فاتح خیبر، شیر خدا، خلیفہ چہارم : سیدنا علی المرتضیٰ ؓ

30 مارچ 2018

مولانا حافظ اشفاق
پروردئہ رسولؐ، اقلیم ولایت کے شہنشاہ، عبادت و ریاضت میں مسلمانوں کے پیشوائ، ہمت وشجاعت کے عظیم پیکر خصوصاً معرکہ خیبر کے شاہ سوار حضرت علیؓ۔ آپؓ ’’نجیب الطرفین ہاشمی‘‘ اور نبی اکرمؐ کے سگے چچازاد بھائی ہیں۔ آپ کی کنیت ’’ابوالحسن اور ابو تراب‘‘ ہے۔ یوں تو حضرت علیؓ کے بہت سے القاب و خطابات ہیں مگر آپ کو اپنے ناموں میں ’’ابو تراب‘‘ بہت زیادہ پسند تھا، کیوں کہ یہ لقب خود سرکار دوجہاںؐ نے آپؓکو عطا کیا تھا۔
امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیؓ کی جملہ خصوصیات میں ایک عظیم خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپؓ نبی اکرمؐ کے سگے چچازاد بھائی ہونے کے علاوہ ’’عقد مواخاہ‘‘ میں بھی آپؓ کے ’’بھائی‘‘ ہیں۔ چنانچہ جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور خاتم الانبیائؐ نے صحابہ کرامؓ کے درمیان ’’عقد مواخاہ‘‘ (بھائی چارہ) قائم فرمایا اور ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا دینی و اسلامی بھائی بنا دیا تو حضرت علیؓ نہایت آب دیدہ ہوکر بارگاہِ رسالت مآبؐ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہؐ آپ نے ’’عقد مواخاہ‘‘ میں تمام صحابہ کرام کو تو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا، میں تو یوں ہی رہ گیا ہوں۔ رسول اکرمؐ نے نہایت پیار اور محبت کے انداز میں فرمایا: ’’اے علیؓ! تم دنیاوآخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔‘‘
حضرت علی المرتضیٰؓ کی عمر ابھی صرف دس سال تھی، جب حضور نبی اکرمؐ کو بارگاہِ خداوندی سے ’’نبوت ورسالت‘‘ کا عظیم الشان منصب عطا کیا گیا۔ چونکہ حضرت علیؓ، شیر خوارگی میں ہی حضور اکرمؐ کے ساتھ رہتے آ رہے تھے، اس لیے آپؓ کو اسلام کے مذہبی مناظر سب سے پہلے نظر آئے۔ چنانچہ ایک روز حضور سید عالمؐ اور اُم المؤمنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کو اللہ کی عبادت وبندگی میں مصروف دیکھا تو طفلانہ استعجاب کے ساتھ پوچھنے لگے کہ یہ آپ دونوں کیا کر رہے ہیں۔ حضور نبی کریمؐ نے اپنے نبوت و رسالت کے منصب گرامی کی خبر دی اور ساتھ ہی کفروشرک کی مذمت کرکے آپ کو توحیدورسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ محققین علمائے کرام فرماتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے امّ المؤمنین حضرت خدیجہؓ، مردوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، بچوں میں حضرت علی المرتضیٰؓ اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہؓ نے اسلام وایمان کی عظیم دولت حاصل کی۔
حضور سرکاردوعالمؐ کی جوہر شناس نگاہوں نے حضرت علیؓ کی اس خداداد قابلیت واستعداد کا پہلے ہی اندازہ کر لیا تھا اور آپؐ کی زبانِ فیضِ ترجمان سے حضرت علیؓ کو ’’بابِ مدینۃ العلم‘‘ (یعنی جملہ علم وحکمت کے شہر کا دروازہ) کی سند مل چکی تھی چنانچہ حضرت علیؓکے مقام علم و فضل کے متعلق حضور امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیؐ فرماتے ہیں کہ: ’’میں جملہ علم و حکمت کا شہر ہوں اور حضرت علیؓ اس علم و حکمت کے شہر کا مرکزی دروازہ ہیں۔‘‘ (جامع ترمذی، ابن عساکر، مشکوٰۃ المصابیح)
صحابہ کرامؓ میں علم وحکمت، فہم وفراست اور فقاہت وثقاہت کے اعتبار سے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا مقام و مرتبہ بہت اونچا اور بلند تر ہے۔ حضرت علیؓ نے حضور نبی کریمؐ سے تقریباً پانچ سو چھیاسی (586) احادیث مقدسہ روایت کی ہیں۔ آپ کے علمی نکات، فتاویٰ اور بہترین فیصلوں کا انمول مجموعہ! اسلامی علوم کے خزانوں کا قیمتی سرمایہ ہے۔
