بھارتی حکومت واپس نہیں جانے دیتی، مقبوضہ کشمیر میں زندگی جہنم بن گئی: پاکستانی خواتین

30 مارچ 2018

سرینگر (بی بی سی ڈاٹ کام) مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی خواتین نے کہا کہ انہیں بھارتی حکومت پاکستان نہیں جانے دیتی، زندگی جہنم بن گئی ہے۔ اسی طرح راولپنڈی کی خاتون نسیم نے بھی جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ قصبے کے رہنے والے اسحاق شیخ نامی کشمیری نوجوان کے ساتھ شادی کرلی۔ ان کے بچے ہوئے اور ان کے شوہر بھی کاروبار کرنے لگے۔ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے دور میں جب پاکستان سے کشمیری لڑکوں کی وطن واپسی کی پالیسی اعلان ہوا تو دیگر جوڑوں کی طرح نسیم بھی شوہر اور بچوں سمیت وادی پہنچ گئیں۔ پہلے پہلے ایسے سبھی جوڑوں کا خوب استقبال ہوا، لیکن بعد ازاں پاکستان کی یہ بیٹیاں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئیں۔ نسیم ایسی ہی ستم زدہ خواتین میں سے ایک ہیں۔ نسیم کی بینائی پہلے ہی کمزور تھی، لیکن اب وہ مکمل طور نابینا ہوگئی ہیں۔ رضاکار ادارے نے انہیں نابینا افراد کے لیے مخصوص لیپ ٹاپ دیا ہے، جس پر وہ معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔ اسحاق کی عمر 45 سال ہے۔ اسحاق اور نسیم کی طرح کشمیر میں سینکڑوں جوڑے ہیں جو حکومت ہند کی ’سرینڈر پالیسی‘ کے تحت بغیر پاسپورٹ نیپال کے راستے انڈیا لائے گئے لیکن کشمیر پہنچ کر ان کی زندگی اجیرن بن گئی۔ نسیم کہتی ہیں ’ہم تو جیسے اجنبی ہیں۔ کوئی کاغذ نہیں، کوئی کارڈ نہیں۔ میری زندگی جہنم بن گئی ہے۔ میں کب سے در در کی ٹھوکریں کھارہی ہوں کہ مجھے ایک بار واپس راولپنڈی جانے دو۔ وہاں میری ماں بیمار ہے لیکن کوئی سنتا ہی نہیں۔‘
زندگی جہنم