گوادر بندرگاہ - اہمیت اور چیلنجز

30 اکتوبر 2015

پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے۔ دُنیا کے بہت کم ممالک اس طرح کی نعمتوں سے آراستہ ہونگے۔ ان نعمتوں میں معدنیات، ہرقسم کے موسم،زرخیز زمین،قدرتی حسن،محنت کش اور باصلاحیت افرادی قوت اور انتہائی اہم محلِ وقوع شامل ہیں۔ ان نعمتوں کا صحیح استعمال اور قدر کرنا ہمارا اہم کام ہے جو کہ بدقسمتی سے ابتک ہم نہیں کر سکے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے لیکر آج تک تقریباً 70سال میں ہم نے بحیثیت قوم اپنی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے اُسکا صحیح استعمال کر کے ہم دُنیا کیلئے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کے بہت سارے شعبوں میں ہم نے شاندار کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایسا نہ کرسکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خلوصِ نیت کی کمی،قیادت کی ناکامی اور دوراندیشی سے ماوراپالیسیز قرار دی جا سکتی ہیں۔ آج کے دور میں معیشت کو اتنی اہمیت حاصل ہو چُکی ہے کہ اسکی ترقی کے بغیر سلامتی کا تحفظ بھی ممکن نہیں رہا۔ معیشت کی بہتری کیلئے تجارت کا فروغ بُنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ باہمی تجارت کے فروغ میں آبی گذرگاہیں اور اُنکاموثر استعمال ایک اہم عنصر ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہمیں صرف ایک بندرگاہ کراچی ورثے میں ملی اور کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی صرف کراچی ہی ایک واحد بندرگاہ ہے اور ہم نے کوئی دوسری بندرگاہ بنانے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ صوبہ بلوچستان کا اہم ساحلی شہر گوادر ایک ایسی جگہ ہے جسے develop کر کے ایک باقاعدہ بندرگاہ بنایا جا سکتا ہے جو کہ نہ صرف کراچی کا نعم البدل ہے بلکہ استعمال کے لحاظ سے کراچی سے کہیں زیادہ کار آمد اور سودمند بھی ہے۔ ماضی کی تمام حکومتوں نے دعوے ،وعدے اور زبانی جمع خرچ تو بہت کیا مگر عملاً کچھ بھی نہیں کیا نتیجتاً ہم آج بھی ایک دوسری بندرگاہ سے محروم ہیں۔ 2000کے عشرے میں گوادر کی بندرگاہ کو develop کرنے کیلئے ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا مگر بوجوہ کام بہت سست روی کا شکار رہا۔ پھر 2013 کے اوائل میں گوادر کی بندرگاہ کا نظم و نسق ایک معاہدے کے ذریعے باقاعدہ چین کی ایک کمپنی کو دے دیا گیا جس سے یہ اُمید پیدا ہوئی کہ اب شاید گوادر کو ایک باقاعدہ بندرگاہ بنانے کا خواب پورا ہو سکے۔ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں گوادر بندرگاہ پہلے ہی اقتصادی راہداری کی تعمیر سب سے پاک چین اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ جس کی کُل لاگت کا تخمینہ46 ارب ڈالر ہے ہمارے ملک کی تقدیر بدل دیگا۔ گوادر بندرگاہ کی تعمیر اس منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ہماری معیشت میں انقلاب بھرپا ہو جائیگا بلکہ وسطی ایشیاء اور خلیج میں چین کا عمل دخل بھی بڑھ جائیگا۔ ایک اندازے کیمطابق ان وسطی ایشیائی ممالک میں تیل کے 200بلین بیرل سے زائد اور گیس کے 230 ٹریلین مکعب فٹ سے زائد کے وسائل موجود ہیں جنکا استعمال ممکن ہو سکے گا۔ مزید برآں روس بھی اس راہداری سے مستفید ہو سکے گا۔ چونکہ اس ساری ترقی کا براہِ راست فائدہ پاکستان کو پہنچے گا جو کہ ہمارے دُشمن قطعاً برداشت نہیں کر سکتے لہذا اُنکی ہر وقت یہ کوشش ہے کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے کبھی پاکستان کے اندر دہشت گردی کے ذریعے صورتحال کو غیر یقینی بنایا جاتا ہے تو کبھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کیلئے وہاں شورش کو ہوا دی جاتی ہے۔ اس تمام عمل میں ہندوستان کا بنیادی کردار ہے جبکہ اپنے مفادات کی خاطر ہمارے چند دوسرے ہمسایہ ممالک بھی بلاواسطہ طور پراس میں شامل ہیں۔ ایران کے ساتھ ہندوستان کا دفاعی معاہدہ ہے جبکہ ہندوستان ایرانی بندرگاہوں چاہ بہادر اور بندر عباس کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے تاکہ بین الاقوامی پابندیاں اُٹھنے کے بعد ایرانی تیل و گیس کو خطے کے دوسرے ممالک اور پوری دُنیا تک پہنچایا جائے۔ گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور قابلِ عمل ہونے کے بعدان ایرانی بندرگاہ کی اہمیت کم ہو جائیگی۔ اسی طرح کے خدشات اور صورتِحال عمان اور دوبئی کو بی درپیش ہیں لہذا وہ بھی گوادر بندرگاہ کی تعمیر سے خوش نہیں۔ افغانستان میں بڑھتی ہوئی ہندوستانی مداخلت کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہمارے ہمسائے میں حالات اور جذبات کو ہمارے خلاف کیا جائے۔ اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر سے چونکہ امریکہ کے معاشی اور تدویراتی مقاصد پربھی اثر پڑتا ہے اسلئے وہ بھی درپردہ اس طرح کی تمام کاوشوں کو ہوا دیتا ہے جو خطے میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص صورتحال کو غیر یقینی رکھیں۔ اس تمام تناظر میں بحیثیت قوم ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ہمیں اپنی آنکھیں اور کان کھُلے رکھنے چاہئیں تا کہ نہ صرف خطرات کا ادراک کر سکیں بلکہ اُن سے نمٹنے کیلئے بھرپور تیاری بھی کر سکیں۔ ہماری حکومت کی اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ جلد سے جلد مکمل ہو اور گوادر بندرگاہ کو بلا تاخیر قابلِ عمل کیا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے میں بہت سے دوسرے اقدامات کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حالات کا ٹھیک ہونا سب سے ضروری ہے کیونکہ ایسا کئے بغیر اقتصادی راہداری کا منصوبہ قابلِ عمل نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان کے عوام کو ہر لحاظ سے مطمئن کرنا ضروری ہے کہ یہ منصوبہ اُنکی زندگیاں بدل دیگا۔ اُنکا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور Functional ہونے کے بعد مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے جوکہ بالکل حق اور حقیقت پر مبنی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میںمقامی قیادت اور عوام کو اعتماد میں لیکر فوری اقدامات کیے جائیں اور جہاں ضروری ہو قانون سازی بھی کی جائے تا کہ نہ صرف خدشات کم ہوں بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہو۔ پاک فوج کی طرف سے اقتصادی راہداری منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کیلئے حکومت کی ہر ممکن مدد کے عزم کا مسلسل اظہار یقینا بہت سے خدشات کو ختم کر دیگا۔ حکومت کو بالخصوص اور پوری قوم کو بالعموم پوری یکسوئی کیساتھ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دُشمن کی تمام کوششوں کے باوجود گوادر بندرگاہ کوجلد از جلد مکمل کرکے قابلِ عمل بنایا جائے یہ نہ صرف ہماری اقتصادی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی بلکہ قومی وحدت اور یکجہتی کی علامت بھی ہو گی۔ اب ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ زبانی دعوئوں سے زیادہ نیک نیتی سے عملی اقدامات کیے جائیں۔