سی پیک پاکستان اور خطے کے لئے ایک گیم چینجر کی مانند ہے :سردار مسعود خان

30 مارچ 2018 (16:42)

صدر آزادجموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور خطے کے لئے ایک گیم چینجر کی مانند ہے ۔ہمیں سی پیک سے متعلق تمام پروپیگنڈوں اور سازشوں سے بچنا ہو گا کہ پاکستان ایک کالونی بن کر رہ جائے گا اور قرضوں کو واپس کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ان خیالات کا اظہار صدر آزادکشمیر نے آج یہاں کراچی میں ''ورلڈ آرڈر اور پاکستان کے لئے ابھرتے ہوئے مواقع اور چیلنجز '' کے موضوع پر سنٹر فار پیس ، سیکورٹی اینڈ ڈوپلیمنٹ سٹڈیز کے زیر انتظام منعقدہ ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سردار مسعود خان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کی عسکری قوتوں میں اضافہ ،اجنبیوں سے نفرت اور قوم پرستی سے عالمی امن خطرے میں اور غیر مستحکم نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پس منظر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) دنیا میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لئے ایک سنگ میل کے طور پر سامنے آیا ہے۔صدر آزادجموں و کشمیر نے BRIکے بنیادی اجزاء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ BRIایک ایسا منصوبہ ہے کہ جو نہ صرف ممالک بلکہ بڑے خطوں اور بڑے براعظموں کے مابین اقتصادی اور تجارتی روابط قائم کرے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر BRIشرکاء ممالک کے جغرافیائی تناسب سے ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انفراسٹرکچر ، توانائی اور صنعت کو فروغ دے گا۔صدر ریاست نے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے کی وجہ سے چائنہ کی اقتصادی توسیع اور بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ سے امریکہ خوفزدہ ہے لیکن یورپ کے کثیر تعداد میں ممالک اس اقتصادی منصوبے کے حامی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ BRIپر ہمیشہ تنقید کی جائے گی اور اس کے مخالفین کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چائنہ سے تعلقات ، سی پیک، اپنی ایٹمی صلاحیت ، افغانستان اور مسئلہ کشمیر  پربھارت کے ساتھ غیر مستحکم تعلقات کی بناء پر پاکستان گریٹ پاور کمپیٹیشن میں ہمیشہ مرکزی حیثیت کا حامل رہے گا ۔صدر آزادجموں و کشمیر نے اس کشیدہ صورتحال میں پاکستان کو دانستہ طور پر اپنی آئینی اور نظریاتی سمت کو درست رکھ کر اپنی تمام تر توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے کامیابی کی راہ پر گامزن رہنا ہوگا ۔صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین اعتماد پر مبنی تعلقات ہونے چاہیے اور پاکستان کو اپنی معیشیت کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے اور پاک امریکہ تعلیمی معاہدوں سے بھی مستفید ہونا چاہیے۔صدر آزادجموں و کشمیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا کو یہ قوی پیغام دینا چاہیے کہ وہ خود مختار ملک ہے اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات برابری کی بنیاد پر ہیں اور سی پیک سے دونوں ممالک کو یکساں طور پر فائدہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سی پیک پر کئے جانے والے اعتراضات پر توجہ دیئے بغیر پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے ذریعے افریقہ اور ترکی و ایران کے ذریعے مغربی ایشیائی ممالک تک معاشی مواقع تلاش کرنے میں مگن ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کا نعم البدل نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ چینلجز کے باوجود ایک امید نظر آتی ہے اور وہ ہماری جغرافیائی حیثیت اور ہماری ہنر مند افرادی قوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گلوبلائزیشن کے نقطہ نظر اور ایک با اعتماد و با صلاحیت افرادی قوت کے ساتھ ہم دنیا کے بڑے دس ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں ۔مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے صدر آزادجموں و کشمیر نے کہا کہ ہمیں اس سلسلے میں فعال اور متحرک پالیسی  اپنانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ دو طرفہ مذاکرات بھارت کی جانب سے ایک ڈھنگو سلہ تھا جس کے ذریعے وہ سٹیٹس (Status)کو برقرار رکھنا چاہتا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری اس مسئلے کے بنیادی فریق ہیں اور انہیں پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کریں کشمیریوں کو کسی قسم کے مذاکرات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لانا ہوگا تاکہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اوربین الاقوامی کی برادری کی مجرمانہ خاموشی نہایت ہی افسوسناک ہے۔تقریب میں سنیٹر مشاہد حسین سید ،سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، پرنسپل و ڈین سکول آف سوشل سائنسزنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر اشفاق حسن خان ، سابق فیڈرل منسٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر ، عبداللہ دادا بھائی چئیرمین سی پی ایس ڈی،  صدر سی پی ایس ڈی جنر ل آغا عمر فارو ق نے بھی شرکت کی ۔