یوم پاکستان جوش و جذبہ سے منایا گیا؎

30 مارچ 2018

خالد یزدانی

23 مارچ کو ہر سال کی طرح ’’یوم پاکستان‘‘ جوش و جذبے سے منایا گیا تھا اس دن نہ صرف ملک بھر میں بلکہ مقبوضہ کشمیر کی وادی میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی اور ملی ترانے چارسو گونج رہے تھے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبائی دارالحکومت میں بھی دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا تھا۔ اسلام آباد میں ’’یوم پاکستان‘‘ کے موقع پر مسلح افواج کی مشترکہ کہ پریڈ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ مشترکہ پریڈ کی اس تقریب میں سری لنکا کے صدر سمیت ترکی، ملائشیا اور متحدہ عرب امارات کے مہمانان بھی شریک تھے ،جبکہ یو اے ای اور اردن کی شاہی فوج کے بینڈ نے بھی پریڈ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے دلوں کو گرمایا۔ یوم پاکستان کی اس تقریب میں پاک فضائیہ کے کمانڈوز نے دس ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح تمام صوبوں کی ثقافت کے رنگ بھی نظر آئے ،جبکہ پریڈ میں شامل فلوٹس پر علاقائی رقص نے بھی سماں باندھ دیا تھا۔ ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ‘‘
یوم پاکستان کے موقع پر کراچی میں مزار قائد پر گورنر سندھ، وزیراعلی سندھ وزیر داخلہ سمیت تینوں مسلح افواج کے نمائندگان نے حاضری دی اور مزار قائد پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی تھی سارا دن عوام کی بڑی تعداد بھی آئی ۔ یوم پاکستان کے دن لاہور میں واہگہ بارڈر پر بھی پاکستانی سبز ہلالی پرچم اتارنے کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ پاک رینجرز کے دستوں نے پریڈ کا مظاہرہ کیا، ملی نغموں نے فضا کو گرما دیا۔ پریڈ دیکھنے کیلئے آنے والے شہریوں نے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ آزاد کشمیر میں بھی یوم پاکستان کی تقریبات کا انعقاد کیاگی اور مظفر آباد میں آزادی چوک سے گھڑی پن چوک تک ریلی بھی نکالی گئی۔ جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی یوم پاکستان پر ریلیاں نکالی گئیں۔ علاوہ ازیں دنیا کے مختلف ممالک میں بھی پاکستانی سفارت خانوں میں یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریبات پرچم کشائی کی گئی۔ دبئی میں پاکستانی سفیر کی جانب سے ’’ شکریہ پاکستان ‘‘کے نام سے یوم پاکستان کے کے حوالے سے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ اسی طرح بیجنگ میں بھی پاکستانی سفارت خانے میں یوم پاکستان قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ استنبول میں برطانیہ اور ایشیا کو ملانے والے پل کو پاکستانی پرچم سے روشن کیا گیا تھا۔ جبکہ بھارتی افواج کی پابندیوں کے باوجود مقبوضہ وادی کشمیر میں یوم پاکستان جوش و جذبہ سے منایا گیا تھا۔ وادی میں پاکستانی پرچم لہرائے گئے اور کشمیریوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور پاکستان کا قومی ترانہ گایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سری نگر میں دختران ملت تنظیم کے تحت یوم پاکستان شایان شان طریقے سے منایا گیاتھا، اس حوالے سے ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے دوران دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور دیگر خواتین نے پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا اور پاکستان سے محبت کا اظہارکرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ ہماری جدجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی ۔اس موقع پر آسیہ اندرابی نے بھی خطاب کیا تھا ۔ دوسری جانب حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی قیادت میں جامع مسجد سرینگر کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرے کی اپیل سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کی تھی۔ یوم پاکستان کے حوالے سے مقبوضہ وادی میں سارا دن پاکستانی پرچم لہرائے جاتے رہے اور ملی نغموں نے کشمیریوں میں جوش و جذبہ پیدا کیا ۔
دیکھا جائے تو یوم پاکستان کی تقریبات کا سلسلہ 23 مارچ سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور ملک کے ساتھ دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں جشن منانے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سبز ہلالی پرچم لہرایا اور نغمات سے لہو گرمایا جاتا ہے۔ لاہور میں اس دن کی مناسبت سے نظریہ پاکستان میں بھی ہر سال کی طرح 23 مارچ کو تقریب منعقد ہوئی تھی پرچم کشائی میں تحریک پاکستان کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ لاہور میں مختلف ثقافتی، سماجی و ادبی تنظیموں نے بھی اس دن کو جوش و جذبے سے منایا ماضی کے معروف اداکار علی اعجاز کی علی فائونڈیشن، ویلفیئر ہوم کی صدر عذرابانو اور سیکرٹری نرگس بیگم اور دیگر ممبران نے بھی یوم پاکستان پر ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔اس طرح کی تقریبات کا سلسلہ مارچ میں جاری رہتا ہے اور ساری فضا پاکستانی ترانوں سے گونجتی ہے اور انشااللہ تا قیامت یہ ساسلہ جار و ساری رہے گا ۔۔۔