پاکستان ڈومور سے بھی زیادہ کرے ، امریکہ کا نیا مطالبہ

30 مارچ 2018

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر+نیشن رپورٹ) امریکہ نے پاکستان پر ڈور مور سے بھی زیادہ کرنے کا نیا مطالبہ کر دیا۔ حکام کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ ایلسن ویلز کے دورہ کے دوران امریکہ سفارتکار نے زبردست پیغام میں کہا پاکستان کو امریکہ کیساتھ تعاون کرنا چاہئے اور باہمی مصروفیت کیلئے انہیں معاملات تسلیم کرنا چاہئے۔ ایلس ویلز نے امریکی صدر ٹرمپ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ڈو مور سے بھی زیادہ کیا جائے۔ عہدیدار کے مطابق امریکہ نے افغان سرحد پر تمام دہشت گرد نیٹ ورک کیخلاف اقدامات کے دستاویزی شواہد مانگے ، ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے یقین دلایا کہ وہ تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بغیر کسی امتیازی سلوک کارروائی جاری رکھے گا۔ سٹاف رپورٹر کے مطابق امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے جمعرات کے روز سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے دو طرفہ مذاکرات کئے جب کہ مشیر سلامتی ناصر خان جنجوعہ سے الگ تفصیلی ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کے مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر غور کرنا تھا۔ اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال بشمول افغانستان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ۔ طرفین میں اتفاق کیا گیا کابل کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی کے امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور تاشقند میں ہونے والے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے ۔ بات چیت میں بارڈر مینیجمنٹ اور افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ایلس ویلز اور تہمینہ جنجوعہ نے افغانستان میں موجود پاکستان اور افغانستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کے لیے کام کرنے والے گروہوں کے خاتمے پر اتفاق کیا ۔ سیکرٹری خارجہ نے امریکی وفد کو بھارت کی طرف سے مسلسل سیز فائر خلاف ورزی سے آگاہ کیا جس سے خطے کے استحکام پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تنا ؤکو جامع مزاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے ۔ ایلس ویلز نے افغانستان اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ دونوں اطراف نے تمام سطح پر دوطرفہ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔یہ ایلس ویلز کا رواں سال پاکستان کا دوسرا دورہ ہے ۔ مشیر سلامتی سے ملاقات کے دوران ایلس ویلز نے کہا کہ ان کا ملک ، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور مہاجرین کی واپسی اور جنوبی ایشیاء میں امن، ترقی، استحکام کے مشترکہ مقاصد کے لئے بھرپورتعاون پیش کرتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ دونوں ممالک تعاون پر مبنی فریم ورک پر کام کرسکیں۔ ایلس ویلز نے اس پر اتفاق کیا کہ صدر اشرف غنی کی امن پیشکش کی حمایت کی ضرورت ہے اور سیاسی مصالحت کے ذریعہ پرامن، مستحکم افغانستان کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے۔ ایلس ویلز نے افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مقصدبالآخر شورش پسندوں کو امن کے لئے مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ افغان تنازعہ کا پرامن حل کیا جائے۔ اس موقع پر قومی سلامتی مشیر ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستانا ور امریکہ دونوں کا مشترکہ مقصد کئی دہائیوں پر مشتمل افغان تنازعہ کو جلد اختتام پزیر کرنا ہے۔ ناصر جنجوعہ نے یقین دلایا کہ پاکستان، امریکہ اور دوسرے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر نئے امن عمل کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ اپنے قومی مفاد میں کر رہا ہے اور اسی تناظر میں پاکستان اور امریکہ کو ایکدوسرے پر اعتماد کرنا چاہئے۔ دونوں کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ اور تعاون کی ضرورت ہے۔ این این آئی کے مطابق امریکہ اور پاکستان نے افغان صدر کے امن عمل کو آگے بڑھانے، بارڈر مینجمنٹ اور دہشت گرد گروپس کے خلاف کارروائی پر اتاف کیا ۔ تہمینہ جنجوعہ نے کہا بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں خطے کے استکام کیلئے خطرہ ہیں، ایلس ویلز نے کہا افغانستان اور خطے کے امن کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