”واشنگٹن کا سفر“

30 اکتوبر 2015

امریکی صدر کی وزیراعظم پاکستان کو واشنگٹن میں ملاقات کی دعوت نے ہمارے ہاں ایک ہلچل سی مچادی تھی۔غالب تاثر یہ تھا کہ اس بار موضوعات بھی تاریخ ساز ہونگے اور فیصلے بھی دو ٹوک۔لہٰذا ہر ایک نے بحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔میڈیا پر بھی کافی پروگرام ہوئے جن میں کچھ خوش فہم پھولے نہ سماتے تھے۔ کچھ دائیں بائیں دیکھ کر کوئی لائن اپناتے اور کچھ قنوطیت پسندوں نے قوم کو بددل کرنے کے لیے ایڈوانس بکنگ کروالی تھی۔ غیر ملکی دورہ اہم ہوتا ہے مگر نئے ایجنڈے والے دورے فیصلہ کن نہیں ہوا کرتے۔دورے سے پہلے کے حالات اور بعد کے فالو اپ سے نتائج نکلا کرتے ہیںلیکن اس ماحول میں جس ایک احساس نے مجھے مسرورکیے رکھا وہ ہر فرد کا اپنے وطن کے معاملے میں کنسرن تھا ۔ مجھے اس سلسلے نے بچپن میں اپنے گاﺅں والا وہ ماحول ےاد دلا دیا جب ہمارے بڑے اپنے لوگوں کے ساتھ شہر، خصوصاً لاہور کا سفر کیا کرتے تھے ۔کئی ماہ پہلے اور بعد میں ان کا سفر بات چیت کا محور بنا رہتا۔انہیں خاص پروٹو کول دیا جاتا۔ ان کی Credibilityبھی بڑھ جاتی ۔چاہے وہ کسی کیس کی تاریخ بھگت کے آئے ہوں ےا کسی وزیر کے پیچھے خجل ہو کر کوئی نیا وعدہ لے کرآئے ہوں ۔

