اوورسیز پاکستانیز کی خدمت مسلم لیگ (ن)کا عزم f

30 مارچ 2018

کیپٹن شاہین بٹ کو سینیٹر منتخب ہونے پر کیپٹن عاصم ملک نے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا


دنیا بھر میں اوورسیز پاکستانیوں کی صلاحیتوں کو مانا جا رہا ہے اور وہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک کے علاوہ مڈل ایسٹ میں بھی ان کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے، اوورسیز پاکستانیز کمشن کے کوآرڈینیٹر کیپٹن عاصم ملک جو دبئی میں مقیم ہیں حال ہی میں پاکستان آئے اور انہوں نے نومنتخب سینیٹر کیپٹن شاہین بٹ سے بھی ملاقات کی اور ان کو ایوان بالا کا رکن منتخب ہونے پر نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آپ جیسے مخلص ساتھیوں پر جس اعتمادکا اظہار کیا وہ قابل تعریف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما بھی چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیز کے مسائل کو ہر ممکن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔ کیپٹن عاصم ملک نے وادی کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کو کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اس لئے پاکستان کبھی کشمیر سے سے دستبردار نہیں ہوسکتا، بھارت معصوم کشمیریوں پر جو انسانیت سوز مظالم کر رہا ہے، اور اس نے سات لاکھ سے زیادہ مسلح فوج مقبوضہ کشمیر میں اتاری ہوئی ہے پھر بھی کشمیریوںکے جذبہ حریت کو سرد نہ کرسکی ، مقبوضہ کشمیر میں معصوم بچوں خواتین، جوانوں اور بزرگوں پر انڈین فورسزجو مظالم کر رہی ہے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی اور امن کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اور پاکستانی عوام کشمیریوں کے حق خودارادیت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کو کسی بھی موقع پر تنہا نہیں چھوڑیںگے، ان کی جدوجہد کے نتیجہ میں عالمی ضمیر بھی بیدار ہو رہا ہے یورپی ممالک میں ’’کشمیر فری‘‘ موومنٹ کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا کی مہذب قوموں تک پہنچ رہی ہے۔ کیپٹن عاصم ملک کے مطابق مڈل ایسٹ میں مقیم پا کستانیوں نے تیئس مارچ 1940ء کے قرار داد پاکستان کے دن کو ہرسال کی طرح جوش و جذبہ سے منایا ،اوورسیز پاکستانیز یہ دن جس جوش و خروش سے مناتے ہیں جس سے دیار غیر میں رہنے والوں کے ساتھ وہاں مقیم سب کو اس دن کی اہمیت سے آگاہی ہو جاتی ہے ،کیونکہ یہ وہ تایخ ساز دن ہے جب علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر کی صورت عملی اقدام کیا گیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ صر سات سال بعد پاکستان معرض وجود میں آیا تھا ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب متحد اور ایک آواز ہوں اور دنیا کو بتادیں کہ ہم زندہ قوم ہیں