکومتوں کا بہت فخر سے تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ جس صوبے میں ان کی جماعت کی حکمرانی ہے وہاں کے نوسر باز افسروں کے ایک گروہ نے ایک بڑی شاندار دستاویز بزبان انگریزی تیار کررکھی ہے۔ اس دستاویز نے بڑھک لگارکھی ہے کہ ہر ضلع میں ایک خود مختار اور جدید ترین آلات سے لیس Disaster Managementکے لئے ایک ضلعی یونٹ موجود ہوگا۔ کسی ناگہانی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لئے اس یونٹ کو وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم سے مدد کی التجائیں کرنے کی ضرورت نہیں۔
منگل کی رات لیکن میری چترال کے دوسری بار منتخب ہوئے ناظم، حاجی مغفرت شاہ سے تفصیلی بات ہوئی۔ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جو خیبر پختونخواہ حکومت میں تحریک انصاف کی اتحادی بھی ہے۔ حاجی صاحب جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم-الخدمت- کے لئے بھی کئی برس تک کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اقرار کیا کہ DDMUکا منصوبہ کاغذوں میں یقینا موجود ہے۔ صوبائی حکومت نے اسے فعال بنانے کے لئے مگر فرائض اور اختیارات کے تعین کو Notifyہی نہیں کیا۔ چترال کے زمینی رابطے لواری ٹنل بند ہونے کی وجہ سے باقی ملک سے کٹے ہوئے ہیں۔ تین ماہ پہلے آئے سیلاب نے کئی سڑکوں اور پلوں کو تباہ کردیا تھا۔ وہ ابھی بحال نہیں ہوپائے تھے کہ برفباری بھی شروع ہوگئی ہے۔
مالاکنڈ اور چترال کے لاکھوں رہائشی لیکن ہمارے 24/7چینلوں کا مسئلہ نہیں۔ ان علاقوں میں ٹیلی وژن تو ہیں مگر ریٹنگ کو ماپنے والے ٹیلی میٹر موجود نہیں۔ عقل کل بنے اینکر خواتین وحضرات کو لہذا ان علاقوں کی مصیبتوں سے کوئی غرض نہیں۔ انہیں دُکھ ہے تو بس اتنا کہ شہرِ قائد میں کئی مقامات پر CCTVکیمرے نصب نہیں۔ ان کیمروں کی عدم موجودگی اسٹریٹ کرائم میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ لاہور میں پریشانی ہے تو سگنل فری سڑکوں کی دُھن میں درختوں کی کٹائی پر اور راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والی میٹرو بس کے چند پلوں سے اینٹیں سرک رہی ہیں۔
ٹیلی میٹروں پر چھاجانے کی ہوس میں مبتلا ’’کلمہ حق‘‘ کہنے والے ’’مجاہد‘‘ مالاکنڈ اور چترال کی مصیبتوں کو بھول چکے ہیں۔ ان کی سہولت کے لئے ربّ کے بعد مہربانی فرمائی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز یہ فیصلہ سناکر کہ لودھراں کے NA-154میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر انتخاب دوبارہ ہوگا۔ جہانگیر ترین بمقابلہ صدیق بلوچ۔ دھمادھم مست قلندر۔ NA-122کے معرکے کے بعد ایک اور ’’بڑا جوڑ‘‘ سکرینوں پر رونق لگانے کو تیار۔
جہانگیر ترین کا ذاتی طیارہ یقینا اس جوڑ کو مزید پُرکشش بنانے کے لئے عمران خان کو انتخابی مہم کے دوران ایک سے زیادہ بار لودھراں لے کر جائے گا۔ شاید محترمہ ریحام بی بی بھی ایک بار اس شہر کا دورہ فرمالیں۔گلیمر اور ڈرامے سے بھرپور مناظر۔ پھر بقراطوں کے تجزیے۔ موجاں ای موجاں۔
شانگلہ کے پہاڑوں پر ملبوں کے ڈھیروں کے سامنے کھلے آسمان تلے بیٹھے ذلتوں کے مارے لوگوں کی پرواہ کسے۔ بڑی جرأت کے ساتھ سچ بولنے والے ہیرو بنے اینکر خواتین وحضرات کو خبر ہی نہیں کہ ایک بے وسیلہ کسان کی گائے، بھینس یا بکری ملبے کے تلے دب جائے تو اسے اپنی دُنیا اندھیر ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ دل میں ویسی ہی خلش باقی رہ جاتی ہے جو ’’کمائوپوت‘‘ کی حادثاتی موت کی صورت محسوس ہوتی ہے۔
مشہور برانڈ کے کپڑوںکے ساتھ سرخی پائوڈر لگائے اپنے بالوں کو وکھرا سٹائل دئیے ایرکنڈیشنڈ سٹوڈیوز میں بیٹھ کر ’’فروغ حق‘‘ کے دھندے میں مصروف افراد کی ذلتوں کے مارے لوگوں کی مصیبتوں سے بے اعتنائی بھگتنے کے بعد میں خوب جان گیا ہوں کہ مالاکنڈ میں ’’مُلاریڈیو‘‘ کیوں نمبودار ہوا تھا۔ ہماری بے حسی ختم نہ ہوئی تو مزید ’’مُلاریڈیو‘‘ پیدا ہوتے رہیں گے۔ ’’آپریشن ضربِ عضب‘‘ جیسے اقدامات کے باوجود۔