بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

30 اکتوبر 2015

قوموں کی بیداری جب نصیحت اور وعظ سے ناممکن ہو جائے تو خدا کی خفیہ تدبیر اپنی حرکت شروع کر دیتی ہے۔ یہ خفیہ تدبیر بلائوں اور مصائب کا ایک طوفان بلاخیز لے اٹھتی ہے۔ گرفت سخت سے سخت ہو جاتی ہے اور بھاگنے کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ فطرت کی کڑی سزائیں ایک اندھے مصیبت ناک اژدھے کی طرح بہت ہی بے رحم ہو جاتی ہے۔ عشرت، تعیش اور آسودہ زندگی ایک قصہ پارینہ اور انجانا سا خواب دکھائی دیتی ہے۔خدا کے ہاں ظلم کے رواج کو بہت ہی غضبناک آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ظلم کی پرورش پر خدا کا عذاب ناقابل معافی تیور لے کر برستا ہے۔جھوٹ، مکر، چالاکی اور ظلم کے چلن کو عام کرنے سے معاشروں میں کب چین کا رواج ہوا ہے۔ یتیموں اور مسکینوں کا مال کھا کر کب کسی کو آسودہ قبر نصیب ہوتی ہے۔ بیوائوں کو خود سوزی پر مجبور کرنے والے دور میں کس سطان وقت کو نرم بستروں پر آرام کی نیند نصیب ہوتی ہے۔ خدا کو اپنے بندوں اور ضعیف بندوں سے بہت پیار ہے۔ کسی مسکین پر ظلم ہو تو عرش ایسے ہل اٹھتا ہے۔ لوگوں پر اور بے بس لوگوں پر اپنی مرضی اسلئے مسلط کرنا تاکہ انکے مال اور اسباب کو حیلہ و مکر کے ذریعے سے غضب کر لیا جائے۔ خدائی قانون کی نظر میں نہایت بڑا جرم ہے۔ یتیموں کے مال کو اپنی تمنائوں کے مصرف میں لانا بھی پیٹ کی دوزخ کو انگاروں سے بھرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
بدکاری اور فحاشی جب درندگی کی حدوں سے بھی بڑھ جائے تو خدائی غضب میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے اور زمینوں سے انکی برکات پیداوار واپس لے لی جاتی ہیں کسی بھی آسمانی بلا سے انسانوں کو سزا کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔جب عزت نفس چند ٹکوں کے بدلے میں برسر بازار نیلام ہونے لگے تو خالق کو بھی کسی کی عزت اس درجہ عزیز نہیں ہوتی جس درجہ کسی مومن کامل کی عزت ہوا کرتی ہے۔ حکمران تو اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمت اقتدار کے امین ہوا کرتے ہیں۔ اقتدار میں محض نفس و شعور کی لطف اندوزی نہیں ہوتی بلکہ اس میں تو راتوں کی نیند اور دن کا چین بے کس اور بے سہارا کمزور و ضعیف عوام کیلئے وقف کرنا ہوتا ہے۔ قوم کے مال سے بھر جانیوالے بیت المال کی حفاظت بھی حکمران ہی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ قوم کے بچے بوڑھوں اور عورتوں کی دیکھ بھال بھی حکومت کے فرائض اولین ہی میںشامل ہے لیکن حکمران تو اپنے اردگرد ایسے فنکاروں کا مجمع لئے بیٹھے ہیں جو غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے جمع ہونیوالے ٹیکسوں پر اپنے اپنے نام کا حصہ بانٹتے ہیں اور فنکارانہ حساب داری سے ملک کی دولت کو بیرون ملک منتقل کرتے ہیں پھر دوبارہ آ کر اخلاق، تعلیم اور مذہب کا نعرہ لگا کر قوم کو اندھا، بہرا کرنے کے بعد لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ان کو جھنجھوڑنے والے خود ان سے بھتہ وصول کر کے سو جاتے ہیں۔جب محتسب بھی سو جائے اور کوتوال ڈاکوئوں کا سرپرست بن جائے اور منصف کی آواز اقتدار کی بدمست فضاء میں تماشائے جدید کی نذرہو جائے تو پھر معاشرہ درندگی کی حدوں سے پار ہو جاتا ہے۔ خدا کی لاٹھی گھومنا چاہتی ہے۔
