سیاسی پارٹیاں جعل سازوں کو ٹکٹ دینے میں محتاط رہیں

30 اکتوبر 2015

سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کی جانب سے این اے 154 سے کامیاب امیدوار صدیق بلوچ کو تاحیات نااہل قرار دینے کا الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمشن کو انتخابی بے ضابطگیوں پر حلقہ میں دوبارہ ضمنی انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔
ٹربیونل نے صدیق بلوچ کو تعلیم میں جعل سازی ثابت ہونے پر تاحیات نااہل قرار دیا اور انتخابی بے ضابطگیوں پر دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا تاہم ٹربیونل کا دوبارہ الیکشن کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما کی تاحیات نااہلیت ختم کی ہے، انکے تعلیمی ریکارڈ پر مہر تصدیق ثبت نہیں کی۔ وہ جس الیکشن میں بھی حصہ لیں گے مخالف امیدوار ان کی تعلیمی اہلیت کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ انکے اور انکے حامیوں کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں کہ وہ ٹربیونل کے سامنے انگریزی کا سوال نامہ ہی نہیں پڑھ سکے تھے۔ ہر پارٹی میں جعلی ڈگریوں والے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پی پی پی، پی ٹی آئی کے ممبران جعلی ڈگریوں پر رکنیت سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ہر پارٹی قیادت ٹکٹ جاری کرتے وقت کم از کم ڈگریوں کے حوالے سے مکمل چھان بین کر لیا کرے تاکہ جعل سازی پارٹی کی بدنامی کا باعث نہ بن سکے۔