زلزلوں اور قدرتی آفات کے دوران فلاحی ریاست کا کردار

30 اکتوبر 2015

26اکتوبر 2015 کو رونما ہونے والا خوفناک زلزلہ وطن عزیزکے شمالی حصوں اور بعض دیگر ملحقہ متاثرہ ممالک کیلئے ایک قیامت سے کم نہیں ہے۔ گذشتہ 72 گھنٹوں کے دورانیہ میں ہونیوالی تباہی و بربادی ذرائع وابلاغ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ہے دنیا کے سامنے پیش کرد ی ہے ۔ تادم تحریر تقریباً400اموات اور ہزاروں زخمیوں کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں سڑکوں شہروں دیہاتوں اور پہاڑوں کی بلندی پر واقع جان و مال و دیگر مکانات کی تباہ کاری کا پورا تخمینہ مکمل ہونے تک وسیع اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ کی نوعیت کے باعث وقت لے گا۔ گذشتہ 4روز کی اخباروں میں اس عظیم قومی سانحہ کی کپکپا دینے والی درد ناک تفصیلات ایسی حکایت خوں چکاں ہے جس کو بیان کرنے سے میرا قلم قاصر ہے۔گذشتہ 10برس پہلے 8اکتوبر 2005ء کو بھی صبح تقریباً 9بجے آزاد کشمیر میں مظفر آباد کے قریب ایک ایسا ہی زلزلہ رونما ہوا جس کی یاد آج بھی اس زلزلہ کے متاثرین کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے میں لاہور میں تھا اور 24گھنٹوں کے اندر 9اکتوبر کو مجھے اسلام آباد سے جنرل ندیم احمد کا ٹیلی فون آیا کہ زلزلے کا جائزہ لینے کیلئے میں صحافیوں کی ایک ٹیم لیکر 10اکتوبر2005 صبح ساڑھے دس بجے چکلالہ ایئر بیس پر پہنچوں جہاں سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر ہمیں تمام متاثری علاقوں کا فضائی اور زمینی دورہ کرائے گا۔ تاکہ قوم کو ذرائع و ابلاغ کے ذریعے حقیقت حال سے روشناس کیا جا سکے۔ جنرل ندیم احمد ہمارے استقبال اور ابتدائی بریفنگ کیلئے چکلالہ ائیربیس پر بذات خود موجود تھے جب ہم نے بالا کوٹ مانسہرہ مظفرآباد اور باغ کا دورہ کیا تو ہر جگہ فوجی دستوں کو ریسکیو اور ابتدائی ریلیف کے کام میں مصروف پایا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ 10برس پہلے بھی زلزلہ کے ابتدائی مرحلہ میں سب سے پہلے افواج پاکستان ہی حرکت میں آئیں تھیں اور اسکے بعد پوری پاکستانی قوم نے بھر پور انداز میں زلزلے کے چیلنج کا مقابلہ کیا اور اس مشکل امتحان کے دوران پاکستان کے دوست بیرونی ممالک نے بھی حتی المقتول امداد مہیا کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔
میرے ذاتی خیال میں اور میرے وفاقی حکومت میں اعلی ترین سطح پر منصوبہ بندی میںشامل رہنے کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں ایسی آفات سے نمنٹنے کی ذمہ داری وفاقی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سپرد ہے جس کی ایک 22گریڈ کا ڈائریکٹر جنرل/سیکرٹری سربراہی کرتا ہے کچھ فنڈ کچھ عملہ نا ہونے کے برابر مشینری و دیگر وسائل اور کچھ ذاتی استعمال کی گاڑیوں کے علاوہ زلزلہ جیسی قیامت نازل ہونے پر بند سڑکوں کوکھولنے ملبے تلے دبے لوگوں کی ریسکیو کرنے اور متاثرہ لوگوں کو ریلیف مہیا کرنے اور مشینری کے ذریعے ملبہ کو ہٹانے کے کوئی ذرائع نہیں ہیں جہاں تک Rehabilitation کا تعلق ہے یہ تو بعد کی بات ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ نئے بالاکوٹ شہر کی تعمیر نا ہونااتنی بڑی ٹریجڈی ہے جتنا کہ زلزلہ کی قیامت برپا ہونا صوبائی سطح پر بھی ایک محکمہ بنام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کر کے حکومت اپنی ذمہ داری سے اپنے آپ کو فارغ سمجھتی ہے اور اس صوبائی محکمہ اور اس کے آفیسران کی کیفیت بھی وفاقی سطح کے محکمہ سے مختلف نہیں ہے18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ایسی آفات سے نمنٹنے کے لیے جو محکمہ بنایا گیا ہے اسے دیکھ کر غالب کا یہ مصرعہ یاد آتا ہے…ع
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
حقیقت یہ ہے کہ ایسی آفات سے نمٹنے کیلئے حکومت کے کئی محکمے اور بالخصوص پوری قوم کا تعاون اور عملی جذبہ حرکت میں آنا ضروری ہے محض نیشنل اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دو محکمے ایک قومی سانحہ سے نمٹنے کیلئے ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
اس سلسلہ میں قومی و صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کر کے قومی سطح پر مختلف محکموں اور معاشرے کے بعض حصوں خصوصی طور پر نوجوان نسل اور طالب علموں کو ایسی آفتوں سے نمٹنے کیلئے شعبہ تعلیم کے نصاب میں ہدایات شامل کی جائیں طالب علموں کو میٹرک سے لیکر بی اے کی ڈگری تک ٹریننگ میں شامل کیا جائے اور محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت محکمہ تعمیرات محکمہ شوشل ویلفیئر اور دیگر مناسب محکموں کو ایک ایسے قومی CADRE میں پرویا جائے جسکے نتیجے میں زلزلہ آنے کی صورت میں تمام علاقوں میںمتعلقہ تمام محکمے اور شہری آبادی ریسکیو ریلیف فرسٹ ایڈ اور ابتدائی ریلیف مصروف ہو جائے۔ ریسکیو ورک اور ریلیف میں ہر سطح کے سکول کے استاتذہ اور طالب علم ایک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اس سلسلہ میں راقم محترمی پروفیسر احسن اقبال وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ریفارمز کی توجہ ان کے تازہ ترین پروگرام ینگ ڈویلپمنٹ کور (YDC) کی طرف دلانا چاہتا ہوں جو وزیراعظم کے ویژن 2025 کا ایک حصہ ہے جس میں نوجوان نسل کو ملک کے اقتصادی اور ترقیاتی وشوشل ویلفیئر پرجیکٹس میں شعور پیدا کرنا اور اس طرح پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہے اس YDCپروگرام میں راقم کی مندرجہ بالا سفارشات کو بھی شامل کرکے اس پروگرام کو یونیورسٹیوں سے باہر بھی وسعت دی جائے۔سب سے آخر میں سب سے ضروری سفارش یہ ہے کہ زلزلہ کی قیامت برپا ہوتے ہی متاثرین اپنے گھروں سے محروم ہو کر سر پر چھت کی تلاش میں خیمہ بستیوں کے محتاج ہو جاتے ہیں اور یہ سہولت فوری طور پر میسر آنا ممکن نہیں ہے اس لئے میری تجویز ہے کہ اب جب کے یہ کوئی راز کی بات نہیں رہی کہ پاکستان کے بعض علاقے جغرافیائی طور پر واقع ہونے کی وجہ سے FAULT LINE پر ہیںجہاں بار بار زلزلے آنے کا خدشہ ہے اس لیے اگر حکومت سنجیدگی سے ایسے تمام علاقوں میں چند بڑے بڑے ہال کمرے تعمیر کروا دے جن کیساتھ SANITATION کا بھی انتظام ہو تو پر امن اوقات میںکئی طرح کی فلاحی سکیم اور پروجیکٹ وجود میں لائے جا سکتے ہیں جن سے معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں مدد ملے اور زلزلہ کی صورت میں ایسے شیڈ یا ہال کمرے متاثرین زلزلہ کی فوری رہائش کے کام آ سکتے ہیں۔