بے وقت کی بارشیں، سیلاب کی آفات، طوفانوں کی تباہیاں اور زلزلوں کی ناقابل برداشت سزائیں اپنا راستہ خود متعین کرتی ہیں۔ آسمانی بلائوں کو دعوت دینے کیلئے ہم سب اپنی اپنی جگہ پوری طرح سے ذمہ دار ہیں۔ گزشتہ دنوں سیلاب کی تباہ کاریوں نے نہ میدان کو بخشا اور نہ ہی پہاڑ کو اپنی زد سے بری کیا۔ وہ تو ایک سزائے مستقل کاریلہ تھا جس میں شمال سے لیکر جنوب کے آخر تک تباہی تھی بربادی تھی اور غلہ و اناج میں نقصان تھا۔ آفات آسمانی کے آگے تو کسی طرح کا بند باندھنا کبھی بھی انسانی کوششوں سے ممکن ہوا ہے اور نہ ہی کبھی ہو گا بے ایمان اور بدکردار ضمن داروں نے اپنی زمینوں کو بچانے کیلئے دریائوں کے حفاظتی بند تڑوا دیئے تھے اور پھر بے زر کسانوں کی جمع پونجی خدائی عذاب کی زد میں آگئی ڈھور ڈنگر سیلاب کا لقمہ تر بن گئے۔ نجانے کتنی ہی انسانی جانیں خدائی آفت کا شکار ہو گئی تھیں۔
ہم اور ہمارا کردار اتنا مایوس کن ہے کہ فطرت ہمارے لئے تبدیلی کا جہاں پیدا کر رہی ہے حالیہ زلزلہ اس جانب سے جگانے کا اور جھنجھوڑنے کا ایک تازیانہ تھا اور یہ بتانا مقصود تھا کہ عوام اور حکمران اپنی روش فاسقانہ اور ادائے ظالمانہ ترک کر دیں اور اپنے خالق کی بارگاہ میں اپنی خطائوں کا اعتراف کریں تاکہ اسکی رحمت متوجہ ہوں اور ہم ابن آدم کا کردار ادا کرنے کے اہل ہو جائیں۔ اسی معبود لاشریک اور اسکے رسول اکرمؐ کی یاد کو اپنے فکرو عمل کی بنیاد بنائیں کلمہ حق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہؐ کو اپنے فکر، ذکر، عمل اور لائحہ عمل قرار دیکر توبہ کی طرف پلٹ جائے جب زلزلہ برپا ہوا تو لوگ خوف کے مارے کلمہ طیبہ کا ذکر کر رہے تھے گویا وہ سب کچھ بھول کر خدا کو یاد کرنے لگے تھے اس لئے کہ یہ بلا ٹل جائے اور اگر موت بھی آئے تو کلمے پر ہی ہمارے آخری سانس ختم ہوں۔ یاد کلمہ تو مصائب کو ٹالتی ہے ہم کلمہ محض ایسے مواقع پر ہی کیوں پڑھتے ہیں۔ ہر روز کیوں نہیں پڑھتے تاکہ روزانہ کے مصائب اور بلائوں کے مقابلے کیلئے ذکر کلمہ ہماری ڈھارس بن جائے۔ ہمارے یقین کے استحکام کو مزید بڑھاتے ذکر ہی فکر کو روشن کرتا اور روشن فکر ہی عمل کو یقین کی نعمت عطاء کرتا ہے۔ یقین کی نعمت ہی کردار کو بلندی اور عزائم کو موت عطاء کرتی ہے۔
میں نے ایک دانشمند روحانی سے پوچھا کہ قوم کیا کرے تو اس نے جواب دیا کہ حالات کی پرواہ کئے بغیر دین و دنیا کی اصل کلمہ طیبہ سے اپنے آپ کو وابستہ کر لو۔ زلزلے رک جائیں گے۔ طوفان تھم جائیں گے اور شیطان ناکام ہو جائیں گے ظالم حکمران چلے جائیں گے۔ ان کی اولادیں برکت سے محروم ہو کر ان کی دشمن بن جائیں گی بس تیرے لئے تو…؎
یہ نغمہ فضل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