مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 4 نوجوانوں کی شہادت کے بعد علاقے میں کشیدگی، جھڑپوں میں مزید 7 زخمی

30 مارچ 2018

سرینگر (نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 4 نوجوانوں کی شہادت کے بعد علاقے میں کشیدگی، جھڑپوں میں مزید 7 زخمی، بھارتی فوج نے میتوں کی شناخت جاری کرنے اور مقامی لوگوں کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ مختلف علاقوں میں احتجاج اور مظاہرے، فورسز پر پتھراو¿ کیا گیا۔ گزشتہ روز سندر بنی کے قریب رواریہ تلا علاقہ میں فورسز کیمپ کے قریب بھارتی فوج نے چار نوجوانوں کو مجاہد قرار دے کر شہید کر دیا تھا۔ مقامی لوگوں نے بھارتی فوج کی جانب سے فدائی حملے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے بظاہر نوجوانوں کو کہیں باہر سے لاکر راجوری میں نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا لوگوں نے بھارتی فورسز کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت اور احتجاج کیا ہے ۔اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے قابض اہلکاروں پر پتھراو¿ کیا۔ سندر بنی میں پتھراو¿ کے جواب میں فوج نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں سندر بنی میں تین افراد زخمی ہو ئے۔ دوسری جانب پلوامہ میں احتجاج کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر سرحدی ضلع کپواڑہ میں جنگلات میں فوج اور جنگجوﺅں کے درمیان جھڑپ کے بعد ضلع کے دیگر علاقوں کے جنگلات کا محاصرہ تین روز سے جاری ہے۔ ادھر وادی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کے رجحان میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ 48 گھنٹوں کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک پر دو نوجوانوں کی ہاتھوں میں اے کے 47 تھامے تصویریں وائرل ہوگئی ہیں اور ان تصویروں کے کیپشنز میں مذکورہ نوجوانوں کی شناخت اور تنظیم کا نام ظاہر کیا گیا ہے۔ ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں بھارتی فوج کے آپریشن کے خلاف زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شدید مزاحمت پر بھارتی فوجی بھاگ گئے۔ سید علی گیلانی نے کہا بھارت کی موجودہ فرقہ پرست اور متعصب حکومت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کیلئے فوجی طاقت کا بھر پور استعمال کر رہی ہے۔ بھارتی مذاکرات کار دنیشور شرما کے دورے سے قبل ترال میں ہڑتال کی گئی۔ فوج سے جھڑپیں ہوئیں۔ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ شعبہ ارضیات کے طالب علم سمیر کی گمشدگی کیخلاف کشمیر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے دفتر کے باہر دھرنا دیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر