ایران سے مل کر داع جیسے عفریت کا ابتدا میں ہی سر کچل دیا جائے

30 اکتوبر 2015

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ایڈمرل علی شام خانی نے وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ سرتاج عزیز کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران علی شام خانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی اور پرامن حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے۔ انہوں نے پاکستان کو داعش سمیت اس جیسے دیگر دہشت گرد خطرات سے مل کر نمٹنے کی پیشکش بھی کی ۔
خطے میں مسئلہ کشمیر بدامنی کی بڑی وجہ ہے جس سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہے۔ دہشتگردی نے تو پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہوا تھا۔ جس کے خاتمے کے لئے آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ ایک طرف ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں کا خاتمہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف داعش کا فتنہ خطے میں سر اٹھا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل اور دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے دوسرے ممالک کا تعاون بھی ضروری ہے۔ ایران کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی تائید حوصلہ افزاءہے اور ان حالات میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جب بھارت ایران کے ساتھ دوستی اور تعلقات میں قربت کے دعوے کرتا ہے۔ داعش نے شام میں ایرانی فوجی افسر ہلاک کر دیا تھا۔ داعش کے ایران میں دہشتگردی میں ملوث گروپوں سے رابطے ہیں پاکستان میں بھی داعش قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف مل کر نمٹنا وقت کی ضرورت ہے۔ داعش اٹھتا ہوا فتنہ ہے۔ ایران کے ساتھ مل کر اس عفریت کا ابتداءمیں ہی سر کچل دیا جائے۔