اسلام آباد :ضمانت مسترد ہونے پر سابق آئی جی کا داماد عدالت سے فرار، پولیس منہ دیکھتی رہی

30 مارچ 2018

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی پولیس کی نااہلی سابق آئی جی اسلام آباد کا داماد ایف ایٹ کچہری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی فرار ہوگیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہای کورٹ کے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں بیوہ خاتون کے گھر پر قبضے کے معالے پر سرغنہ قبضہ مافیا طاہر بیگا کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جیسے ہی فاضل جج نے ملزم کی درخواست مسترد کرنے کا حکم نامہ سنایا ملزم طاہر بیگا نے دوڑ لگا دی جبکہ سی آئی اے پولیس اور وہاں پر سیکیورٹی پر معمور اہلکار منہ دیکھتے رہ گئے۔ ذرائع نے آن لائن کو سابق آئی جی کے داماد کے گینگ کو پولیس کی چند کالی بھیڑوں کے روپ میں افسران کی ایک لابی کی سرپرستی حاصل ہے ۔ شروع دن سے پولیس کی جانب سے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی بعد ازاں عدالت عالیہ اسلام آباد کے جسٹس اطہر من اللہ نے بیوہ خاتون کی درخواست پر اس وقت کے چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر کی سرزنش کرتے انہیں اسسٹنٹ کمشنر سٹی کے خلاف انکوائری کا حکم دیا دوران سماعت فاضل جج نے انسپکٹر جنرل آف پولیس سلطان تیموری کی بھی سرانہیں ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیاآئی جی اسلام آباد نے عدالت عالیہ کو گمراہ کرتے قبضہ مافیا کی سرپرستی کرنے والی انسپکٹر کو چند دن کیلئے ہٹا کر دوبارہ ایس ایچ او تعینات کردیا ۔ بیوہ خاتون کی درخواست پر کیس کی تفتیش بھی سی آئی اے منتقل کردی گئی۔ جس کے بعد سی آئی اے پولیس کی ابتدائی تفتیش مین ملزم کی ایف ایٹ کچہری سے درخواست ضمانت خارج ہوگئی اور ملزم کچہری سے فرار ہونے کے بعد عدالت عالیہ اسلام آباد سے رجوع کرلیا۔ گزشتہ روز ملزم عدالت سے بھی بھاگ گیا ۔
عدالت سے فرار