مولود کعبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ

30 مارچ 2018

ڈاکٹر حیدری بابا

حضرت ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشا پوری(رح) ، زبدۃ الاصفیا حضرت شیخ عبدالرحمٰن صفوری شافی(رح)، حضرت نظام الدین اولیا(رح)، حضرت معین الدین اجمیری(رح)، مولانا جلال الدین رومی(رح) اور شیخ سعدی شیرازی(رح) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بااتفاق مولود کعبہ تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت حافظ گنجی شافعی لکھتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ 13 رجب 30ھ عام الفیل کو ولادت ہوئی، ان کے علاوہ کوئی بھی بیت اللہ میں نہیں پیدا ہوا۔ واصف علی واصف نے کیا خوب کہا ہے…؎
نبیؐ ذات نور اللہ علیؑ ہے نور کا شیدا
علیؑ ہے شاہد اولٰی علی کا کعبے میں گھر ہے
بجارالاانواروخصائص الائمہ میں ہے کہ خدداوند کریم نے ابوالایمان جناب حضرت ابوطا لب کو ایک ایسا بیٹا عنایت فرمایا کہ ولادت کا انداز دوسری اولاد سے بالکل الگ تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ جب اس بیٹے کی ولادت کا وقت قریب آیا اور حضرت فاطمہ بنت اسد نے محسوس فرمایا کہ میرے پاس جو امانت ہے اس کے ظہور کی مبارک گھڑیاں آن پہنچی ہیں تو فوراً خانہ کعبہ کا رخ کیا۔ او ر دعا کی کہ خداوند کریم میری اس مشکل کو آسان کر دے۔
شیخ صدوق نے یزید بن قعنب سے روایت کی ہے کہ میں اور عباس بن عبدالطلبؑ قبیلہ عبدالعزی کے چند افراد بیت اللہ کے قریب ترین بیٹھے ہوئے تھے۔ جناب حضرت فاطمہ بنت اسد کی دعا ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ خانہ کعبہ کی دیوار پھٹی یعنی شق ہوئی اور وہ وہاں سے بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئیں۔ پھٹی دیوار پھر سے اپنی جگہ پر آ گئی۔ ہم نے خانہ کعبہ کا تالا کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے تالا نہ کھلا تو ہم سمجھ گئے یہ راز کی بات ہے۔ اوپر والا بہتر جانتا ہے۔
بی بی فاطمہ بنت اسد ایک منفرد اعلی مقام رکھتی ہیں،ان کا یہ اعزاز ہے کہ رسول خدا حضرت محمدؐ نے انہیں اپنی ماں کہا اور بی بی فاطمہ بنت اسد کے زیر سایہ پرورش پائی۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت بی بی فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو حضورؐ نے اپنی قمیض کا کفن دیا۔ ان کی قبر میں اترے اور لیٹے رہے۔ بی بی کے حق میں دعا فرمائی۔
ولادت کعبہ کے اندر ہوئی لیکن بچے نے آنکھیں نہیں کھولیں جب رسول خداؐ تشریف لائے اور بچے کو اپنی گود میں لے لیا تو مولود نے آنکھیں کھول دیں۔ جمال رسالت پر پہلی نگاہ ڈالی۔ نبوتؐ نے زبان مولود کے منہ میں دے دی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پہلے انسان تھے جن کے منہ میں حضورؐ کا لعاب دہن گیا۔ دودھ کے بجائے لعاب دہن رسولؐ سے سیراب ہو کر ’’لحمک لحمی‘‘ کے حق دار بنے۔ (سیرت حلبیہ) آپؑ کعبہ میں فطرت اسلام پر پیدا ہوئے۔
