امیر المومنین سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سیرت و کردار 

30 مارچ 2018

محمد اسد رفیق 


آپ کا نام نامی ’’علی بن ابی طالبؓ‘‘ اور کنیت ’’ابوالحسنین و ابو تراب ‘‘ہے ۔آپ حضور سرورکائناتؐ ؐکے چچازاد بھائی ہیں ۔آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد ہاشمی ہے اور یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔ حضورسرور کائنات ؐ کی اُمت میں پہلا فرد جو ولایت کے سب سے اعلیٰ بابِ جذب کا فاتح بنا اور جس نے اِس مقامِ پر قدم رکھا وہ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات گرامی ہے اور اِسی وجہ سے روحانیت و ولایت کے مختلف طریقوں کے سلاسِل آپ ہی کی طرف رجوع فرماتے ہیں۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی بھی نسبت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ہی کا ایک باب ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں:’’اب اُمت میں جسے بھی بارگاہِ رسالتؐ سے فیضِ وِلایت نصیب ہوتا ہے وہ یا تو نسبت علی مرتضیٰ ؓسے نصیب ہوتا ہے یا نسبت غوث الاعظم جیلانی ؓ سے، اس کے بغیر کوئی شخص مرتبہ ولایت پر فائز نہیں ہوسکتا۔‘‘آپ  30   عام الفیل میں پیدا ہوئے اور اعلان نبوت سے پہلے ہی سید الانبیاء ؐ کی پرورش میں آئے ۔اس طرح حضورؐ کے سائے میں آپ نے پرورش پائی اور انہی کی گود میں ہوش سنبھالا،آنکھ کھو لتے ہی حضورؐ کا جمال جہاں آرا دیکھا ،انہی کی باتیں سنیں اور انہی کی عادتیں سیکھیں ۔سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم باب شہر علم بھی ہیں۔ آپ علم وحکمت کا بحرِ بے کنار ہیں۔ علوم و فنون کی تمام نہریں آپ کے دریا ئے حکمت سے جاری و ساری ہیں۔علم کیسا بھی ہو ظاہری ہو یا باطنی، آپ دونوں میں منفرد اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ حکمت و علمیت ،بصیرت و فراست،ذہانت و فطانت،اور فصاحت و بلاغت آپ کی نسبت سے مزین ہیں۔ صحابہ کرامؓ میں سے آپ وہ واحد شخصیت ہیں جس نے رحمت عالمؐ کے بعد مجھ سے جو چاہو پوچھو کا دعویٰ کیا۔ سید الانبیاء ؐ نے آپ کو باب شہر علم قرار دیا اورقیامت تک آنے والے اہلِ علم و حکمت کو آپ کی در کا دریوزہ گر بنا دیا۔ اربابِ دانش و فکرنے ہمیشہ آپ کی علمی مقام و بلند مرتبہ کوتسلیم کیا اور کیوں نہ کریں جب کہ وہ خیراتِ علم آپ کی دہلیز پر کاسہ لیسی کرکے حاصل کرتے ہیں۔ سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کا وسیع ترین علم فیضانِ نبوت کا اعجاز ہے۔آپ سے ہی روایت ہے کہ جب رسول اکرمؐ ؐنے مجھے یمن کا قاضی بنا کر بھیجنا چاہا تو میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ ؐ آپ مجھے قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں،میں تو اس فن سے نا آشنا ہوں،آپ ؐنے میرے دل پر ہاتھ مار کر فرمایا:اے اللہ اس کے دل کو روشن کر دے اور اس کی زبان کو ثبات عطا کر،اُس مالک کی قسم جو چھوٹے سے بیج سے بڑا درخت پیدا کرتا ہے، اس کے بعد مجھے کبھی دو آدمیوں میں فیصلہ کرتے ہوئے شک نہیں گزرا۔آپ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:۔مجھے رسول کریم ؐنے علم کے ہزار باب دیے اور ہر باب سے آگے علم کے ہزار باب کھلتے ہیں۔ ایک موقعہ پر جب آپ  سے آپ  کی علمی پختگی کا سبب دریافت کیا گیا تو آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ جب نبی کریمؐ کا وصالِ پر ملال ہوا اور میں نے آپ کو غسل دیا۔ 
 سرور کائناتؐ اور صحابہ کرام ؓ کی نگاہ میں آپ کی علمی وسعت مسلمہ تھی۔ اس حوالے سے تمام احادیثِ مقدسہ اور اقوال مبارکہ نقل کرنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ بطورِ نمونہ چند مثالیںآپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:۔ رحمتِ عالمؐ نے سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مخاطب کر کے فرمایا:۔علی مجھے اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ رکھوں اور علم سکھائوں تا کہ تم اسے یاد رکھو۔مزید فرمایا:۔ابو الحسن تمہیں مبارک ہو، تم نے علم کے سمندر سے پی پی کر خوب پیاس بجھائی ہے۔