حضور سید عالمؐ نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپؐ نے حضرت علیؓ کو بلا کر فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت مدینہ کا حکم ہو چکا ہے، اور میں آج ہی مدینہ طیبہ روانہ ہو جاؤں گا، لہٰذا تم میرے بستر پر سو جانا اور صبح قریش مکہ کی ساری امانتیں اور وصیتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں، وہ ان کے مالکوں کے سپرد کرکے مدینہ منورہ چلے آنا۔ چنانچہ حضرت علیؓ بغیر کسی خوف وخطر کے حضور اقدسؐ کے بستر مبارک پر سو گئے۔ صبح ہوئی تو کفارِ مکہ جو رات بھر ناپاک ونامراد ارادے کے ساتھ کاشانہ نبویؐ کا بہت سخت محاصرہ کیے ہوئے تھے، برہنہ تلواریں لے کر کاشانہ مصطفویؐ میں داخل ہوگئے لیکن یہاں آکر دیکھا کہ بستر نبویؐ پر حضوراکرمؐ کے بجائے آپ ؐکا ایک جانثار موت وحیات سے بے پروا ہوکر سو رہا ہے۔ کفار مکہ یوں ہی ناکام و نامراد ہوکر واپس چلے گئے۔
حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ میں رات بھر آرام وسکون کے ساتھ سویا اور صبح اٹھ کر لوگوں کی امانتیں اور وصیتیں ان کے مالکوں کے حوالے کر دیں۔ امانتوں کی ادائیگی کی وجہ سے میں تین دن مکہ معظمہ میں رہا اور پھر میں نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر لی۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ موت برحق ہے لیکن آج کی رات مجھے موت نہیں آسکتی کیوںکہ سرکار دوعالمؐ نے فرمایا کہ علیؓ تم یہ امانتیں ان کو مالکوں کو دے کر پھر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا اور جب تک یہ امانتیں سپرد نہیں ہو جاتیں اور جب تک میں مدینہ ہجرت نہیں کر لیتا اس وقت موت نہیں آسکتی کیوں کہ یہ سرکار دوعالمؐ کا فرمان تھا۔
حضرت علیؓ، حضورسیدعالمؐ کی بعثت سے دس سال پہلے پیدا ہوئے۔ حضرت علی مرتضیٰؓ آفتاب نبوت ورسالت حضور خاتم الانبیائؐ کی حسن تربیت اور آغوشِ پرورش میں رہے۔ حضرت علیؓ نے ایام ِطفولیت ہی سے حضور سرور ِدوعالمؐ کے دامن رحمت وعاطفت میں تربیت پائی تھی، اس لیے آپؓ قدرتاً محاسنِ اخلاق اور حسن تربیت کے بہترین نمونہ تھے۔
حضرت علی ؓ کو بچپن ہی سے درس گاہِ نبوت میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا زریں اور پر تقدس موقع ملا، جس کا سلسلہ ہمیشہ قائم ودائم رہا۔ مسند امام احمد میں آپؓ اس پر فخروناز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’میں روزانہ صبح کو معمولاً آپؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا کرتا تھا اور تقرب کا یہ درجہ میرے علاوہ کسی کو حاصل نہ تھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپ کو حضوراکرمؐ کے تحریری کام کرنے کی سعادت بھی حاصل تھی۔ کاتبانِ وحی میں آپ کا اسم گرامی بھی سرفہرست نظر آتا ہے۔ آنحضرتؐ کی طرف سے جو فرامین و مکاتیب لکھے جاتے تھے، ان میں بعض آپؓ کے دست مبارک کے لکھے ہوئے تھے، چنانچہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ کا صلح نامہ آپ نے ہی لکھا تھا
شاہِ خیبر شکن امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی بے مثال ہمت و شجاعت اور شہرہ آفاق جرات و بہادری کی لازوال داستانوں کے ساتھ سارے عرب و عجم میں آپ کی قوتِ بازو کے سکے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے رعب و دبدبے سے بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے تھے۔ جنگ ِتبوک کے موقع پر سرکار دو عالمؐ نے آپؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا، اس لیے اس غزوہ میں آپ شریک نہ ہو سکے، اس کے علاوہ باقی تمام غزوات و سرایا میں آپؓ شریک ہوئے اور بڑی جان بازی کے ساتھ کفارومشرکین کا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے بہادروں اور شہسواروں کو اپنی مایہ ناز اور شہرہ آفاق ’’ ذوالفقارِ حیدری‘‘ سے موت کے گھاٹ اتارا۔
امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیؓ نے ایک طویل مدت تک اہل ایمان کے قلوب واذہان کو قرآن و حدیث اور علم و عرفاں سے فیضیاب فرمایا۔ دین ِاسلام کی بے مثال تبلیغ اور خدمت کی۔ ہر قدم پر اپنے ماسبق خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہرممکن رہنمائی کی۔ ہر لمحہ اسلام کی راہ میں اپنا مال و متاع اور اپنا تن من دھن قربان کیا اور بالآخر اسلام کی خاطر اپنی جان بھی قربان کر دی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ 21 رمضان المبارک بروز جمعتہ المبارک 40 ہجری کو فجر کی نماز کیلئے جاتے ہوئے ابن ملجم نے حملہ کیا جس کی وجہ سے آپؓ جام شہادت نوش فرما گے۔