مثبت رویوں کی فتح

30 اکتوبر 2015

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے چند روز قبل چین کے تعاون سے حویلی بہادر شاہ میں 1236 میگاواٹ بجلی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس سے دو روز قبل کوٹلی اور بھکی میں بجلی بنانے کے دو منصوبوں کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ آئندہ چند دنوں تک بلوکی کے مقام پر ایل این جی سے بجلی بنانے کے پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائےگا ۔اس سے پہلے بھی دوست ملک چین کے اشتراک و تعاون سے بجلی کے کئی منصوبوں کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ بجلی بنانے کا کوئی منصوبہ اگرچہ چند دنوں یا مہینوں میں مکمل نہیں ہو سکتا تاہم حکومتی کارکردگی کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے۔
آئندہ دو برسوں میں موجودہ حکومت کے تمام منصوبے پاکستان کا مستقبل روشن بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس طرح کے تمام منصوبوں کی تعمیر و تکمیل موجودہ حکومتی ذمہ داران کے مثبت رویوں، تعمیری صلاحیتوں اور پاکستان کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے حسین جذبوں کی آئینہ دار ہے۔ بجلی کی قلت سے ملکی صنعت اور عوام کو آج دشواریوں کا سامنا ہے۔ یہ دشواریاں اور مشکلات سابقہ حکومتوں کی ملکی ترقی کے مسائل سے لاتعلقی اور بے تحاشا کرپشن کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔
اگر سابقہ حکومتوں نے امور مملکت میں شفافیت کو معیار بنایا ہوتا۔ ملکی حالات درست کرنے کے لئے مناسب منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنایا ہوتا اور عوام دوست اقدامات کئے ہوتے تو آج بجلی کی قلت ہوتی اور نہ عوام کی زندگیوں میں اس قدر تلخیاں ہوتیں۔ انہوں نے عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی بجلی کی پیداوار بڑھانے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے پر توجہ دی۔ کرپشن بڑھائی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی۔ بجلی کا مسئلہ حل کرنے سرمایہ کاری بڑھانے اور اندرون ملک کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلئے میاں نوازشریف محبت فاتح عالم کا نسخہ پلے باندھ کر ملکوں ملکوں جا رہے ہیں اور ان سے پاکستان کے تعلقات استوار کرنے اور بڑھانے کے لئے داغ بیل ڈال رہے ہیں۔
چین پہلے دن سے پاکستان کا گہرا اور آزمودہ دوست ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے مسلسل رابطوں اور پاکستان کے مسائل اور ضرورتوں بارے آگاہی دے کر دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کو صحیح معنوں میں شہد سے میٹھا سمندر سے گہرا اور پہاڑ سے بلند کر دیا ہے۔ اعتماد کی بلندی کا یہ عالم کہ چینی قیادت نے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف کو پاکستان میں اپنا سفیر قرار دے دیا۔ ہمدردی اور دستگیری کا مفہوم اس طرح پورا کیا کہ چین کے وزیراعظم نے اسلام آباد پہنچ کر پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کئے۔
پاک چین اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کا پروگرام فائنل ہوا۔ گوادر بندرگاہ کو کاشغر سے ملانے کا معاہدہ ہوا۔ نریندر مودی سرکار نے ہزار جتن کئے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خراب ہو جائے۔ دنیا کی نظروں میں نہ آئے گوادر میں گہرے پانیوں کی بندرگاہ ناکام ہو جائے لیکن سارا پروپیگنڈا نریندر مودی کا وا ویلا پاک چین دوستی کے پہاڑ تلے دب گیا۔ انڈین پروپیگنڈے کو کسی نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ اقتصادی راہداری پر تعمیری کام شروع ہوچکا ہے۔ کئی ملکوں نے اس میں دلچسپی کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ گوادر بندرگاہ آپریشنل ہو چکی اور پاکستان کے لئے معاشی فیض رسانی کا ذریعہ بن چکی ہے، محبت کا دائرہ وسعت پذیر ہے۔ چین کو دیکھ کر روس نے کراچی سے لاہور تک 1100کلو میٹر گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کر لیاہے جس کے لئے دو ارب ڈالر سرمایہ بھی روس فراہم کرے گا۔ یہ سب معاہدے سوتے میں نہیں ہو رہے۔ ان کے پیچھے موجودہ وزیراعظم اور حکومت کی شاندار جدوجہد ہے۔ کوئی ہے جو جا رہا ہے، ملاقاتیں کررہا ہے اپنے مسائل اور پاکستان کی افادیت بارے آگاہی دے رہا ہے۔ کوئی ہے جس کی خوئے دلنوازی سننے والے کو متاثر و متحرک کرتی ہے، محبت کی مہک کا سفر ہے جو ہر سو پھیلتا ہے، روکنے سے رکتا نہیں۔
چین پاکستان کی ترقی وخوشحالی اور سلامتی کے لئے ہمہ وقت تیاررہتا ہے۔ روس گیس پائپ لائن معاہدے تک محدود نہیں رہے گا۔ اگلے قدم کے طور پر تجارتی تعلقات میں وسعت کے امکانات روشن ہوں گے۔ وزیراعظم کا حالیہ امریکہ کادورہ بے اثر نہیں رہے گا، ضرب عضب کی کامیابی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے میاں محمد نواز شریف کے بصیرت افروز خطاب کے بعد پاکستان کے بارے میں ترقی یافتہ ملکوں کی سوچ فکر میں تبدیلی آئی ہے ، باراک اوباما کو اب کچھ سننا پڑے گا اور کچھ ماننا بھی۔ اندرون ملک وزیراعظم نے کسان پیکیج کا اعلان کر کے زرعی پیداوار بڑھانے ، عام آدمی کے لئے مہنگائی میں ریلیف دینے اور کسان کی حالت سنوارنے کا بندوبست کیا ہے۔ اب اسے کھاد سستی ملے گی فی ایکڑ حکومتی امداد ملے گی، کسان خوشحال ہوگا۔ پیداوار زیادہ اور مہنگائی میں کمی واقع ہوگی۔
دہشت گردی کے واقعات کی کثرت، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور جبریہ کاروباری مراکز بند کرانے سے بیرونی اور اندرونی کاروباری لوگوں نے کراچی آنا جانا ختم کردیا تھا۔ پاک فوج کے ضرب عضب اور رینجر کے آپریشن سے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلر کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ کراچی میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور عروج مل رہا ہے۔ کاروباری طبقہ ایک مدت سے مطالبہ کررہا تھا کہ مارک اپ کی شرح سنگل ڈجٹ پر لائی جائے۔ موجودہ حکومت اس قدر نیچے لے آئی ہے کہ شاید کاروباری طبقہ کو کہنا پڑے کہ مزید نیچے نہ لائی جائے۔ حکومت کے امید افز اقدامات کم ازکم وقت میں کاروباری طبقہ کسانوں اور عام آدمی کیلئے خاطر خواہ فوائد دے سکتے ہیں۔ بشرطیکہ تنقید برائے تنقید اور اپوزیشن کی بجائے اصلاح احوال کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹایا جائے۔