سورة بقرہ کا اجمالی تعارف

30 اکتوبر 2015

سورة بقرہ قرآن مجید کی سب سے طویل سورت ہے، اورایک قول کیمطابق نبی کریم ﷺکی ہجرت کے بعد سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت ہے۔
مکہ مکرمہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب کفارومشرکین تھے جن کا شعار بت پرستی تھے ، وہ توحید، نبوت ، قیامت کے کسی بھی تصور سے ناآشنا تھے ، قتل وغارت گری اوربداعمالیاں ان کا شعار بن چکی تھیں، لہٰذا وہ سورتیں جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوتیں انکے غالب عنوان عقائد واعمال کی اصلاح تھی، مدینہ منورہ میں ایک نیا ماحول اورنئے مقاصد سامنے تھے۔ مدینہ منورہ میں اگر چہ اکثریت انصار کی تھی لیکن قوت واقتدار اور معاش کے وسائل یہود کے کنڑول میں تھے ، اوراہل مدینہ ذہنی اورعلمی طور پر ان سے مرعوب بھی تھے ، یہود اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ، توحید ، رسالت ، وحی ،قیامت اورجنت وجہنم کے مفاہیم سے اچھی طرح آشنا تھے، لیکن قومی ونسلی برتری اورتعصب کا شکار تھے، اوربے شمار اخلاقی برائیوں کا شکار ہوچکے تھے ، نسلی تفاخر کی وجہ سے انھیں کسی اورکی نبوت گوارا تو کیا ہوتی وہ اس کا تصور تک کرنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ اورخود اپنا عالم یہ تھا کہ نہایت معمولی سے فائدے کی خاطر تورات کی واضح آیتوں کا انکاراور ان میں تحریف تک کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ جب نبی کریم ﷺمدینہ منورہ میں تشریف فرماہوئے تو آپکی ہمہ گیر ، موثراورحکیمانہ دعوت اورآپکی سراپا اعجاز شخصیت کے سامنے یہود کا طلسم ٹوٹنے لگا۔ ایسے میں قرآن نے انھیں تفکر کی دعوت بھی دی اورانکے ساتھ ایک موثر مکالمے کا آغاز بھی کیا، سورة بقرہ میں بنی اسرائیل کے حوالے سے کئی عنوانات پر کلام فرمایا گیا ، اس سورة مبارکہ کا نام ہی نبی اسرائیل کے ایک واقعے کی نسبت سے موسوم ہوا، جس میں ایک گائے (بقرہ)کا تذکرہ ہے، مدینہ منورہ میں مسلمانوں کامشرکین واہل کتاب کیساتھ ایک تیسرے گروہ سے بھی سابقہ پڑا یہ گروہ منافقین کا گروہ ہے ، جس کا سرخیل عبداللہ بن ابی تھا، اس گروہ کی ریشہ دوانیوں اوران کا قلع قمع بھی قرآن کے پیش نظر تھے ، یہود اور منافقین سے مکالمہ کے اسی ماحول میں خیرالامم بھی اپنی تشکیل وتکمیل کے مرحلے طے کررہی تھی ،قرآن اور صاحب قرآنی کی اعجاز آفرینی ہر رکاوٹ کوپاربھی کررہی تھی اورحکمت ودانائی کے نئے دروازے بھی کھول رہی تھی ، مدینہ منورہ میں مسلم تہذیب وتمدن کی صورت گری شروع ہوئی، لہٰذا مسلمان کی شریعت ، اسکی اقتصادیات ، اسکی عمرانیات اورسیاسیات کے عنوانات پر کلام کا آغاز ہوا، بنیادی اعتقادات کی تعلیم کے بعداس شریعت اسلامیہ کو تفصیل سے بیان کیاگیا، عبادات ، معاملات ، اقامت صلوٰة ، زکوة کے علاوہ تحویل قبلہ ، صومِ رمضان، حج بیت اللہ ، جہاد فی سبیل اللہ ، والدین اورقرابت داروں کے حقوق ، زکوٰة وصدقات کے مصارف ، یتیموں کی کفالت ، عائلی زندگی ،نکاح ، طلاق ، رضاعت ، عدت ، قسم وکفارہ قسم ، جادو، قتل ، قصاص ، حرمت شراب وجوار ، سود اورازدواجی زندگی کے اہم مسائل کو اس سورت میں بیان کردیا گیا۔