جمعة المبارک‘ 16محرم الحرام 1437ھ ‘ 30 اکتوبر 2015ئ

30 اکتوبر 2015

دس ایکڑ پر مشتمل نیا ملک سامنے آگیا، بیس سالہ نوجوان صدر
شاعر نے کہا تھا....
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہر انسان میں اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کی تمنا انگڑائی لیتی ہے اور کبھی کبھی تو انسان سوتے وقت ہی وزیراعظم اور صدر بننے کے خواب دیکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور مخالفین کو للکارتا اور دھاڑتا ہے۔ اس لحاظ سے دس ایکڑ پر مشتمل نئے ملک کا سامنے آنا ہمارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی بڑا بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ آجکل عمران خان وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان پٹھان ہونے کے ناطے اس ضد کو پورا کریں گے زمینی حالات تو ہمیں انکے وزیراعظم بننے کے لئے سازگار نظر نہیں آتے کیونکہ حکمرانوں کے بیرونی سرپرست تو یہ نہیں چاہیں گے کہ کوئی آدمی اپنی انا کو لیکر اس عہدے پر بیٹھے۔ لیکن خان صاحب اس خواب کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ میاں نوازشریف خان صاحب کو بنی گالہ سمیت مارگلہ کی پہاڑیوں کا وزیراعظم بنا دیں۔ ”زاقستان“ تو صرف 10 ایکڑ کا ہے۔ لیکن یہاں پر تو کئی کلو میٹر جگہ ہے۔ اس لحاظ سے خان صاحب کی پرانی آرزو بھی پوری ہو جائے گی۔ اور روز بروز کے دھرنے اور لڑائی جھگڑے بھی ختم ہو جائیں گے اور خان صاحب بھی خوش ہو جائیں گے۔ سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی بچ جائیگی۔ اس نئے ملک کا صدر ایک 20 سالہ نوجوان ہے خان صاحب بھی 62 سال کے جوان ہے۔ حال ہی میں انہوں نے زندگی کی نئی اننگز کھیلنا شروع کی ہے۔ انہیں بنی گالہ اور ملحقہ علاقے کا وزیراعظم بن کر بھی دلی سکون مل جائے گا۔
....٭....٭....٭....٭....
زلزلہ سے بچاﺅ: اطالوی سکول نے اونچی ایڑی کے جوتے اور سینڈلز پہننے پر پابندی لگا دی۔
یہ تو اچھا اقدام ہے۔ لیکن اطالوی حکومت کو زلزلہ کی آمد سے قبل اس کی خبر ملنے کا بھی کوئی فارمولا ایجاد کرنا چاہیے۔ اونچی ایڑی کی جوتی پر پابندی عائد کرنا تو مسئلہ کا حل نہیں۔ زلزلہ تو آناً فاناً آتا ہے۔ تب انسان نہ تو دوڑ سکتا ہے۔ نہ ہی جوتے سنبھالنے کی فرصت ملتی ہے بلکہ تب انسان کو سب کچھ بھول جاتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے موت ہی نظر آتی ہے۔ تب انسان جوتی اور سینڈلز کیا سنبھالے گا۔ اگر اس سے اپنا وجود ہی سنبھل سکے تو بڑی بات ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں بڑی بڑی بلڈنگوں میں ہنگامی راستوں کو یقینی بنانا چاہیے اگر ہو سکے تو بڑے پلازوں کو جاپان کی طرح زلزلہ پروف بنایا جائے اور اس میں کچھ ڈگری تک جھک جانے کی صلاحیت موجود ہونی چاہیے۔ نہ صرف اطالوی حکومت کو عمارتوں کی تعمیر کیلئے ایسا قانون بنانا چاہیے بلکہ پاکستان کو بھی ایسے بلڈنگ قوانین بنا کر ان پر عمل بھی کروانا چاہیے۔ 26 اکتوبر کو اس بات کا احساس ہوا کہ....
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
اطالوی سکول کی انتظامیہ اونچی ایڑی کے جوتے پر پابندی عائد کرے یا پھر کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم پھیلانے کا سلسلہ شروع کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب موت آئی ہو گی تو اسے ایسے روکا نہیں جا سکتا۔
....٭....٭....٭....٭....
فی الحال امن چھوڑیں، باسمتی چاول کو پاکستان سے مل کر بچائیں، بھارتی ادارے کا حکومت کو مشورہ
بھارت کے کسان پہلے ہی خودکشیاں کر رہے ہیں 2014ءمیں دس ہزار کے قریب کسانوں نے حکومتی رویے کے خلاف احتجاجاً موت کو گلے لگایا جبکہ مودی کے گجرات میں تو ہر روز ایک کسان خودکشی کرتا ہے۔ اب بھارتی حکومت کے پاﺅں کے نیچے سے زمین کھینچتی جا رہی ہے مودی کے پاﺅں بھی پھول رہے ہیں۔ کیونکہ چین نے اب پاﺅں پھیلانا شروع کر دیئے ہیں۔
چین نے پہلے الیکٹرانکس کی ایجادات میں مغرب کو شکست دی ہے۔ جدھر بھی آپ جائیں آپ کو چائنہ کی سوئی سے لیکر موبائل تک ہر چیز سستی ملے گی۔ بھارت اب چائنہ سے ڈر گیا ہے کیونکہ چائنہ نے بھارت کی باسمتی چاول پر اجارہ داری ختم کرنیکا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔ چائنہ نے حال ہی میں افریقی ممالک کینیا، تنزانیہ اور ایتھوپیا میں باسمتی چاول کی کاشت کے لئے بڑے کھیت حاصل کر لئے ہیں۔ ان کھیتوں میں وہ چاول کی کاشت کر کے نہ صرف اپنے ملک کی ضروریات پوری کریگا بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی کم قیمت پر باسمتی چاول متعارف کروا کر وہاں اپنا جادو چلائے گا۔ چائنہ کا چاول دیگر چائنہ کی اشیاءکی طرح سستا ہو گا۔ اچھا ہو گا اور بھارتی چاول سے بہتر بھی ہو گا۔ اسی لئے بھارت اب حواس باختہ ہو چکا ہے۔ بھارتی کسانوں کے سر پہلے ہی چکرا رہے تھے اب تو مودی سرکار بھی گھبرا جائے گی۔ بھارت پہلے ہی دو نمبری میں نمبر ون ہے۔ پاکستان کے پرانے گانوں کو چرا کر لالی سے ان کا چہرہ سجا کر مارکیٹ میں لے آتا ہے۔ پاکستان کا مالٹا، آم اور باسمتی چاول نمبر ون ہے۔ لیکن بھارت اسے خرید کر اس پر اپنی مہر لگا کر انہیں مغربی منڈیوں میں فروخت کے لئے پیش کرتا ہے بھارتی کسانوں کے ساتھ ان کی حکومت کا رویہ بقول شاعر کچھ یوں ہے....
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں
بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
سیلاب آئے، زلزلہ آئے یا کوئی آسمانی آفت آئے۔ دہلی سرکار نے تو کسانوں سے پوچھنا تک نہیں اس لئے وہ بددل ہو کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔
....٭....٭....٭....٭....٭....