چھ ہفتوں کا احتجاج: اسرائیلی فائرنگ سے آٹھ فلسطینی  شہید اور 350 زخمی

30 مارچ 2018 (22:24)

غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے چھ ہفتے پر مشتمل احتجاج کے آغاز میں اسرائیلی سرحد کی طرف مارچ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے چھ مقامات پر 'بلووں' کی خبر دی ہے اور کہا ہے کہ اس نے 'مرکزی اشتعال کاروں' پر فائر کیا ہے۔فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فائرنگ کے باعث کم از کم آٹھ افراد  شہید اور 350 زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ کے ساتھ پانچ مقامات پر 17 ہزار فلسطینی جمع ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوے کو روکنے کے لیے جس میں ٹائروں کو آگ لگائی جا رہی ہے فوجی صرف ان پر فائر کر رہے ہیں جو دوسروں کو ترغیب دے رہے ہیں۔فلسطینیوں نے سرحد کے قریب پانچ مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کیے ہیں۔ انھوں نے اس مارچ کو 'واپسی کے لیے عظیم مارچ' کا نام دیا ہے۔فلسطینی میڈیا نے کہا کہ سرحد پر سات ہزار لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔اسرائیل کے آئرن ڈوم نے دس لاکھ ڈالر کے میزائل غلطی سے داغ دیے،فلسطینی محکمہ صحت کے حکام اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گولہ باری کے باعث ایک فلسطینی کسان ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔ترجمان کے مطابق یہ کارروائی جمعے کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے کے قریب ہوئی ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق پانچ افراد اسرائیلی شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ آنسو گیس بھی پھینکی گئی ہے۔دوسری رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد 50 کے قریب بتائی گئی ہے۔فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی سرحد کے ساتھ چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے مظاہروں کی کال کے بعد سے اس علاقے میں حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے کسان اور زخمی ہونے والا شخص کھیتوں میں موجود تھے کہ ٹینکوں سے کی جانے والی شیلنگ کی زد میں آ گئے۔دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر ایک کسان کو مار کر فلسطینیوں کو ڈرانے کا الزام لگایا ہے تاکہ وہ ان مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