بہر حال ہمارا واشنگٹن کا دورہ مکمل ہوا۔رات گئے اعلامیے کے نکات کا پتہ چلا تو ایسے ہی لگا جیسے کوئی تاریخ بھگتی ہو۔مخالف کے وکیل نے اپنے دلائل میں اپنے آئندہ لائحہ عمل کا عندیہ بھی دے دیا ہو اور اب اگر ہماری تیاری مکمل ہوئی تو آئندہ تاریخوں میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔اس ملا قات میں ہمارہ ریجن زیرِبحث رہا۔14سال سے ا علانیہ جنگ لڑنے والے امریکہ کی، غیرا علانیہ طور پر امن کو سبو تاژ کرنے والے بھارت کے ذریعے امن کی کوشش سامنے آئی ۔گویا افغانستان ،پاکستان،امریکہ اور انڈیا کے درمیان ڈائیلاگ ہو رہے تھے ۔آئیں سب کے مقاصد اور حصول کا جائزہ لیتے ہیں ۔
امریکہ جو دنیا کی واحد سپر پاور ہوتے ہوئے افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا آج اس کے مقاصد میں سرفہرست خطے میں اپنی موجودگی قائم رکھتے ہوئے اپنی افواج کو نکالنا ہے۔امریکہ کے پہلے منصوبے کے مطابق ہندوستان کو اپنا سٹریٹجک پارٹنر اور علاقے کی غالب طاقت کا درجہ دینا اور افغانستان کی فورسز کو کنٹرول کے قابل بنانا تھا۔مگر نہ تو کسی نے ہندوستان کو غالب سمجھا اور نہ ہی افغان فورسز میں جان پڑی ۔لہٰذا امریکہ کو نکلنے سے پہلے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہوئی ۔جس کے مطابق پاکستان پر دباﺅ کی بجائے قربت اور افغانستان میں زیادہ فورسز کا قیام قدرے لمبا کرنا بہتر سمجھا گیا۔سو اس دورے میں امریکہ نے ان دونوں مقاصد کے حصول کی بنیاد رکھ دی۔البتہ اپنے سٹریٹجک پارٹنر کے موقف کو اپنی زبان میں دہرا کر اس کو بھی اپنے اعتماد میں رکھا۔
ہندوستان براہِ راست اس ملاقات میں موجودنہ تھامگر اس کے مقاصد کا احاطہ کرناضروری ہے جن کو سپانسر امریکہ نے کیا مثلاً لشکرِطیبہ کے خلاف کاروائی ،ممبئی والے چھوٹے سے واقعہ کو مسئلہ کشمیر پر فوقیت دینا اور پاکستان پر عالمی امن کےلئے کردار ادا کرنے پر زور ۔پھر چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنانے پر پاکستان پر پابندی اور نیوکلیئر دہشت گردی کی نئی اصطلاح سے پاکستان کو ٹارگٹ کرنے کا آغاز قابلِ ذکر ہیں ۔پاکستان نہ کسی کے خلاف جارہانہ عزائم رکھتا ہے اور نہ کسی کی،خصوصاً بھارت کی بالادستی تسلیم کر سکتا ہے۔ہم امریکہ سے تعلقات بڑھانے کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیںکہ وہ ہندوستان کی ہمارے خلاف دہشت گردی اور عالمی پروپیگنڈاکو روکے۔مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور انسانیت کی پہلے اصول(حق خود ارادیت)کے ذریعے حل کروانے میں مدد کرے ۔20کروڑ کا ملک،ایک ایٹمی قوت ،دنیا کی بہترین فوج،اچھا انفراسٹرکچر،اچھے تعلیمی ادارے ، پرعزم یوتھ،اونچا مورال اور وطن سے عشق کرنے والے صابر شہریوں کے ساتھ ہماری ایک با وقار قومی شناخت ہے۔لہٰذاہمیں کسی طرح بھی AFPAKمیں محدود کرنے کی کوششوں کوروکا جائے۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو امریکہ نے ایک نئی سٹریٹجی کی بنیاد رکھ لی اور انڈیا نے اپنے عزائم کا دباﺅہم پر ڈلوالیا۔ہم نے کیا حاصل کیا۔امریکہ کی ہمارے اپریشن ضرب عضب کے اثرات اور جمہوریت کے مضبوط ہونے کی تعریف ،دہشت گردی کے خلاف کاروائی میں امداد کا عزم ،مختلف شعبوں میں پائیدار شراکت داری ۔ہماری ایٹمی اثاثوں کے محفوظ ہونے اور فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف ،8ایف سولہ طیارے دینے ،خواتین کی تعلیم کے لیے دو گنا فنڈاور بھاشاداسوڈیم کی تعمیر میں مالی تعاون کی پیشکش اچھی بات ہے مگر ہمارے مندرجہ بالا قومی مقاصد کے حصول سے کوسوں دور ہیں ۔ہمیں اپنی قومی پالیسی کو اب مزید چوکنا ہوکر تیار کرنا ہوگا۔
1۔لشکرِطیبہ یا کوئی اور تنظیم اگر دہشت گردی میں ملوث ہے تو ہمیں ازخود کاروائی کرنی ہے۔ہندوستان کی خواہش پر نہ امریکہ کے دباﺅ پر ۔
2۔ہمیں ہر جگہ ہندوستان کے ساتھ” تمام متنازعہ مسائل بشمول کشمیر“ کی بجائے ©” کشمیر ودیگر متنازعہ مسائل “کے الفاظ لکھواناہوں گے۔
3۔افغان بارڈر پر امن رکھنے کی ذمہ داری پھر سے ”ڈومور“میں بدل سکتی ہے جب تک ہندوستان سے TTPاور BLAکو سپورٹ بند کرنے کی یقین دہانی نہ لی جائے۔
4۔چھوٹے نیوکلئیر ہتھیار ،WMDنہیں صرف ہمارے اپنے قریبی دفاع کے لیے ہیں اور یہ ہندوستان کی عددی برتری اور کولڈ سٹارٹ وار کے نظریے کاتوڑ ہیں ۔ان ہتھیاروں کا اعلامیے میں ذکر تو نہیں لیکن ہو ہی نہیں سکتا کے اس پر بات نہ ہوئی ہو،اور ہوہی نہیں سکتاکہ کوئی پاکستانی اس پر سمجھوتا کرے۔انڈیایہی ایک آدھا اسرائیلی ہتھیار کسی جگہ پر سے چلواکر یہ پروپیگنڈا بھی کر سکتا ہے کہ پاکستانی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں ۔اسکا بھی سدباب کرنا ہوگا۔موجودہ مسائل کے حل کی تلاش میں ہمیںامریکہ اور چین دونوں کی ضرورت ہے جب کہ ان دونوں کے درمیان کسی حد تک انڈرسٹینڈنگ بھی موجودہے۔ہندوستان کا نہ تو کچھ داﺅ پر ہے اور نہ ہی اس نے کوئی خون دیا ہے۔لہٰذااس کو تھوڑا ملے یا زیادہ اس کا منافع ہی ہے۔ادھر امریکہ ہندوستان سے اپنے مقاصد پورے نہ ہونے کی وجہ سے کم ازکم اتنا دور تو ضرورچلاجائے گا کہ پاکستان پر کوئی خطرناک دباﺅ نہ ڈال سکے۔ہم اگر اس ملاقات کا فالواپ باتدبیر اور جارح سفارتکاری سے کر لیں تو ہندوستان کے بے بنیاد خواب بھی ٹوٹ سکتے ہیں اور ہم بڑی طاقتوں سے مناسب قربت کا فائدہ بھی اٹھاسکتے ہیں۔۔۔۔