سید الانبیاء ؐ نے تمام علوم کی جامع کتاب قرآنِ مجید کے ساتھ سیدنا علی المرتضی کرم اللہ کا تعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا: علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں مجھ سے جدا ہونے کے بعد مجھ سے حوض کوثر پر ملیں گے۔ ایک مقام پر نبی کریمؐنے ارشاد فرمایا:۔دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا۔نو حصے علی کو اور ایک حصہ لوگوں کو عطا کیا گیا۔سیدتنا عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:علی سے زیادہ مسائل شرعیہ کوئی نہیں جانتا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کا فرمان ہے:جب ہمیں باوثوق ذرائع سے علم ہو جائے کہ یہ فتوی علی نے دیا ہے تو ہم اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں اور اس سے تجاوز نہیں کرتے۔سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓنے فرمایا: مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ فرائض جاننے والے اور درست فیصلہ فرمانے والے علیؓ ہیں۔سیدناامام حسنؓ نے سیدنا علی المرتضی کرم اللہ کی شہادت کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:۔اے اہل کوفہ!اے اہل عراق!آج تمہارے درمیان ایک ایسا شخص رات کو شہیدہوا ہے کہ نہ تو اس سے پہلے والوں نے علم کے اعتبار سے اس پر سبقت کی اور نہ پچھلے اس تک رسائی پاسکیں گے ۔سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتے ہیں اس کا سبب کیا ہے؟ فرمایا میں جب بھی رسول اکرم ؐسے کچھ دریافت کرتا تو آپ ؐمجھے خوب اچھی طرح سمجھایا کرتے اور جب میں چپ رہتا تھا تو آپ ؐ خودہی بتلایا کرتے تھے۔ علم نحو جس کا تعلق عربی گرامر سے ہے۔ سیدنا علی المرتضیؓ کا ایجاد کردہ ہے۔ ابو الاسود دولی کہتے ہیں کہ میں ایک دن آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آپ کو متفکر پایا۔ وجہ پوچھی تو آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ تمہارے شہر والے عربی بولنے میں غلطیاں کرتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اس حوالے سے کچھ تصنیف کردوں۔ پھر آپ نے مجھے کچھ قواعد لکھ کر دئیے اور فرمایا کہ اس پر اضافہ کرو۔ یوں علم نحو کی بنیاد پڑی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شجاعت اور بہادری شہرۂ آفاق ہے ،عرب و عجم میں آپ کی قوت بازو کے سکے بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے رعب و دبدبہ سے آج بھی بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے ہیں ۔جنگ تبوک کے موقع پر سرور کائناتؐنے آپ کو مدینہ طیبہ پر اپنا نائب مقرر فرمادیا تھا اس لئے اس میں حاضر نہ ہو سکے باقی تمام غزوات و جہاد میں شریک ہوکر بڑی جانبازی کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے بہادروں کو اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ اسی طرح جنگ خیبر کے موقع پر بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے شجاعت اور بہادری کے وہ جو ہر دکھائے ہیں جس کاذکر ہمیشہ باقی رہے گا اور لوگوں کے دلوں میں جوش وولولہ پیدا کرتارہے گا۔
سیدنا علی المرتضیٰ کی بلند و بالا شان ہے کہ سرورکائنات نے آپ سے محبت نہ کرنے کو منافق ہونے کی علامت ٹھہرایا اور آپ سے بعض و عداوت رکھنے کو مومن نہ ہونے کا معیار قرار دیا ۔حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ ؐنے فرمایا; علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بغض و عداوت نہیں رکھتا۔ (ترمذی)آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کے خطبات ، ملفوظات ، شجاعت کو ہر زمانے میں بہت پذیرائی ملی۔چودہ سو سال سے تواتر کے ساتھ آپ کے اقوال سے استفادہ کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔آپ کے فرمودات حکمت آمیز بھی ہیں اور حکمت آموز بھی، فکر انگیز بھی ہیں اور ایمان افروز بھی۔آپ کے کلام کے بارے ادباء کی رائے ہے کہ یہ خالق کے کلام سے کم مرتبہ لیکن مخلوق کے کلام سے افضل و اعلی ہے۔آپ کے اقوال کا مطالعہ ہر شعبے اور ہر سطح کے انسان کی علمی پیاس بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دنیا و عقبی میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے مشعلِ راہ ہے۔اللہ ہم سب کو حضرت علی ؓ کی سیرت و کردار کو حقیقی طور پر سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین