خدمت کا جذبہ

30 مارچ 2018

محمد رمضان چشتی

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر
اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کر
بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد اسلامی مملکت کا جو اعلان 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں کیا تھا، تاکہ علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر کی شکل دی جائے ،پھر صرف سات سال کے بعد 14 اگست کو دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد اسلامی مملکت کے طور پر وجود میں آیا اور اس پاک سرزمین کو حاصل کرنے کے ئے مسلمانوں نے اپنا تن، من، دھن سب قربان کر دیا تھا۔ آج جس آزاد ملک پاکستان میں ہم زندگی گزار رہے ہیں یہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا ہی ثمر ہے۔
ابتدائی ادوار کو دیکھیں تو اس وقت صورت حال بڑی بہتر تھی پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے قائداعظم کی وفات کے بعد جس تدبر سے اور غوروفکر سے کام کیا اس کی دنیا آج بھی معترف ہے۔ مگر آہستہ آہستہ اقرباپروروی اور کرپشن کے ناسور نے اس وطن میں پنجے گاڑنے کا آغاز کر دیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ ستر سال سے زیادہ عرصہ آزاد ہوئے ہو گیا مگر ہماری نوجوان نسل جس تیز رفتاری کی حدیں عبور کر رہی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان قائم دائم رہے گا جتنے اس کو کھانے والے ہیں پھر بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا ہم نے سوائے اس کو لوٹنے کے کوئی کام نہیں کیا ہماری نوجوان نسل ،میں تو ان کو نوجوان نہیں کہوں گا جب میں نوجوان تھا تو میرا وزن 75 کلو تھا اور آج کے نوجوان کا وزن تیس، پینتیس کلو ہے،اسی طرح وہ آج کسی کی نہیں سنتے ان کی اچھی بات ان کو ناگوار گزرتی ہے، بس ایک ہی جنون سوار ہے موٹرسائیکل ہو، ہاتھ میں ٹچ موبائل، منہ میں سگریٹ ہو، اسی، نوے کی رفتار سے بھاگتے ہوئے چاہے وہ مر ہی کیوں نہ جائے اس کی اسے کوئی فکر نہیں۔ اسی طرح جلسوں میں جائو نعرے مارنا ،یا سٹکوں پر احتجاج بس یہی کچھ ہو رہا ہے ،یہ ہم نے ترقی کی ہے۔ ہم نے ایٹم بم تو بنالیا مگر کپڑے سینے والی سوئی تک چین سے آتی ہے۔اور حکومت چلانے کے لئے عوام پر ٹیکس لگاؤ اور قرضوں سے کام چلائو۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری آج سیاست ہے جو سارا سال چلتی رہتی ہے اس میں نقصان نہیں۔ ہار جانے کی صورت میں رونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے روتے ہیں جیسے کسی کا کاروبار بند ہو جاتا ہو یا کسی کو نوکری سے فارغ کر دیا جائے۔ پاکستان میں جتنا مرضی امیر آدمی ہو جتنا مرضی ٹیکس دیتا ہو اس کی کوئی ویلیو نہیں جب تک اس کے پاس کوئی عہد ہ نہ ہو ۔ بس یہی کام رہ گیا ہے پاکستان میں کبھی کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ کبھی کسی کے ساتھ یہ کھیل ستر سال سے جاری ہے۔ لاکھوں، کروڑوں خرچ کرو ووٹ خریدو اور فروخت کرو۔ بزرگ کہتے تھے مال مفت دل بے رحم والی بات ہے۔
آج عوام کی خدمت کا دعوی کرنے والوںکو کہا جائے کہ گھر سے روٹی کھا کے آنی ہے اور پھر گھر جا کرہی کھانی ہے گاڑی بھی آپ کی ہو گی، پٹرول بھی اپنی جیب سے ڈالوانا ہے مراعات بھی نہیں ملنی علاج بھی سرکاری ہسپتال میں ہو گا ،نہ گھر میں پولیس کا پروٹوکول ہو گا نہ جہاز کا مفت ٹکٹ ملے گا نہ باہر کے ملکوں میں علاج نہ سرکاری دورے ہوں گے نہ ہوٹلوں میں رہائش۔ جیسے عوام ٹریفک میں پھنسی ہو ویسے ٹریفک میں کھڑے ہونا پڑے گا جیسے یورپی ممالک میں ہے تاکہ ان کو پتا چلے عوام کس حال میں جو حکومت چلانے کے ٹیکس دیتی ہے۔ سوئی، چائے کی پتی تک پر ٹیکس دیتی ہے وہ کس حال میں ہے۔ جب بجلی، گیس کا بل پانی کا بل نوکروں کی تنخواہیں دینی پڑیں گی جب قوم کی خدمت کرنے والوں کو اپنی جیب سے پیسے دینے پڑیں گے تو پھر کوئی سیاست کا نام نہیں لے گا پھر کوئی عوام کی خدمت کا وعدہ نہیں کرے گا۔ جب بھی ملک میں جمہوریت ہوتی ہے عوام بے حال ہوجا تے ہیں۔ دراصل نئی نسل کی کوئی تربیت نہیں کی گئی نہ ہماری نوجوان نسل نے تربیت لینے کی کوشش کی کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ میری تجویز ہے جلسوں پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ یہ پرانی بات ہے اس وقت جب ٹی وی اور سوشل میڈیا نہیں تھا اب جب کہ گھر گھر ٹی وی ہے تو پھر جلسے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ روپیہ اور وقت برباد کیا جا رہا ہے۔ جس نے خدمت کرنی ہے یا اپنی آواز عوام تک پہنچانی ہے وہ الیکٹرانک میڈیا پر آ کر پیغام یا منشور دے۔
ہمارے بڑے بزرگ کہا کرتے تھے اگر کسی کا خدمت کرنے کا مقصد ہے تو اس کو چیئرمین بننے کی ضرورت نہیں اس کو خدمت کرنے سے کون روک رہا ہے۔ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے ترقی دیکھنی ہے تو چھوٹے شہر جا کر دیکھو کسی گائوں جا کر دیکھو ۔ہم نے کیا ترقی کی جو پہلے ترقی تھی وہ بھی نقصان میں جا رہا ہے پاکستان سٹیل ملز 1980 میں ایشیا کی بہترین ملز تھی جو برباد ہو گئی۔ پی آئی اے دنیا میں ایک نام تھا چاہے جہاز ہم نہیں بناتے خریدتے تھے مگر ایک نام تھا آج وہ نقصان میں ہے۔ خرچے پورے کرنے کے لئے آئے دن عوام پر پٹرول بم گرایا جا رہا ہے کیا کسی کھرب پتی نے کہا کہ فکر نہ کرو میں اتنے ارب دیتا ہوں آج سے میں مقروض ملک سے مراعات نہیں لوں گا۔ میں اپنے ملک کے لئے خون دوں گا۔
ملک حاصل کرنے میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کو قربان کیا ۔ملک حاصل کرنے کے بعد ہم سب کچھ بھول گئے ہم نے اللہ تعالی کے شکر گزار ہونے کی بجائے لوٹ مار شروع کر دی ہم نے ستر سال میں کیا ترقی کی ہے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ عوام تنگ آ گئی ہے ہنگاموں سے ایک دوسرے پر الزام تراشی سے ۔ ایک زمانہ میں نہ اخبارات تھے نہ ریڈیو نہ ٹی وی نہ سوشل میڈیا تھا۔ اب یہ سہولت ہے جس نے بھی عوام کی خدمت کرنی ہے وہ ٹی وی پہ آئے ۔ اگر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرکے چیئرمین بننے سے عوام کیا فائدہ ہو گا۔ ٹیکس دینے والوں کو نہ مفت علاج آسانی سے میسر ہے نہ پانی نہ تعلیم اگر یہ بنیادی ضرورت نہیں ملتی تو ہم نے کیا ترقی کی ہے۔ اللہ نے ہمیں آزاد ملک دیا ہے۔ کیا ہمارے بچے بڑے ہو کر، ہم سے سوال نہیں کریں گے کہ ہمیں کون مقروض کر گیا ہمارا کیا قصور ہے۔ اور یہ قرضے کیسے اتاریںجائیں گے ۔ جب بڑے بڑے عہدے دار یہ کہیں کہ ہمارے ساتھ بے انصافی ہو رہی ہے تو عام آدمی غریب کا کیا حال ہو گا۔ اتنی سخت مزدوری کرنے والے کو جو تیس دن خون پسینہ ایک کرے اس کو پندرہ ہزار ملے اس سے نہ بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے نہ گھر کا خرچ نہ اس کے پاس دو مرلے کا گھر بے انصافی تو ہم اس کے ساتھ کر رہے ہیں نہ روٹی، نہ صحت، نہ تعلیم تو بے انصافی تو ان کے ساتھ ہو رہی ہے۔ ان مظلوموں کے ساتھ بے انصافی ہم کر رہے ہیں نہ ان کو صاف پانی نہ خالص ہوا ۔ عوام کو دو وقت کی روٹی اور اس کے خاندان کو تحفظ چاہئے اور ایسا پاکستان جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور اس کو بابائے قوم نے عملی شکل دی ۔۔۔۔ایسا صرف خدمت کے سچے جذبے سے ہی ممکن ہے ۔۔