ایون فیلڈ ریفرنس: نیب کے گواہ واجد ضیا پر سخت جرح کا سلسلہ جاری رہا

30 مارچ 2018 (20:22)

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو ( نیب )کی جانب سے دائر ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیا پر تیسرے روز بھی جرح کا سلسلہ جاری رہا۔وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران پاکستان مسلم لیگ ((ن)کے تاحیات قائد نواز شریف، ان کی صاحبزدای مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر بھی پیش ہوئے۔دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب گواہ واجد ضیا پر جرح کیا، اس دوران نیب پراسیکیوٹر جنرل مظفر عباسی اور خواجہ حارث کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔اس دوران واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے تفتیش شروع کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں اور جوابات کا جائزہ لیا اور شریف خاندان کے جواب میں جیرمی فرم مین کا خط موجود تھا۔ واجد ضیا نے بتایا کہ جیرمی فری مین نے ٹرسٹ ڈیڈ درست ہونے کی تصدیق کی تھی جبکہ ہم نے براہ راست جیرمی فری مین سے رابطہ نہیں کیا تھا۔دوران سماعت انہوں نے بتایا کہ جیری فری مین سے خط و کتابت جے آئی ٹی نے براہ راست نہیں کی بلکہ اس کام کے لیے برطانیہ میں سولیسٹر کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جرح کے دوران واجد ضیا کا کہنا تھا یہ بات درست ہے کہ جیری فری مین نے تصدیق کی کہ حسن نواز نے 2 ٹرسٹ ڈیڈ پر 2 جنوری 2006 کو دستخط کیے اور جیری فری مین اس ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کے گواہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ نیلسن اور نیسکول سے متعلق تھی، جس پر خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نے جیری فری مین کو لکھا کہ تمام دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پاکستان آ کر اپنا بیان دے؟ جس پر واجد ضیا نے بتایا کہ جیری فری مین کو پاکستان آنے کا نہیں کہا تھا۔سماعت کے دوران خواجہ حارث کی جانب سے گلف اسٹیل مل پر بات کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق گلف اسٹیل مل دبئی میں کب قائم ہوئی؟اس پر واجد ضیا نے بتایا کہ ہماری تفتیش اور دستاویزات کی روشنی میں گلف اسٹیل مل 1978 میں بنی، جس پر خواجہ حارث نے سوال کیا کہ 1978 کے شیئرز سیل کنٹریکٹ دیکھ لیں کیا آپ نے ان کی تصدیق کرائی۔خواجہ حارث کے سوال پر واجد ضیا نے کہا کہ گلف اسٹیل مل کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی، اس پر خواجہ حارث نے جرح کیا کہ اگر آپ نے تصدیق نہیں کرائی تو کیا آپ اس کنٹریکٹ کے مندرجات کو درست تسلیم کرتے ہیں،اس دوران واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے گلف اسٹیل مل کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کیا۔عدالت میں جرح کرتے ہوئے خواجہ حارث نے پوچھا کہ 14اپریل 1980 کو حالی اسٹیل مل بنی کیا آپ نے اس کے مالک سے رابطہ کیا، جس پر واجد ضیا نے کہا کہ گلف اسٹیل مل کے بعد حالی اسٹیل مل بنی لیکن ہم نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔خواجہ حارث نے مزید پوچھا کہ کیا آپ نے اسٹیل مل کے معاہدے کے گواہ عبدالوہاب سے رابطہ کیا، جس واجد ضیا نے جواب دیا کہ نہیں ان سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا، گواہ نمبر 2 محمد اکرم سے رابطہ کیا لیکن وہ اس پتے پر موجود نہیں تھے۔دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پوچھا کہ اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھیجنے والا خط آپ نے دیکھا، جس پر نیب کے گواہ نے کہا کہ جی جے آئی ٹی نے وہ خط دیکھا تھا۔خواجہ حارث نے جرح کی کہ جے آئی ٹی کے جلد 3 میں جو خط لگا ہوا ہے اس کے مطابق اسکریپ دبئی نہیں بلکہ شارجہ سے جدہ گیا؟ اس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اسکریپ شارجہ سے جدہ گیا۔سماعت کے دوران خواجہ حارث نے مزید پوچھا کہ خط کے مطابق وہ اسکریپ نہیں بلکہ استعمال شدہ مشینری تھی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے واجد ضیا نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اسکریپ نہیں بلکہ وہ استعمال شدہ مشینری تھی۔اس موقع پر خواجہ حارث نے جرح جاری رکھتے ہوئے سوال کیا کہ جے آئی ٹی نے دبئی اتھارٹی کو ایم ایل اے بھیجا کہ شارجہ سے جدہ اسکریپ بھیجنے کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا گیا۔ واجد ضیا نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے کسی بینک کو 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشن کے ریکارڈ کے لیے نہیں لکھا، منسٹری آ ف جسٹس کے خط کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ1980 کا خط جعلی ہے۔دوران سماعت واجد ضیا اور خواجہ حارث میں مکالمہ بھی ہوا، اس دوران واجد ضیا نے کہا کہ آپ مجھے ہدایت کر رہے ہیں، آپ مجھ سے سوال کریں۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ کی میری کوئی لڑائی ہے، جس پر واجد ضیا نے کہا کہ آپ کا یہ پیشہ ورانہ کام ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ آپ میرے کنڈکٹ سے ناخوش ہیں، جس پر واجد ضیا کا کہنا تھا کہ نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت پیر 2 اپریل کی صبح تک ملتوی کردی۔
#