آنگ سان سوچی کے وفادار میانمار کے صدر منتخب

30 مارچ 2018

ینگون( آن لائن )میانمار کی پارلیمنٹ نے ملک کے نئے صدر کا انتخاب آنگ سان سوچی کے برسوں سے وفادار شخص کو کرلیا ہے۔ نو منتخب صدر ون مینٹ اپنے پچھلے عہدے دار کو قوم کا حقیقی لیڈر مانتے ہوئے ان کے کام کو جاری رکھیں گے۔ون مینٹ کا انتخاب سو چی کی شہری حکومت کی امن اور قومی مصالحت کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے ۔
جبکہ طاقتور فوج اب بھی بھاری بین الاقوامی تنقید کے باوجود مسلم روہنگیا اقلیت کے خلاف قتل و غارت اور نسل کشی جاری کر رکھی ہے۔میانمار کی فوج نے ملک پر حکمرانی آدھی صدی سے زائد عرصے تک حکمرانی کی ہے جس میں اس پر وسیع پیمانے پر تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔2016 میں میانمار کی فوج کا عوام کو حکومت منتقل کرنے کے بعد اب بھی سیکیورٹی کے معاملات کا اختیار ان ہی کے پاس ہے جس کے وجہ سے فوج پر اب بھی ظلم کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ون مینٹ اور نائب صدر نے انتخاب ذیلی پارلیمنٹ اور سوچی کی حمایت یافتہ حکمراں جماعت کی وجہ سے صدارتی انتخابات میں 403 ووٹ دونوں پارلیمان سے حاصل کیے۔نائب صدر مینٹ سوے نے فوج کی حمایت ہونے کے باوجود 211 ووٹ حاصل کیے اور ایوان بالا سے منتخب ہونے والے نائب صدر ہینری وین تیا نے 18 ووٹ حاصل کیے۔