نیا این آر او قبول نہ انتخابات میں ایک دن کی تاخیر برداشت کریں گے: سراج الحق

30 مارچ 2018

لاہور(خصوصی نامہ نگار)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ کوئی نیا این آر او قبول کریں گے نہ انتخابات میں ایک دن کی تاخیر برداشت کریں گے۔ قوم وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کا مقصد جاننا چاہتی ہے۔ بروقت انتخابات نہ ہوئے تو آئینی بحران پیدا ہوگا۔ اصطبل خریدنے کا جو تماشا سینیٹ انتخاب میں لگا ہے، وہ عام انتخابات میں نہیں چاہتے۔ جنوبی پنجاب کے عوام الگ صوبہ کے حق میں ہیں۔ ملک میں میرٹ کی بالادستی اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ صالحیت کے حامل حکمرانوں کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلا سکیں۔ بڑی دینی جماعتیں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئی ہیں اب دینی اور مذہبی لوگوں کا ووٹ بھی ایک بکس میں پڑنا چاہیے۔ دینی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہونے کا فائدہ اقتدار پر مسلط جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو ہوتا ہے۔ منصورہ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفر گڑھ میں ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں مقامی ہوٹل میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب میاں مقصود، شیخ عثمان فاروق نائب امیر صوبہ، امیر ضلع مظفر گڑھ عمردراز فاروقی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام اب حکمرانوں کو این آر او کے جہاز میں سوار نہیں ہونے دیں گے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ قوم منتظر ہے کہ نوازشریف کے احتساب کے ساتھ دیگر لوگوں کا بھی احتساب شروع کیا جائے اور پانامہ ، دبئی اور لندن لیکس کے ساتھ ساتھ بنکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے کر معاف کرانے والوں کا محاسبہ ہو ۔ انہوںے کہاکہ نیب کے پاس ایک سو پچاس میگا کرپشن سکینڈلز موجود ہیں ان کو نہ کھولنے کا کوئی جواز آج تک نیب پیش نہیں کر سکا۔ عوام متحد ہوکر متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں ، ہم قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ جس نے قوم کی ایک پائی بھی لوٹی ہو گی اسے ساتھ نہیں ملائیں گے ۔متحدہ مجلس عمل ملک میں آئینی و سیاسی استحکام چاہتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی جنوبی پنجاب کے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ہم حکومت میں آئے تو ان کے غصب شدہ حقوق فوری ادا کیے جائیں گے۔
سراج الحق