کپتان کی حکومت خیبرپختونخوا میں کھیل کے میدان دینے کا وعدہ پورا نہ کر سکی

30 مارچ 2018 (22:10)

کپتان کی حکومت خیبرپختونخوا میں ہر تحصیل میں پلے گرائونڈ دینے کا وعدہ نہ پورا کر سکی جبکہ صوبہ پنجاب میں پانچ سالوں کے دوران درجنوں پلے گرائونڈز، بین الاقوامی معیار کے سٹیڈیم، جمنیزیم تعمیر کر کے نوجوانوں کے لئے بین الاقوامی معیار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔صوبائی وزیر کھیل و امور نوجواناں جہانگیر خانزادہ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں نوجوانوں کو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ کھیلوں کا شاندار انفراسٹرکچر اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کے بہترین مواقع مہیا کئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں لاہور، راولپنڈی، ملتان، سرگودھا، گوجرانوالہ، ڈی جی خان، بہاولپور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 14 سے زائد بین الاقوامی معیار کی سہولیات جن میںسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اور ہاکی سٹیڈیمز، سوئمنگ پول، ٹینس کورٹ، جمنیزیم اور پلیئر ہوسٹلز شامل ہیں مہیا کیں۔ ضلعی سطح پر کھیلوں کے فروغ کے لئے گوجرانوالہ نوشہرہ ورکاں میں سپورٹس ہال، سیالکوٹ میں ہاکی سٹیڈیم، رحیم یار خان، قصور، ساہیوال، شیخوپورہ میں سپورٹس سٹیڈیمز، لاہور میں رورا، بابا، گوالا، روازگارڈن، بدوکی، اصیل سلیمان، سٹرائچ، چشتیاں اور ھالوکی گائوں میں پلے فیلڈز جبکہ سگیاں میں کرکٹ گرائونڈ ، گوجرانوالہ میں منی سپورٹس کمپلیکس اور سٹیڈیم، وہاڑی، چکوال، جہلم، میانوالی، جھنگ، ننکانہ صاحب، حافظ آباد، گجرات، اوکاڑہ، لودھراں، لیہ، بہاولپور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، منڈی بہائوالدین، راجن پور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، سمندری، تاندلیانوالہ، وہاڑی، حافظ آباد، خیرپور، کالرکوکٹ، جامپور، بوریوالہ اور میلسی سمیت مختلف اضلاع میں 75 سے زائد پلے فیلڈز، 34 جمنیزیم اور کھیلوں کے لئے عدم موجود سہولیات مہیا کی گئیں ہیں۔ سپورٹس سے متعلقہ بین الاقوامی معلومات کی فراہمی اور ٹریننگ کے دوران رسمی تعلیم میں آسانی کے لئے راولپنڈی، اٹک، سرگودھا، میانوالی، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال، اوکاڑہ سمیت 18 اضلاع کے مختلف پارکس میں ای لائبریریاں قائم کی گئی ہیں۔ پنجاب کے 12 اضلاع میں تحصیل کی سطح کے گرائونڈز کی اپ گریڈیشن، 24 اضلاع میں تحصیل اور کمیونٹی لیول کے سکولوں میں پلے گرائونڈز اور کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی جن میں کھیلوں کا سامان بھی شامل ہے اور مقامی کھیلوں کے فروغ کے لئے موزوں انفراسٹرکچر حکومت پنجاب کی نمایاں کامیابی ہے۔ پھر اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی آمد اور PSL جیسے ایونٹس کی راہ ہموار کرنے والا بھی کویوٹرن خان نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھنے والا خادم اعلیٰ ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب نوجوانوں اور خواتین کو ترقی کے دھارے میں شامل کر کے اپنی گنجان آبادی کو اپنی کمزوری کی بجائے طاقت بنا رہا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ کھیل و امور نوجواناں بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کو بھی ہر طرح کے کھیلوں کی سہولیات، ان ڈور گرائونڈز، ای لائبریریاں اور تربیت اور ملازمت کے یکساں مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پنجاب کی بیٹی قانونی اعتبار سے اتنی مضبوط اور بااختیار ہو چکی ہے کہ کوئی تعلیم اور کیل سمیت اسے اس کے کسی حق سے محروم نہیں کر سکتا۔