میں ملک کا فریادی  بن کر چیف جسٹس کے پاس گیا تھا ،امید ہے وہ بات سمجھیں گے، نیب کی عدالت سے کوئی انصاف کی توقع نہیں: شاہد خاقان عباسی

30 مارچ 2018 (19:06)

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ میں چیف جسٹس کے پاس پاکستان کا فریادی بن کر گیا تھا اور امید ہے کہ وہ بات کو سمجھیں گے۔   چیف جسٹس سے میری ملاقات کو مخالفین جس طرح اچھال رہے ہیں ،وہ ان کا کام نہیں ،ملکی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں، سینٹ کے الیکشن میں جس طرح خریدو فروخت ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی ، آج ہمیں اس برائی کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اور اسے جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سینیٹ وفاق کی نمائندگی کرتی ہے جتنے فنڈز سندھ کے پی کے کو ملے اتنے  ہی پنجاب کو ملے، ملک اور ملک کے باہر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ترقی کا سفر کسی صوبے میں ہو رہا ہے تو وہ پنجاب ہے، نواز شریف کے مشن کو لے کر چل رہے ہیں ،شاہیوں کے شہر میں آ کر بے پناہ خوشی ہوئی ، نیب کی عدالت سے کوئی انصاف کی توقع نہیں ،گالی گلوچ کی سیاست جولائی میں ختم ہو جائے گی ، الیکشن میں مسلم لیگ ن اس سے زیادہ سیٹیں لے کر حکومت میں آئے گی ۔سرگودھا میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی   کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے میری ملاقات کو مخالفین جس طرح اچھال رہے ہیں ،وہ ان کا کام نہیں ہے، میں ملک کا فریادی  بن کر چیف جسٹس کے پاس گیا تھا ،ملکی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں، سینٹ کے الیکشن میں جس طرح خریدو فروخت ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی ،جتنے فنڈز سندھ کے پی کے کو ملے اتنے لی پنجاب کو ملے، ملک اور ملک کے باہر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ترقی کا سفر کسی صوبے میں ہو رہا ہے تو وہ پنجاب ہے، نواز شریف کے مشن کو لے کر چل رہے ہیں ،شاہیوں کے شہر میں آ کر بے پناہ خوشی ہوئی ہے ،خوشی اس بات کی ہے کہ ہمیں اللہ نے موقع دیا نواز شریف کو موقع دیا ،صرف سرگودھا میں نہیں پنجاب میں نہیں پاکستان میں جہاں بھی جائیں پاکستان مسلم لیگ کے کام آپ کو ملیں گے ۔جب یہ حکومت آئی تو مسائل آپ کے سامنے تھے نہ مشرف نے کوئی کام کیا،نہ آصف زرداری نے کوئی کام کیا ،نہ ملک میں بجلی تھی نہ سڑکیں تھی، جب یہ حکومت آئی پاکستان 10 لاکھ ٹن کھاد باہر سے منگوایا کرتا تھا،پاکستان میں گیس نہیں تھی بجلی نہیں تھی،سرگودھا میں جو گیس کے کام ہو رہے ہیں وہ 11 ارب روپے کے ہیں ،جب وزیرپٹرولیم بنا تو نواز شریف نے کہا کہ پہلے گیس کا بدوبست کریں پھر پائپ لائن بچھوائیں ،سوئی نادرن کی محنت سے گیس کی مشکلات نہ ہونے کے برابر تھی اس منصوبہ کے بعد سرگودھا میں کبھی گیس کی کمی نہیں ہو گی تین گناہ سے زیادہ گیس سرگودھا میں آئی گی اس پر 50 کروڑ روپے خرچ ہوئے، سرگودھا میں 11 ارب کے کام جاری ہے گیس ،سڑکیں دکھیں ،سکول کالج دیکھیں آپ کو مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے کام نظر آئیں گے ۔مسلم لیگ ن عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کرتی ہے اس سے پہلے جو حکومت تھی وہ اپنی جیبیں بھرنیں کیلئے کام کرتی تھی،جب مارشل لا آیا چوہدری عبدالحمید کو جیل میں ڈالا گیا،آج نواز شریف کا صرف ایک قصور ہے ، نیب کی عدالت سے کوئی انصاف کی توقع نہیں ہے ،آپ عدالت میں جائیں نہ کوئی ثبوت ہے نہ ہی کرپشن کا کوئی الزام ہے ، عدالت کا حکم آیا نواز شریف نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ،یہ الگ بات ہے کہ تاریخ اس فیصلے کو کیسے دیکھتی ہے ،ان فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوتا ہے ترقی رک جاتی ہے،پچھلے پانچ سالوں میں کبھی دھرنے ہوئے کبھی عدالت کو  گھسیٹا گیا اس کے باوجود نواز شریف نے جو کام کئے ہیں میں چیلنج کرتا ہو آج جن کے پاس حکومت ہے کے پی کے میں اور سندھ میں ان کو چیلنج کرتا ہو جب سے پاکستان بنا 20ہزار میگا واٹ بجلی بنی پاکستان  میں 10ہزار 500 میگاواٹ بجلی پاکستان میں اس حکومت نے لگائی ہے جو کام کئے وہ 20 سال تک نظر آتے رہیں گے ،جب ہماری حکومت آئی بجلی کا بہت بڑا چیلنج تھا مگر اس پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے ،بجلی پاکستان میں موجود ہے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو  گیا ،12۔12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے ،آج وہ لوگ تقریر کر رہے ہیں جن لوگوں نے یہ مسائل پیدا کئے، عوام پاکستان مسلم لیگ ن کے اور نواز شریف کے کاموں کو دیکھتی ہے جو 10 سے 11فیصد مہنگائی تھی اس سال 5 اعشایہ 4 فیصد کی گروتھ ہے 3 فیصد گروتھ پر ہماری حکومت آئی تھی ،18 سو کلو میٹر موٹر وے پاکستان میں بن چکا ہے یا آخر مراحل پر ہے ،پہلے والی حکومتیں بھی چاہتی تو یہ کام کر سکتی تھی ،تمام صوبہ کو برابر وسائل دیئے گئے، کے پی کے ،سندھ اور بلوچستان میں ہر شخص کہتا ہے کہ اگر کسی صوبائی حکومت نے کام کیا ہے تو وہ میاں شہباز شریف نے کیا ہے کہ فرق یہ پاکستان مسلم لیگ ن میں اور دوسری جماعتوں میں، وزیراعظم نے سینٹ کے چیئر مین کے خلاف بیان دیا ہے ،جو سیٹیں پیسے دے کر خریدی گئی ہوں انہیں قبول نہیں کرتے جو لوگ پیسے دے کر سینٹر بنے ہیں وہ پاکستان کی نمائندہ نہیں کر سکتے، یہ پیسے کی سیاست یہ خریدوں فروخت کی سیاست کو ختم کرنا ہے ،عمران خان کو سب سے زیادہ تکلیف ہے وہ دن بھول گیا جب روز پریس کانفرنس کرتا تھا کہ 14ایم این اے آصف زردری نے خرید لئے جب ووٹ دینے کی باری آئی تو زرداری کو ووٹ دیا،جو لوگ پیسے دے کر ایوان  میں پہنچتے ہیں ان کو آپ کی ووٹ ختم کر سکتی ہے، آ پ کی ووٹ نے مارشل لاء کو ختم کیا آج ہمیں اس برائی کے خلاف کھڑنے ہونے کی ضرورت ہے ،آج ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ مسلم لیگ ن و واحد جماعت ہے جس نے سینٹ کے الیکشن میں ایک روپے کا بھی خرچہ نہیں کیا ،باقی سینٹر وہ منتخب ہوئے جنہوں نے روپے خرچ کئے ،میں چیلنج دیتا ہو کہ آصف زرداری اور عمران خان ٹی وی پر آ کر کہ دیں اپنی زبان سے اگر ان  میں ضمیر نہیں ہے ، ہم مان لیں گے یہ سیاست ہمیں قابل قبول نہیں ہے ،اس برائی کا مقابلہ کریں گے،عوام اس برائی کو قبول نہیں کرتے، عزت صرف کرسی پر بیٹھنے سے نہیں آتی ،کرپشن سے پاک سیاست سے آتی ہے جو پیسے دے کر آئے ہیں وہ ملک کے لئے کبھی کام نہیں کر سکتے ،یہ سیاست ہمیں دفن کرنی ہے، یہ اس کی ابتداء ہے چاہے عمران خان کو تکلیف ہو ،آصف علی زرداری کو تکلیف ہو ،یہ تکلیف آپ کو برداشت کرنی پڑے گی ،ہمارے مخالفین کو  چیف جسٹس سے ملاقات کی تکلیف ہے، اگر ملک میں مشکلات نظر آتی ہے تو چیف جسٹس سے مل کر مشکلات دور کرنا چاتا ہوں ، چیف جسٹس ایک ادارے کے سربراہ ہیں ، ملک کو چلانے کیلئے مشکلات ہے جب مقصد ایک ہو تو بات کرنے میں کوئی ہرج نہیں ، میں نے رابطہ کیا انہوں نے کہا آ جائو  اس طرح ہی ملک چلتے ہیں، ہمارے مخالفین کو تکلف ہے مرے گواہ چیف جسٹس صاحب ہیں میں نے کوئی ذاتی بات نہیں کی صرف ملک کی بات کی ،کسی نے بیان لگایا کہ میں فریادی بن کر گیا میں ملک کا فریادی ہوں اس کی بہتری کا فریادی ہو ں ۔یہ گالی گلوچ کی سیاست جولائی میں ختم ہو جائے گی ،جب فیصلہ آیالوگوں نے کہا سارے ایم این اے بھاگ جا ئیںگے پھر کہا 2مہنے نہیں گزر یںگے پھر کیا 31 دسمبر نہیں آئے گی پھر کہا سینٹ کے الیکشن نہیں ہو نے پھر  میرے سے کسی نے پوچھا سینٹ الیکشن ہو گا میں نے پہلے سے ہی نشا ندہی کر دی تھی جوخرابیاں پوری ہو گی پھر سب نے کہا کہ حکومت اپنا ٹائم پورا نہیں کرے گی ۔یہ حکومت اپنا وقت پورا کر ے گی جو پیسے رکھے ہوئے ہیں ان سے آپ کی خدمت کریں گے،پیپلز پارٹی مسلم لیگ والی کی گلیاں چھوڑ کر کام کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن سب کے کام برابر کرتی ہے ۔گیس کے میٹر پی پی پی کے ایم این اے اپنے گھر وں میں بیٹھ کر بانٹتی تھی ۔مسلم لیگ ن کے دور میں ایک بھی میٹر ر میرٹ کے بغیر نہیں لگا ۔اتنے میٹر لگے ہیں جتنے 65 سالوں میں نہیں لگے لوگ مانتے ہیں مسلم لیگ ن شرافت کی سیاست کرتی ہے۔ عوام کے مسائل کو حل کرنے کی سیاست کرتی ہے ،مجھے پورا یقین ہے آپ دیکھیں گے جولائی کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اس سے زیادہ سیٹیں لے کر حکومت میں آئے گی ،تمام ارکان اسمبلی نے مسائل حل کرنے کیلئے کوشش کی ہے ہم نے ہمیشہ ملکی مفاد کی بات کی ہے آپ کی محنت سے مسلم لیگ ن اکثریت سے کامیاب ہو گی ،وومن یونیورسٹی کی بات کی ہے تو پاکستان مسلم لیگ جو وعدہ کرتی ہے وہ پورا کرتی ہے ووومن یونیورسٹی کینسر اور چلڈر ہسپتال ضرور بنیں گے ،جو علاقے رہ گئے ہیں جو 40آبادیاں رہ گئی ہیں وہ بھی مکمل ہو جائیں گی ،کام میں مسلم لیگ کسی سے کم نہیں ہے کام صرف پاکستان مسلم لیگ ن کے نظر آتے ہیں ۔30 سالوں میں صرف 10 سال مسلم لیگ ن اقتدار میں رہی ہے مگر کام صرف مسلم لیگ ن کے ہی نظر آتے ہیں ۔نواز شریف کے مشن کو آگے بڑھانا ہے جو مشن نواز شریف لے کر چلے تھے،میرا یہ ذاتی تجربہ ہے جو لوگ جماعتیں چھوڑ کر گئے ان کو عو ام  نے پذیرائی نہیں دی ،جو بھی عوام فیصلہ کرے گی وہ پانچ سال  عوام کی خدمت کرے گا  یہی جمہوریت ہے۔ سیاست میں عزت کی بات کرتی ہے تو پاکستان مسلم لیگ ن ،جمہوریت کی بات کرتی ہے تو پاکستان مسلم لیگ ن کرتی ہے، اس سے قبل وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ روز سرگودھا میں 1 ارب 25 کروڑ روپے کی لاگت سے 21 کلو میٹر لمبی 16 انچ قطر  پائپ لائن کا افتتاح کیا جس پر 35 کروڑ 31 لاکھ کے اخراجات ہوئے ہیں ،اسی طرح 12 انچ کی پائپ لائن کا کام بھی ہو رہا ہے،جو 30 جون سے قبل مکمل کر لیا جائے گا اب تک 12 انچ قطر پائپ کی 5 کلومیٹر تک بھی بچھا دی گئی ہےجس پر 11کروڑ 25 لاکھ روپے صرف ہونگے ،مین گیس پائپ لائن سے سرگودھا کو ملانے کیلئے  میں پریشن لائن پر ہائی پریشر کنٹرول کرنے کیلئے ٹی بی ایس جبکہ شہر میں پریشر کو کنٹرول کرنے کیلئے سی ایم ایس بھی بنائے جا رہے ہیں مجموعی طور پر اس منصوبے پر 1 ارب 25 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔اسی طرح شعبہ صحت کیلئے بھی 100 بیڈ پر مشتمل چوہدری عبدالحمید کاڈیالوجی سنٹر کا بھی سنگ بنیاد رکھا جس پر مجموعی طور پر 25کروڑ روپے صرف ہونگے اس کاڈیالوجی سنٹر میں دل کے مریضوں کیلئے 10 بیڈ پر مشتمل ایمرجنسی وارڈ بھی بنایا جا رہا ہے۔اسی طرح وزیراعظم نے ایم آر آئی مشین کا بھی افتتاح کیا، اس موقع پر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ چیئرمینو ں اور کونسلروں کے ساتھ ساتھ عمائدین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی ۔اس موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