مؤرخین کا بیان ہے کہ آپ کرم اللہ وجہہ کا نام جناب حضرت ابوطالب نے اپنے جداعلی جامع قبائلی عرب ’’قصی‘‘ کے نام پر زید اور ماں بی بی فاطمہ بنت اسد نے اپنے باپ کے نام پر اسد رکھا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ نے اللہ تعالی کے نام پر علیؑ رکھا۔ آپ کا ایک مشہور نام حیدر بھی ہے۔ اس نام سے بھی آپ کی ماں پکارا کرتی تھیں۔ ایک مشہور روایت ہے کہ جب آپ جھولے میں تھے، ایک روز ماں کہیں گئی ہوئی تھیں جھولے پر کالا خطرناک سانپ چڑھا۔ آپ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے منہ کو پکڑ لیا۔ اس کا جبڑا اور کلہ کو چیر کر پھینکا۔ آپ کی والدہ نے واپس ہو کر یہ منظر دیکھا تو بے ساختہ فرمایا یہ میرا بچہ حیدر ہے۔ حیدر کو شیر بھی کہتے ہیں۔
آپ کی کنیت القابات بے شمار ہیں۔ کنیت میں ابوالحسن اور ابوتراب اور القاب میں ساقی کوثر، نفیس رسولؐ، حیدرکرار، نفس رسولؐ یداللہ، اسداللہ، المرتضیٰ اور امیرالمومنین بھی مشہورہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ملت اسلامیہ کا مشترکہ سرمایہ حیات ہیں، تمام مکاتب فکر ان کی شخصیت سے کوئی اختلاف نہیں۔ ان کا دور خلاف مثالی رہا۔ اگر کسی اسلامی ملک میں ان کا نظام حکومت جو عادلانہ اور شریعت محمدیؐ کے عین مطابق تھا۔ نافذ کر دیا جائے تو امت محمدیؐ ان کے نظام حکومت میں امن، سکھ، چین کا سانس لے سکتی ہے۔
حضرت علامہ طبری فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے باغ سینچنے کی مزدوری کی۔ رات پھر کھیتوں میں پانی دینے کے لئے جو کی ایک مقدار طے پائی۔ آپ نے فیصلے کے مطابق ساری رات آبپاشی کرکے صبح کو جو حاصل کرکے آ پ واپس گھر تشریف لائے۔ جو خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرؓ کے حوالے کئے۔ انہوں نے اس کے تین برابر حصے کر ڈالے اور تین دن کے لئے الگ الگ کرکے رکھ لئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کو پیس کر شام کے وقت روٹیاں پکائیں۔ اتنے میں ایک یتیم آ گیا اور اس نے صدا دی اور سب کی سب روٹیاں مانگ کر لے گیا۔ پھر دوسرے روز ثلث کی روٹیاں تیار کی گئیں۔ مسکین نے صدا لگائی سب روٹیاں مانگ کر لے گیا۔ اسی طرح پھر تیسرے دن روٹیاں تیار ہوئیں پھر کوئی آیا آواز دی اور سب روٹیاں لے گیا۔ یہ سب کے سب (اہل بیت) تینوں روز بھوکے ہی رہے۔ اس کے انعام میں اللہ تعالی نے سورہ ہل اتی نازل فرمائی۔
پاکستان کے بلند پایہ، ممتاز دانشور سکالر حضرت مولانا کوثر نیازی کا بیان ہے کہ آپ کی زندگی کا کوئی ایسا گوشلہ نہیں جو انفرادیت کا حامل نہ ہو۔ کھانے پینے سے لے کر عبادت الہی تک ہر منزل پر آپ کی ذات ایک انفرادی خصوصیت کی حامل ہے اور اس کا شریک کائنات فانی میں کوئی دوسرا صاحب کردار نہیں ہے۔ جو پیدا بھی خدا کے گھر میں ہوا اور شہادت کا پیام بھی خدا کے گھر میں ملا۔ انسانی تاریخ میں نہ حضرت علیؓ نے پہلے کسی کو یہ مرتبہ ملا اور نہ عل آپ کے بعد یہ مقام کسی کو ملا۔ کوئی ایسا شخص نہیں دکھا سکتے ہو جس کی زندگی کا آغاز وانجام اتنا حسین، خوبصورت ہو جتنا حُسن علی کی زندگی کا آغازوانجام ہے۔