اب برادر عرب ریاستوں میں پاکستان کیلئے پیدا ہونیوالی بداعتمادی دور کرنے کی کوشش کی جائے

30 اکتوبر 2015

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی چوتھی ٹرم کیلئے ناکامی‘ سفارتی محاذ پر ہماری بدترین ناکامی ہے

پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا دوبارہ رکن منتخب ہونے میں ناکام رہا ہے۔ 47 رکنی اس کونسل میں پانچ ممالک کا ایشیا پیسفک نشستوں پر انتخاب عمل میں آنا تھا جن کیلئے پاکستان سمیت سات ممالک امیدوار تھے اور 193 رکنی یواین جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کونسل کے رکن کے انتخاب کیلئے 97 ووٹ درکار تھے۔ پاکستان گزشتہ 9 سال سے انسانی حقوق کونسل کا رکن تھا اور توقع یہی تھی کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی بہتر سفارتکاری کے نتیجہ میں پاکستان اس بار بھی رکن منتخب ہو جائیگا مگر حیرت انگیز طور پر پاکستان 105 ووٹ لے کر بھی میدان سے باہر ہو گیا کیونکہ منتخب ہونیوالے پانچ ممالک نے کم از کم تناسب سے خلاف توقع زیادہ ووٹ لے لئے تھے۔ ان پانچ نشستوں پر منگولیا نے سب سے زیادہ 172 ووٹ حاصل کئے جبکہ متحدہ عرب امارات نے 159‘ کرغیرستان نے 147‘ جنوبی کوریا نے 136 اور فلپائن نے 113 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی۔ پاکستان اور لاﺅ پیپلز ڈیموکریٹک ری پبلک کو مساوی 105 ووٹ ملے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ارکان کیلئے ہر تین سال بعد انتخاب عمل میں آتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ 9 سال کے دوران مسلسل تین ٹرموں کیلئے کامیابی حاصل کی‘ کونسل کی اگلی تین سالہ ٹرم یکم جنوری 2016ءسے شروع ہو رہی ہے جس کی ایشیا پیسفک کی پانچ نشستوں سمیت خالی ہونیوالی 18 نشستوں پر گزشتہ روز انتخاب عمل میں آیا۔ ایشیاءپیسفک نشستوں کے علاوہ دوسری نشستوں پر جن ممالک کا انتخاب عمل میں آیا ان میں افریقین ریاستیں ٹانگو‘ ایتھوپیا‘ لیوری کوسٹ‘ کینیا‘ برونڈی اور لاطینی امریکہ اور سربین ریاستوں میں سے پانامہ‘ ایکویڈور اور وینزویلا جبکہ مغربی یورپیئن ریاستوں میں سے سوئٹزرلینڈ‘ جرمنی‘ بیلجیئم اور مشرقی یورپیئن ریاستوں میں سے سلوینیا اور جارجیا شامل ہیں۔ اب پاکستان انسانی حقوق کونسل کی اگلی تین سالہ ٹرم سے باہر ہو گیا ہے تو سفارتی محاذ پر اتنی بڑی ناکامی یقیناً اس کیلئے لمحہ¿ فکریہ ہے۔ اس وقت جبکہ ہمارا مکار دشمن بھارت یواین سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہے اور بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج بھارت کیلئے حمایت حاصل کرنے کی خاطر افریقی ممالک تک سے رابطہ کر چکی ہیں جنہوں نے بے شک ابھی تک بھارت کو ووٹ دینے کی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی مگر امریکہ اور اسکے اتحادی دوسرے مغربی‘ یورپی ممالک تو بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر بھارت اپنی بہتر سفارتی کوششوں کی بنیاد پر سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ہماری سلامتی کے درپے ہمارے اس دشمن کے حوصلے مزید بلند ہو جائینگے‘ ہم سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے اس کا راستہ اقوام متحدہ کی رکن عرب‘ خلیجی ریاستوں‘ افریقی ریاستوں اور ایشیائی ریاستوں سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور خطہ میں اسکے توسیع پسندانہ عزائم پر اپنا موقف تسلیم کراکے ہی روک سکتے تھے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن ہونے کے ناطے ہی ہمیں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف اس کونسل میں قرارداد لانے کا موقع ملا جبکہ ہماری اور چین کی جانب سے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی مخالفت بھی اسی جواز کے تحت کی جارہی ہے کہ جو ملک کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے اقوام متحدہ ہی کی قراردادوں سے منحرف ہو رہا ہے اور کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھ کر انکے حقوق پامال کررہا ہے‘ اسے سلامتی کونسل کا مستقل رکن کیسے بنایا جا سکتا ہے جبکہ اس صورت میں وہ ویٹوپاور حاصل کرکے عالمی اور علاقائی امن کیلئے خطرہ بننے والے مسئلہ کشمیر کو کبھی حل نہیں ہونے دیگا۔
اس صورتحال میں تو یواین ہیومن رائٹس کونسل میں پاکستان کا دوبارہ منتخب ہونا اور بھی ضروری تھا کیونکہ سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے معاملہ میں یہی عرصہ ہمارے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب انسانی حقوق کونسل سے باہر ہونے کے باعث نہ صرف اس کونسل میں بھارت کیخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پیش کی گئی ہماری قرارداد پر ہماری پوزیشن کمزور ہو گی کیونکہ اسکی پیروی کیلئے کونسل میں ہماری کوئی نمائندگی ہی نہیں ہوگی بلکہ اس فورم پر ہم سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے بھارت کا راستہ روکنے کی خاطرمو¿ثر لابنگ بھی نہیں کر پائیں گے۔ یقیناً بھارت کو انسانی حقوق کونسل میں ہماری اس مستحکم پوزیشن کا احساس تھا اس لئے اس نے مو¿ثر لابنگ کرکے انسانی حقوق کونسل میں چوتھی ٹرم کیلئے ہمارے انتخاب کا راستہ روک دیا جبکہ ہمارے لئے یہ صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے کہ خلیج تعاون کونسل کی رکن بعض عرب ریاستوں نے بھی ہمیں ووٹ نہیں دیا جس کیلئے یمن کیخلاف فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے پاکستان کے انکار کو جواز بنایا گیا۔
اگر ہم اپنی ناقص خارجہ پالیسیوں کے باعث برادر عرب ریاستوں کے ساتھ بھی دوطرفہ اور خیرسگالی کے تعلقات استوار رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں تو لازمی طور پر بھارت اس کا فائدہ بھی اٹھائے گا جو دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر ہمیں اقوام عالم میں تنہاءکرنے کیلئے پہلے ہی سرگرم عمل ہے۔ اس وقت پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور مداخلت کیخلاف ہمارا کیس یواین سیکرٹری جنرل اور امریکی دفتر خارجہ میں موجود ہے جس کیلئے یواین جنرل اسمبلی کے گزشتہ ماہ منعقد ہونیوالے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہم سفارتی محاذ پر خاصے متحرک نظر آئے اور توقع یہی تھی کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی اپنے طویل اور بیش قیمت سفارتی تجربے کی بدولت اس عالمی فورم پر بھارت کیخلاف پاکستان کے بنیادی ایشو پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑیں گی مگر انکی موجودگی میں پاکستان کا یواین ہیومن رائٹس کونسل سے باہر ہونا انکی ہی نہیں‘ پاکستان کی بھی بدترین سفارتی ناکامی سے تعبیر ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں دفتر خارجہ میں موجود ہمارے عالی دماغوں کو جھنجوڑ کر خود کو متحرک کرنا اور انسانی حقوق کونسل میں ناکامی کے پس منظر کا ٹھوس بنیادوں پر جائزہ لے کر قومی خارجہ پالیسی میں موجود خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنا ہوگا۔ بالخصوص اس معاملہ پر زیادہ توجہ دی جائے کہ ہم برادر عرب اور خلیجی ریاستوں کا کھویا ہوا اعتماد کیسے بحال کرسکتے ہیں۔ اس تناظر میں قومی خارجہ پالیسی کی نئے خطوط پر ازسرنو تدوین کا یہی وقت ہے‘ ہم دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود اسے بھارتی دہشت گردی اور جارحیت کیخلاف اپنے موقف پر قائل نہیں کر سکے اور وہ ہم سے ہی ڈومور کے تقاضے کررہا ہے جس کے باعث وزیراعظم نوازشریف کا دورہ¿ امریکہ بھی بے ثمر نظر آتا ہے تو ہم عالمی فورموں پر بھارتی سازشوں کا کیسے توڑ کر پائیں گے اور اقوام عالم میں کیسے اپنا تشخص قائم کر پائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف کو اس معاملہ میں فوری طور پر امور خارجہ کے ماہرین کی میٹنگ بلا کر ان سے سنجیدہ مشاورت کرنی چاہیے ورنہ بھارت ہمیں عالمی تنہائی کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