ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی بے ضابطگیاں اور شہریوں پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ

30 اکتوبر 2015

محکمہ خزانہ پنجاب نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی لاہور کو ایک اعشاریہ آٹھ ارب کا قرضہ بغیر کسی معاہدے کے جاری کرنے پر مستقبل میں کمپنی کو فنڈز کا اجرا روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو لاہور کی صفائی کا ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کمپنی کی آمد سے شہر میں صفائی کی حالت بہتر نہیں ہو سکی۔ اس کمپنی سے قبل واسا حکام کے پاس صفائی کا شعبہ تھا۔ وہ گلیوں اور محلوں کے اندر جا کر بھی کوڑا کرکٹ اٹھا لیتے تھے لیکن یہ کمپنی صرف مین چوکوں اور چوراہوں سے کوڑا اٹھاتی ہے۔ شہریوں کو گھروں سے کوڑا اٹھا کر ٹاﺅن یا سوسائٹی کے چوک میں کمپنی کی طرف سے رکھے گئے ڈبوں میں پھینکنا پڑتا ہے حالانکہ کمپنی کے پاس جدید مشینری ہے۔ نئی گاڑیاں ہیں لیکن مین سڑکوں سے لیکر ٹاﺅنز کی سڑکوں پر صفائی کا نظام خستہ حال ہی ہے۔ اب کمپنی نے محکمہ خزانہ پنجاب سے پانچ سالوں میں ایک اعشاریہ آٹھ ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے واسا، ایل ڈی اے صفائی کی کمپنی اور پارکنگ کے نام پر ہزاروں افراد کو نوازا ہے۔ بڑے بڑے عہدے تخلیق کر کے انکی بندربانٹ کی گئی ہے۔ اگر حکومت میرٹ پر بھرتیاں کرتی‘ ان ملازمتوں کا باقاعدہ اشتہار آتا اور پھر انٹرویو کے مراحل طے ہوتے اور مزدوروں کو ان کا حق ملتا تو آج کمپنی خسارے میں نہ ہوتی۔ جب میرٹ کی دھجیاں اڑائی جائیں گی تو پھر ایسے ہی کمپنیاں دیوالیہ ہو کر اربوں ڈکار جائیں گی اور قومی خزانے کو چونا لگائیں گی۔