ووٹ کا تقدس پامال نہ ہونے دیں

30 اکتوبر 2015

ہمارے ذہنوں میں جو ووٹ کا تصور بٹھایا گیا ہے وہ ووٹ کے ذریعے حصول اقتدار ہے۔ امیدوار عوام کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ہیں۔ عوام بھی آنکھیں بند کرکے برادری، سرمایہ دار، وڈیرے، جاگیردار کو ووٹ دیکر اپنی امیدوں کو اسکے ساتھ نتھی کر لیتے ہیں اور پھر ہر جائز و ناجائز کام میں اپنے امیدوار کو صدا دیتے ہیں۔ وہ تھانے کچہری میں انکی جائز و ناجائز مدد کیلئے سرتوڑ کوشش کرتا ہے۔ الیکشن میں جھوٹ، فریب، خیانت، الزام تراشی، تہمت حتی کے ایمان فروشی تک کو اس قدر داخل کر دیا گیا ہے کہ ووٹر حسب و نسب، پاکدامنی، شرافت، امانت اور دیانت کو پس پشت ڈال کر ووٹ ڈال دیتا ہے۔ پھر امیدوار طاقت کے بل بوتے پر نہ صرف اس میں ڈنڈی مارتے ہیں بلکہ بسا اوقات نتائج بدلنے کی بھی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ ابھی تک وفاق میں امریکہ کی مرہون منت سیاسی جماعتیں اقتدار میں آ رہی ہیں۔ حال ہی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب و سابق ڈپٹی وزیر اعظم چودھری پرویز الہٰی نے انکشاف کیا ہے کہ 2008ء کے الیکشن کے دوران انکے پاس جان کیری کی سربراہی میں ایک وفد آیا اور انہوں نے چودھری شجاعت حسین سے کہا کہ اب کی بار اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کو دینا ہے جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ابھی تک ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج تبدیل کئے گئے ہیں۔ لیکن انکی بات پر کوئی کان نہیں دھر رہا۔ بقول پیپلز پارٹی 2013ء میں پولنگ سٹیشن تو خالی رہے مگر صندوقچیاں اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرتی رہیں۔ ہمارے عوام اپنے لیڈروں کی کہہ مکرنیوں، سیاسی چال بازیوں اور وعدہ خلافیوں کا ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں لیکن اسکے باوجود وہ سیاسی بزر جمہروں کے وعدوں اور جھوٹی تسلیوں کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ بہت سارے ایسے ممبران اسمبلی ہیں جن کے سیاسی نامہ اعمال میں ضمیر فروشی، اقتدار پرستی، لوٹ مار اور مفاد پرستی کے سوا کچھ نہیں لیکن بہت سارے ایسے بھی ہیں جنکے کردار کی اجلی چادر پر خیانت، دھوکہ، فراڈ کا کوئی ایک داغ بھی نہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنکی ڈوریاں امریکا، برطانیہ سے ہلائی جاتی ہیں انکے کان، آنکھیں، دل، دماغ سبھی کٹھ پتلیاں ہیں۔ انکے مالک انہیں جہاں مرضی استعمال کر لیں۔ کچھ کے قلوب و اذہان کی تاریں مکہ اور مدینہ سے جڑی ہوئی ہیں ،عبادت سے لیکر سیاست تک، معاشی اور معاشرتی دوڑ دھوپ تک انکا ہر عمل ایمان کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ہمارے نظام میں بہت ساری خرابیاں ہیں، شاعر مشرق نے بھی کہا تھا کہ…؎
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اس میں عالم اور جاہل، امین اور خائن، نیک اور بد، ڈاکٹر اور اناڑی، انجینئر اور ٹھیکیدار، شیطان اور علامہ کا ووٹ ایک جیسا ہی ہے۔ صدر پاکستان، وزیر اعظم، گورنر، چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ کا ووٹ، مفتی اعظم پاکستان کا ووٹ اور ایک ریڑھی بان مزدور کا ووٹ برابر ہے۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ووٹ‘‘ تین حیثیتیں رکھتا ہے۔ ایک شہادت، دوسرا سفارش، تیسرا مشترکہ حقوق میں وکالت۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب ہے۔ اسی طرح نا اہل، بے دین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت ہے۔ یہ بری سفارش اور ناجائز وکالت بھی ہے۔ اسکے تباہ کن اثرات بھی ووٹر کے نامہ اعمال میں لکھے جائینگے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جس شخص کو ووٹ دیتا ہے گویا وہ اسکے متعلق یہ شہادت دیتا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت رکھتا ہے لیکن اگر انسان جانتے ہوئے ایک فاسق فاجر اور بددیانت کے حق میں گواہی دیگا تو یہ ایک جھوٹی گواہی ہو گی جو گناہ کبیرہ اور دنیا و آخرت میں وبال ہو گی۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ جھوٹی گواہی دینے والا حقیقت میں چار بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ جھوٹ اور افتراء بولتا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے جس کیخلاف گواہی دیتا ہے۔ تیسرا یہ کہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے جسکے حق میں وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے۔ کیونکہ اس نے اسے ایسی چیز کا مالک بنا دیا جس کا وہ حقیقت میں مستحق ہی نہ تھا۔ یوں اس کیلئے دوزخ کی آگ واجب ہو گی۔ چوتھا یہ کہ جھوٹے گواہ نے ایسی چیز کو مباح کرنے کی کوشش کی جسے اللہ نے حرام کیا تھا۔ جھوٹی گواہی سے ظالموں اور خیانت پیشہ لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ عادل اور امین گوشہ نشینی پر مجبور ہو جاتے ہیں ،لہذا کل ووٹ دیتے وقت ہمیں ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر اپنے ووٹ اورگواہی کا استعمال کرنا ہو گا، حکومت کو بھی ٹکٹ دیتے وقت ذرا ان باتوں کا خیال چاہیے تھا۔ لیکن حکومت نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر پیسے اور تعلق داری کو ترجیح دی ہے۔ سیالکوٹ میں میرے بہت پیارے بھائی مبشر لون کیساتھ یہی ہوا۔ وہاں پر مسلم لیگ (ن) نے امانت، دیانت اور شرافت کا قتل عام کر کے غنڈہ گردی، طاقت اور دبدبے کو فروغ دیا ہے ۔ لاہور کا بھی یہی حال ہے۔ جبکہ منڈی بہائو الدین میں تو کمال ہو گیا۔ یہ تو رزلٹ سامنے آئے گا تو (ن )لیگ کو آٹے اور دال کے بھائو کا علم ہو گا۔ شیخوپورہ سٹی سے ایم پی اے عارف سندھیلہ کے ساتھ تو مسلم لیگ نے بڑا ہی ظلم کیا ہے لیکن (ن )لیگ کو صبح علم ہو جائیگا کہ انکے ٹکٹ دینے کا انتخاب کیسا تھا؟ کچھ لوگ دو کشتیوں پر بھی سوار ہیں۔ میرے بہت ہی عزیز دوست حافظ قیصر تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن ہے لیکن اسکی تصویریں مسلم لیگ ن کے امیدوار کے ساتھ لگیں ہوئی ہیں۔ پوچھنے پر بتانے لگے۔ ووٹر پی ٹی آئی کا ہوں لیکن یہ دوست ہیں تو انھوں نے نام لکھ دیا ۔برادرم عامر محمود شاہین جوس والے بھی پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن ہیں لیکن انکی تصویریں (ن) لیگ کے جنرل کونسلر کے ساتھ ہیں، یہ ہوتی ہیں یوسی سطح پر لوگوں کی مجبوری۔ مجبوری اپنی جگہ لیکن کسی سے چھوٹا وعدہ نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب میں لوگ ایسے افراد کو ووٹ نہیں دیتے جن کے دامن پر رشوت، خیانت اور اقرباء پروری کے داغ ہوں، لہذا ہمیں بھی کل 31 اکتوبر کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ کرے ہم ایمان اور مکمل مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر ایسے افراد کا انتخاب کریں۔ جو امانت، دیانت اور شرافت میں سب سے بہتر ہوں۔