سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید علوم سیکھنے پر آمادہ کیا: طاہرہ غفور

30 مارچ 2018

لاہور (خصوصی رپورٹر) سرسید احمد خان مسلمانان برصغیر کے جداگانہ تشخص اور دوقومی نظریے کے زبردست داعی تھے۔ انہوںنے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے اور مسلمانوں کو جدید علوم و فنون سیکھنے پر آمادہ کیا۔مسلمانان برصغیر کی اصلاح و بیداری کیلئے سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک دوررس اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ ان خیالات کااظہار پروفیسر طاہرہ غفور نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،لاہور میں تحریک علی گڑھ کے بانی رہنماسرسید احمد خان کے یوم وفات کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔پروفیسر طاہرہ غفور نے کہا کہ سرسید احمد خان انگریزوں کے دورِ غلامی میں مسلمانوں کی زبوں حالی سے بہت پریشان تھے۔ انگریزوں اور ہندوئوں کا مقابلہ کرنے کیلئے انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا۔ سرسید احمد خان17اپریل 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد گھر کے حالات دگرگوں ہوگئے تو اپنے عزیز و احباب کے مشورہ کے برخلاف مغل دربار کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی میں 1838ء میں معمولی کلرک مقرر ہوئے۔ 1864ء میں علی گڑھ میں دوران ملازمت سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی جہاں جدید سائنسی علوم پر تقریریں کروائیں اور انگریزی سے تاریخ و سیاسیات کی بعض کتابیں اردو میں ترجمہ کرائی گئی تھیں۔ رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ جاری کیا جس میں درسگاہ اور جدید سائنسی علوم کی ترویج کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔ مجوزہ درس گاہ کیلئے علی گڑھ کا انتخاب کرکے سرمایہ فراہم کرنے لگے۔ 24مئی 1875ء کو نئے مدرسۃالعلوم کا افتتاح کیا۔ 27مارچ 1898ء کو وفات پائی اور علی گڑھ کالج کی مسجد کے گوشے میں دفن کئے گئے۔